غزہ: لوگ جنگ سے خوفزدہ ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ کے شمالی حصے میں ’بیت الہیا‘ کا علاقہ اس کے باقی حصوں کی طرح غریب، گرد سے اٹا ہوا اور پرہجوم آبادی پر مشتمل ہے۔ اب اس علاقے میں ایک نئی جنگ کی تیاری ہو رہی ہے۔ گلیوں میں مٹی کے ڈھیر لگے ہیں جس کے اوپر سے گزرنے میں گاڑیوں اور گدھا گاڑیوں کو مشکل پیش آتی ہے۔ بیت الہیا میں ایک دکان دار رفاعت الکلیم نے بتایا کہ اسے مسلسل اپنے چھوٹے بچوں اور بیوی کی فکر رہتی ہے اور اسی وجہ سے وہ غزہ کے مرکزی حصے میں واقع اپنے باپ کے گھر منتقل ہونے کی سوچ رہا ہے۔ غزہ میں رہنے والوں کی آنکھوں میں تفکر اور قدرے غیر یقینی کی کیفیت نظر آتی ہے اور انہیں راتوں کو نیند نہیں آتی۔ جب اسرائیل کے بمبار طیارے اس چھوٹی سی زمینی پٹی کے اوپر سےگزرتے ہیں تو یہاں رہنے والوں کے ذہن جیسے ماؤف ہو جاتے ہیں۔ ان جنگی جہازوں سے ڈرنے کی بات تو نہیں مگر ان کی آوازیں کسی دھماکے کی طرح سے معلوم ہوتی ہیں۔ اسرائیل کا یہ عمل فلسطینی رہنماؤں کو دباؤ میں رکھنے کی مہم کا حصہ ہے جو اپنے مغوی سپاہی کی واپسی اور فلسطینی مزاحمت کاروں سے اسرائیلی علاقوں پر حملے نہ کرنے کا وعدہ چاہتا ہے لیکن غزہ کو تو جیسے وہ کوئی بڑی سزا دینے کا خواہش مند ہے۔ اسرائیل کےگن شپ ہیلی کاپٹروں نے غزہ کے بجلی گھر پر منگل کی شب میزائل برسائے تھے اور یہاں رہنے والے د کان داروں کا کہنا ہے کہ بجلی کی آنکھ مچولی کی وجہ سے وہ موم بتیاں اور بیٹریاں فروخت کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو آمدورفت کے لیئے مکمل طور پر بند کردیا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء، پانی کی بوتلیں یا ایندھن بھی اندر لے جانے کی اجازت نہیں اور بجلی کا تعطل بھی جاری ہے۔ اسرائیل ایسے اقدامات پہلے بھی اٹھاتا رہا ہے اور غزہ میں پہلے سے ہی قحط کا سماں ہے گو کہ اس کی وجوہات کچھ اور ہیں۔ مارچ میں حماس کی حکومت بننے کے بعد فلسطین کو امداد دینے والے مغربی ممالک نے امداد روک دی تھی اور اس وقت صورت حال انتہائی بد تر شکل اختیار کر گئی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اپنے سپاہی کی واپسی کے لیئے وہ بڑے پیمانے پر اور سخت گیر کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ اب تک کسی قسم کے خونی معرکے کا آغاز تو نہیں ہواہے تاہم فلسطینی مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ گلیوں میں دو بدو لڑائی کے لیے تیار ہیں۔ غزہ میں رہنے والے خاندان اس ممکنہ جنگ سے پریشان ہیں۔ اتوار کو فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے اسرائیلی فوج پر حملے کی بہت سے لوگوں نے حمایت کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت کاروں کو اسرائیلی فوجی کو اغواء نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ ان کے اس عمل کی وجہ سے غزہ پھر مشکلات کا شکار ہوگیا ہے۔ | اسی بارے میں غزہ پولیس کا پرتشدد مظاہرہ15 April, 2006 | آس پاس غزہ: دو ہفتوں میں دوہزاراسرائیلی گولے17 April, 2006 | آس پاس غزہ: اسرائیلی حملے، 7 فلسطینی ہلاک30 May, 2006 | آس پاس غزہ میں بچوں کی ہلاکت پر رد عمل10 June, 2006 | آس پاس غزہ: اسرائیلی حملہ، دو ہلاک11 June, 2006 | آس پاس غزہ: میزائل حملے میں ’ایک ہلاک‘17 June, 2006 | آس پاس غزہ حملہ: دو بچے، ایک لڑکی ہلاک21 June, 2006 | آس پاس غزہ والوں کے ُبرے دن23 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||