’مشرق وسطٰی امن منصوبہ فرسودہ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندے نے کہا ہے کہ مشرق وسطٰی کے لیئے امریکہ کا حمایت یافتہ امن منصوبہ فرسودہ ہو چکا ہے اور اسے از سر نو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں پیش کی گئی رپورٹ میں جان ڈگرڈ نے کہا ہے کہ ’موجودہ سیاسی حقائق کے پیش نظر نئے معاہدے کی ضرورت ہے‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال غزہ کی بستیوں سے اسرائیلی انخلاء کے باوجود غزہ پر اسرائیلی قبضہ موجود ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں اسرائیل کی ان کوششوں کو نظر انداز کیا گیا ہے جن کے تحت اس نے انسانی حقوق کا خیال رکھتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کی کوششیں کی ہیں۔ اس رپورٹ پر اقوام متحدہ کا کمیشن آئندہ ہفتے جنیوا میں بحث کرے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل کو اپنی انسانی حقوق کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیئے بہت کچھ کرنا ہو گا‘۔ جان ڈگرڈ کا کہنا ہے کہ ’بارڈر کی سخت پابندیاں، سونک بموں کے حملے اور شدت پسندوں کی ہلاکتیں غزہ کے لوگوں کو اس بات کا احساس دلاتی رہتی ہیں کہ وہ کسی کے قبضے میں ہیں‘۔ حالیہ رپورٹ میں گزشتہ رپورٹ کے اس الزام کو بھی دہرایا گیا ہے کہ مغربی کنارے کی رکاوٹیں صرف خود کش بم دھماکوں سے بچنے کے لیئے نہیں ہیں بلکہ اسرائیل کا 1976 کی حد سے زیادہ زمین پر قبضہ کرنے کا حربہ بھی ہیں۔ جان ڈگرڈ نے کہا ہے کہ اب تک پندرہ ہزار لوگوں کو ان رکاوٹوں کے باعث علاقہ چھوڑنا پڑا ہے اور اس طرح ’مہاجروں کی ایک نئی قسم پیدا ہو رہی ہے‘۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ایک اور ادارے نے بدھ کو شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل نے پچھلے سال موسم گرما سے اب تک رکاوٹوں میں پچیس فیصد اضافہ کیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات اس کے شہروں کو فلسطینیوں کے حملوں سے بچانے کے لیئے ضروری ہیں۔ عالمی بینک نے اسرائیل کے ان اقدامات کو فلسطین کی معاشی مشکلات کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا ہے اور فلسطینیوں کو شکایت ہے کہ یہ رکاوٹیں ایک بے جا اجتماعی سزا کے مترادف ہیں۔ انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے کے طور پر جان ڈگرڈ اسرائیل کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اسرائیل کا اعتراض یہ ہے کہ وہ یہودی ریاست اور اس کی پالیسیوں کے خلاف لکھتے ہیں۔ جنیوا میں اسرائیل کے سفیر نے کہا ہے کہ ’اس رپورٹ میں حقائق اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا گیا ہے‘۔ اقوام متحدہ کے نمائندے کی حالیہ رپورٹ دسمبر میں ان کے خطے کے ایک ہفتے کے دورے پر مبنی ہے۔ |
اسی بارے میں غزہ: دو بچوں سمیت 5 ہلاک07 March, 2006 | آس پاس سرحد کیلیے یکطرفہ انخلاء: اسرائیل05 March, 2006 | آس پاس غربِ اردن میں چھ فلسطینی ہلاک23 February, 2006 | آس پاس اسماعیل ہنیہ کے انٹرویو کی ویڈیو20 February, 2006 | آس پاس ’فلسطینی مالی بحران کا شکار‘19 February, 2006 | آس پاس ’حماس سے کیا سلوک کیا جائے‘17 February, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||