غزہ والوں کے ُبرے دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رمی طہٰ سے زیادہ فلسطینیوں کی مالی مشکلات کو کون جان سکتا ہے۔ غزہ شہر کے سنار ہونے کے ناتے اٹھائیس سالہ طہٰ نے سینکڑوں فلسطینیوں کو دو وقت کی روٹی کی خاطر اپنے زیورات اور جواہرات فروخت کرتے دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تین دن قبل ایک عورت ان کی دکان میں داخل ہوئی اور اپنی جیب سے ایک بُندہ نکالا۔ اس کا کہنا تھا کہ’میں اپنے بچے کے لیئے دودھ خریدنے کی خاطر یہ زیور بیچنا چاہتی ہوں۔ میں اسےاس بُندے کے دس شیکل(دو ڈالر) دے سکتا تھا اور یہ بہت افسوسناک بات تھی۔ میں اس کے چہرے پر موجود درد محسوس کر سکتا تھا‘۔
غزہ اور مغربی کنارے کے علاقے میں حماس کی حکومت فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے گزشتہ چار ماہ سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار سرکاری ملازمین کی تنخواہ ادا نہیں کر پائی اور اس ہفتے بھی بالاخر صرف نوے ہزار ملازمین کو ایک ماہ کی تنخواہ دی گئی ہے۔ عالمی بنک کے ایک جائزے کے مطابق تیس فیصد فلسطینیوں کی زندگی کی گاڑی انہیں ملنے والی تنخواہوں کے بل بوتے پر چلتی ہے۔ گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ نے مالی بحران سے نمٹنے کی خاطر سنہ 2006 میں امدادی ممالک سے تین سو چوراسی ملین ڈالر دینے کی اپیل کی۔ جبکہ یورپی یونین بھی فلسطینیوں کو اڑسٹھ ملین پاؤنڈ کی امداد دینے کا اراردہ رکھتی ہے۔ رمی طٰہ کا کہنا ہے کہ دن بدن لوگوں کی مالی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ انہوں نے چالیس ہزار ڈالر مالیت کا سونا خریدا تھا لیکن شاید اس ماہ وہ سونے کی خریداری پر بمشکل بیس ہزار ڈالر ہی خرچ کر پائیں۔ انہوں نے کہا کہ’ لوگوں کے پاس اب فروخت کرنے کو سونا بھی نہیں ہے‘۔
عورتیں اس صرافہ بازار میں سونے کی قیمت پوچھنے آتی جاتی رہتی ہیں۔ ام عبداللہ نامی ایک فلسطینی خاتون کا کہنا تھا کہ’میں اپنا زیور اپنی بیٹی کی شادی کے لیئے بیچ رہی ہوں جو کہ صرف دس دن بعد ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میرے شوہر ٹرانسپورٹ ٹرک چلاتے ہیں لیکن اب لوگوں کے پاس پیسہ ہی نہیں کہ وہ ان کی خدمات حاصل کر سکیں‘۔ طٰہ کو تین سو پچاس شیکل (80 ڈالر) کے عوض ایک ہار فروخت کرنے کے بعد ام عبداللہ نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ چند ماہ میں حالات بہتر ہو جائیں گے اور میں اپنا زیور واپس خرید سکوں گی لیکن اس وقت میرا مقصد اپنی بیٹی کی خوشی اور اس کی شادی ہے‘۔ اگرچہ اب بھی غزہ میں قحط کا سا سماں نہیں لیکن فلسطینی بمشکل گزارہ ہی کر رہے ہیں۔ رمی طٰہ کی دکان کے باہر کنگھے بیچنے والے اٹھاون سالہ علی حماد کا کہنا تھا کہ’پہلے میں روز گوشت کھاتا تھا اور اب ایک ہفتے میں صرف ایک مرتبہ‘۔ اپنے اثاثے فروخت کرنے کے لیئے آتے جاتے افراد کو دیکھ کر علی نے کہا کہ ’ہم برے دنوں کی خاطر ہی اچھے دنوں میں کماتے ہیں‘ اور شاید آج کل فلسطینیوں کے دن برے ہی ہیں۔ | اسی بارے میں فلسطینیوں کی امداد منظور 18 June, 2006 | آس پاس ’فلسطینیوں کے لیئے امداد عنقریب‘ 17 June, 2006 | آس پاس فلسطینی ملازمین نے ہلہ بول دیا14 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||