BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرق وسطٰی امن منصوبہ فرسودہ ہے‘
اگست 2005 میں یہودی آباد کاروں کا انخلاء
اگست 2005 میں تقریباً آٹھ ہزار یہودی آباد کاروں کا انخلاء عمل میں آیا
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندے نے کہا ہے کہ مشرق وسطٰی کے لیئے امریکہ کا حمایت یافتہ امن منصوبہ فرسودہ ہو چکا ہے اور اسے از سر نو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں پیش کی گئی رپورٹ میں جان ڈگرڈ نے کہا ہے کہ ’موجودہ سیاسی حقائق کے پیش نظر نئے معاہدے کی ضرورت ہے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال غزہ کی بستیوں سے اسرائیلی انخلاء کے باوجود غزہ پر اسرائیلی قبضہ موجود ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں اسرائیل کی ان کوششوں کو نظر انداز کیا گیا ہے جن کے تحت اس نے انسانی حقوق کا خیال رکھتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کی کوششیں کی ہیں۔

اس رپورٹ پر اقوام متحدہ کا کمیشن آئندہ ہفتے جنیوا میں بحث کرے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل کو اپنی انسانی حقوق کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیئے بہت کچھ کرنا ہو گا‘۔

جان ڈگرڈ کا کہنا ہے کہ ’بارڈر کی سخت پابندیاں، سونک بموں کے حملے اور شدت پسندوں کی ہلاکتیں غزہ کے لوگوں کو اس بات کا احساس دلاتی رہتی ہیں کہ وہ کسی کے قبضے میں ہیں‘۔

حالیہ رپورٹ میں گزشتہ رپورٹ کے اس الزام کو بھی دہرایا گیا ہے کہ مغربی کنارے کی رکاوٹیں صرف خود کش بم دھماکوں سے بچنے کے لیئے نہیں ہیں بلکہ اسرائیل کا 1976 کی حد سے زیادہ زمین پر قبضہ کرنے کا حربہ بھی ہیں۔

جان ڈگرڈ نے کہا ہے کہ اب تک پندرہ ہزار لوگوں کو ان رکاوٹوں کے باعث علاقہ چھوڑنا پڑا ہے اور اس طرح ’مہاجروں کی ایک نئی قسم پیدا ہو رہی ہے‘۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ایک اور ادارے نے بدھ کو شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل نے پچھلے سال موسم گرما سے اب تک رکاوٹوں میں پچیس فیصد اضافہ کیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات اس کے شہروں کو فلسطینیوں کے حملوں سے بچانے کے لیئے ضروری ہیں۔

عالمی بینک نے اسرائیل کے ان اقدامات کو فلسطین کی معاشی مشکلات کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا ہے اور فلسطینیوں کو شکایت ہے کہ یہ رکاوٹیں ایک بے جا اجتماعی سزا کے مترادف ہیں۔

انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے کے طور پر جان ڈگرڈ اسرائیل کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اسرائیل کا اعتراض یہ ہے کہ وہ یہودی ریاست اور اس کی پالیسیوں کے خلاف لکھتے ہیں۔

جنیوا میں اسرائیل کے سفیر نے کہا ہے کہ ’اس رپورٹ میں حقائق اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا گیا ہے‘۔ اقوام متحدہ کے نمائندے کی حالیہ رپورٹ دسمبر میں ان کے خطے کے ایک ہفتے کے دورے پر مبنی ہے۔

حماسحماس کیا ہے؟
فلسطینی انتخابات میں کامیاب حماس کیا ہے
خالد میشاللڑائی کی تیاریاں
ہم سیاسی جمود کا شکار ہو گئے ہیں
فلسطینی دلہنیںفلسطینی’محبت نامہ‘
حماس کے تحت نابلوس میں اجتماعی شادیاں
اسی بارے میں
غزہ: دو بچوں سمیت 5 ہلاک
07 March, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد