غزہ کے تجارتی رستے بھی بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی غزہ میں میں تازہ سرخ اور سبز مرچوں سے بھرے ایک ٹریکٹر ٹرالر نے تمام مرچیں ایک بڑے گڑھے میں پھینک دیں جس کے بعد بکریوں کے ایک ریوڑ نے سبزیوں کے اس ڈھیر میں چرنا شروع کردیا۔ فلسطین کے اس غریب علاقے میں مرچوں کی کاشت پیسہ کمانے کا اہم ذریعہ ہے۔ اور اب دھوپ میں چمکتی یہ تازہ مرچیں جو پہلے یورپ کی سپر مارکیٹوں میں بھاری دام پر ہاتھوں ہاتھ بک جایا کرتی تھیں، بکریوں کی خوراک بن رہی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے تجارتی رستے بند کردیئے ہیں۔ مرچوں کے کاروبار سے منسلک باصل جابر کا کہنا ہے کہ اس دفعہ فصل بھی اچھی ہوئی ہے اور یہاں کی مرچیں پسند بھی کی جاتی ہیں لیکن اب اس رستے کے بند ہونے کے بعد ہم اس کا کیا کریں؟ ’ہمیں روزانہ ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر کا خسارہ ہورہا ہے‘۔ غزہ آنے اور جانے والی ہر چیز اسرائیل کے ساتھ سرحد پر واقع بڑے کارگو ٹرمینل کارنی سے گزرتی ہے تاہم پچھلے تین ماہ سے اسے بند کردیا گیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث ایسا کیا گیا ہے۔ فلسطین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے مطابق کارنی کو کھولا جائے۔ یہ تنازعہ کافی عرصے سے جاری ہے اور غزہ کی گرتی ہوئی معیشت کے لیئے مزید نقصان کا باعث بھی۔ سب سے زیادہ نقصان سبزیوں کی برآمد کو پہنچا ہے۔ یہ سبزیاں ان گرین ہاؤسز میں کاشت کی جاتی ہیں جو یہودی آباد کاروں کے انخلا کے بعد فلسطینیوں کے حصے میں آئے ہیں اور جو اس غریب علاقے کی قسمت بدل سکتے ہیں لیکن تجارتی رستوں کی بندش ایسا نہیں ہونے دے رہی۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر غزہ کو تباہ حالی کی طرف لے جانا چاہتا ہے اور تجارتی رستے بند کرنے کا اقدام سکیورٹی کے لیئے نہیں بلکہ اس کی سیاسی وجوہات ہیں۔ باصل جابر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیئے کہ وہ اسرائیل پر تجارتی گزرگاہ کھولنے کے لیئے زور ڈالے۔ ’غزہ کی فصل کو باہر جانے دیا جائے، فلسطینیوں کو زندہ رہنے دیا جائے‘۔ | اسی بارے میں ’مشرق وسطٰی امن منصوبہ فرسودہ ہے‘09 March, 2006 | آس پاس اسرائیلی منصوبہ اعلان جنگ: حماس10 March, 2006 | آس پاس سادات اسرائیلی تحویل میں14 March, 2006 | آس پاس جریکو میں اسرائیلی کارروائی 15 March, 2006 | آس پاس یہ جرم ناقابل معافی ہے:عباس15 March, 2006 | آس پاس حماس کی حکومت میں نہیں: فتح18 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||