اسرائیل پر انسانی ڈھال کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ شمالی غزہ میں کارروائیوں کے دوران فلسطینی شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اسرائیل میں حقوقِ انسانی کے لیئے کام کرنے والے ایک گروہ ’بیت سیلم‘ نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نےگزشتہ ہفتے بیت الحنون نامی قصبے میں داخل ہوتے وقت دو بچوں سمیت چھ فلسطینی شہریوں کو اس غیر قانونی حکمتِ عملی کے لیئے استعمال کیا تھا۔ ہاضم علی کے گھر میں بنائے گئے سوراخ کے سامنے ملبے کا ڈھیر لگا ہے۔ بیت الحنون میں اسرائیلی فوجیوں کی آمد کو ایک ہفتہ ہو چکا ہے لیکن فلیٹ میں ان کی موجودگی کے آثار ابھی معدوم نہیں ہوئے۔ فلیٹ میں گھریلو زندگی کے آثار کو اب بھی محسوس کیا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ ہی کنکریٹ کی چھت اور دیواروں سے ملبہ بھی جھڑ رہا ہے، ایک طرف ایک ٹوٹا ہوا بستر ہے اور اس پر شہتیر کے ٹکڑے لٹک رہے ہیں۔ ایک انتہائی دیدہ زیب الماری اب تک عقبی دیوار سے ٹکی ہوئی ہے۔ ابھی دن نکلا ہی تھا کہ اسرائیلی فوجی بلڈوزر قصبے میں داخل ہوئے۔ اس وقت ہاضم جو ایک مقامی فلسطینی خبررساں ادارے سے بطور ایک انجینئر وابستہ ہے گھر میں سو رہا تھا۔ فلیٹ میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے اسرائیلی فوجیوں کا ہاضم کی والدہ سے ہوا۔ ان کے بعد آوازیں سن کر ہاضم اور ان کے دو بھائی بھی یکے بعد دیگرے ان کے سامنے آئے۔
تینوں بھائیوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئیں اور ہاتھوں کو پشت پر لے جا کر ان میں پلاسٹک کی ہتھکڑیاں پہنا دی گئیں۔ ہاضم نے مجھے اپنی کلائیاں دکھائیں ہتھکڑیوں سے آنے والے گھاؤ اگرچہ اب بھرنے لگے ہیں لیکن ان کی موجودگی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مجھے تیسرے فلور پر واقع فلیٹ کے داخلی راستے اور نیچے جاتی سیڑھیوں کے سامنے پڑتی دیوار کے پیچھے وہ جگہ دکھائی جہاں اسرائیلی فوجیوں نے انہیں بٹھایا۔ ہاضم کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے ہمیں اس جگہ اس لیئے بٹھایا کہ سیڑھیوں سے کوئی اندر نہ آ سکے اور اگر کوئی آئے تو اس کا نشانہ ہم بنیں، کیونکہ سیڑھیوں پر نیچے کوئی فوجی نہیں تھا اور وہ خود فلیٹ کے اندر تھے‘۔ فوجیوں نے فلیٹ کے اندر خوابگاہوں اور ڈرائنگ روم یا نشستی کمرے کی ان دیواروں میں جن سے نیچے گولیوں برسائی جا سکتی تھیں سوراخ بنائے اور وہاں سے شدت پسند فلسطینیوں کے ساتھ گولیوں کا تبادلہ کرتے رہے۔ ہاضم اور ان کے بھائیوں نے بہت دیر تک گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں لیکن کچھ دیکھا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے انہیں کوئی بارہ گھنٹے تک محبوس رکھا۔ یہ اندازہ بھی انہیں اس لیے ہے کہ انہوں نے اس دوران تین اذانیں سنیں اور جب اسرائیلی فوجی گئے تو اس کے بعد عشاء کی اذان ہوئی جس سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے ہونے والی اذانیں ظہر، عصر اور مغرب کی تھیں، جس کا مطلب ہے کم و بیش بارہ گھنٹے۔
ان کا کہنا ہے کہ گولیوں کی آوازوں کے دوران انہیں ہر دم یہ محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی بھی لمحے مارے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب تک یہ بات سمجھ نہیں سکے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانتے بوجھتے ہوئے کہ وہ سویلین ہیں انہیں گھرکے اندر کسی کمرے میں کیوں نہیں رکھا؟ اگر وہ ہمیں اندر ہی کہیں بٹھاتے تو ہم خود کو قدرے محفوظ محسوس کرتے لیکن انہوں نے تو ہمیں بیچ میں بٹھا دیا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیلی فوجیوں پر انسانی ڈھال استعمال کرنے کے الزامات لگے ہوں۔ چار سال قبل غرب اردن کے شہر جنین پر حملے کے دوران بھی یہی حربہ استعمال کیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوجی حکام اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ یہ معاملہ کسی منظم حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے کیونکہ اس کے لیئے کبھی کوئی باقاعدہ حکم جاری نہیں کیا گیا۔ لیکن اسرائیلی ہائی کورٹ نے اس طریقۂ کار پر عمل کی کڑی ممانعت کی تھی۔ لیکن ’بیت سیلم‘ کے ڈائریکٹر ریسرچ یکخزل لین کا کہنا ہے کہ بیت الحنون میں رونما ہونے والے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالتی حکم کو نذر انداز کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’انسانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف دیئے جانے والے حکم کی یہ انتہائی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس واقعہ میں تو بالکل واضح ہے کہ فوجیوں نے شہریوں کے پیچھے چھپ کر کارروائی کی اور انہیں طاقت کے بل بوتے پر اس وقت انہی کے گھر میں رہنے پر مجبور کیا جب ان کے لیئے اس گھر میں رہنا خطرناک ہو‘۔ ’بیت سیلم‘ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ ماہ کے دوران رونما ہونے والے اس طرح کے مزید واقعات کے شواہد جمع کر رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||