حماس کیا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین میں پارلیمان کے انتخابات میں شدت پسند تنظیم حماس کو بڑی ڈرامائی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس طرح سےاس کاایک سیاسی قوت کے طور پر فلسطین کے سیاسی نقشے پر ابھرنا بھی کسی تنازعے سے کم نہیں ہے۔ امریکہ، یورپی یونین اور اسرائیل نےحماس پر ایک دہشت گرد تنظیم کا لیبل لگا رکھا ہے مگر اس کے حمایتی انتخابات میں حماس کی برتری سے شاید اسے اپنی آزادی کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ حماس فلسطین کی سب سے بڑی اسلامی مزاحمتی تحریک ہے۔ اس کی بنیاد غزہ اور غرب اردن میں اسرائیلی قبضے کے خلاف انیس سو ستاسی میں رکھی گئی۔ گروہ کا سب سے اہم مقصد اسرائیلی فوج کو فلسطین کی سرزمین سے باہر کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ حماس کاکہنا ہے کہ گزشتہ سال غزہ سےاسرائیلی آبادکاروں اور فوجی دستوں کا انخلاء اس کی پالیسی کی فتح ہے۔
اس کے طویل المدتی مقاصد میں فلسطین کا ایک اسلامی ریاست کے طور پر قیام ہے۔ فلسطین کے سابق صدر یاسر عرفات کے انتقال کے بعد حماس نے مقامی سطح پر ہونے والے انتخابات میں حصہ لیا اور غزہ، قلقیلیا اور نابلس کے علاقوں میں متعدد نشستوں پر کامیابی حاصل کی لیکن اس کی سب سے بڑی فتح حالیہ انتخابات میں واضح کامیابی ہے جس کے مطابق ایسا لگتا ہےکہ وہ نئی حکومت بنانے میں کامیابی حاصل کر لے گی۔ فلسطین کی اس پرانی تنظیم کے سیاسی اور شدت پسند ونگ موجود ہیں۔ تنظیم کے کئی نامعلوم سرگرم کارکن تو ہیں ہی اس کے علاوہ ہزاروں حمایتی اور ہمدرد ہیں۔ دسمبر دو ہزار دو میں غزہ شہر میں حماس کے قیام کی پندریویں سالگرہ کے موقع پر ہونی والی ایک ریلی میں چالیس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی تھی۔ اس ریلی سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے مرحوم رہنما شیخ احمد یاسین نے 2025 تک اسرائیل کے صفحہ ہستی سے ختم ہوجانے کی پیشن گوئی کی تھی۔ دو ہزار چار میں احمد یاسین اور ان کے بعد ان کے جانشین عبدالعزیز رنتسی کے قتل کے بعد ہزاروں افراد ان کے قتل پر احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ حماس انتظامی طور پر دو بنیادی گروہوں میں منقسم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حماس کی ایک شاخ اردن میں بھی ہے جہاں اس کے ایک رہنما خالد میشال کو اسرائیل نے متعدد مرتبہ قتل کرنےکی کوشش کی۔ شاہ حسین نے تو کسی نہ کسی طرح حماس کو برداشت کیے رکھا البتہ ان کے جانشین کنگ عبداللہ دوئم نے حماس کا ہیڈ کوارٹر بند کر دیا۔ اس کے بعد تنظیم کے سینئر رہنما قطر جلا وطن کر دیے گئے۔ اس خطے میں امریکی پشت پناہی سے قیام امن کی کوششوں کے سلسلے میں ہونے والے اوسلو معاہدے کی مخالفت میں حماس پیش پیش تھی۔ اس معاہدے میں فلسطین کی جانب سے اسرائیلی ریاست کے تحفظ کی گارنٹی کے بعد اسرائیل کا مقبوضہ علاقوں سے جزوی اور مرحلہ وار انخلاء شامل تھا۔ انیس سو پچیانوے میں حماس نے اپنے ایک بم بنانے والے کارکن یحیی عیش ان خودکش حملوں کے بعد اسرائیل نے امن کے منصوبے پر عمل درآمد روک دیا اور اس کے بعد اسرائیل کےقدامت پسند رہنما بنیامین نیتن یاہو نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ وہ اوسلو معاہدے کے مخالفوں میں سے ایک ہیں۔ حماس نے مہاجرین کے کیمپوں اور گاؤں میں کلینک اور سکول قائم کیے جہاں فلسطینیوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ اس وقت فلسطینی پی این اے کی کرپٹ اور نااہل حکومت سے مایوس ہو چکے تھے اور ان کی اکثریت نے حماس کے خودکش حملوں پر خوشی کا اظہار کیا اور ان خودکش حملوں کو اسرائیل سے انتقام لینے کا سب سے بہتر راستہ جانا۔
فلسطین کے مختلف دھڑوں کو اس بات پر متحد کرنے کی بھی کوشش ماضی میں کی جاتی رہی ہ کہ وہ خوکش حملوں کا سلسلہ بند کر دیں لیکن حماس مستقل بنیادوں پر سیز فائر کرنے سے گریز کرتی رہی ہے اور اس کا جواب وہ یوں دیتی ہے کہ اسرائیل فوج فلسطینی علاقوں میں فلسطینی شہریوں کی موت کی ذمہ دار ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود انتخابات میں حماس کے امیداواروں کا کھڑا ہونا ایک اہم فیصلہ تھا۔ حماس کے اہم افراد کا کہنا ہے کہ ان انتخابات سے ان کی تحریک کی قوت ظاہر ہوئی ہے۔ حماس نے اسرائیلی فوج کے انخلاء کو انتخابی مہم کے دوران بنیادی نکتے کے طور پر استعمال کیا۔ | اسی بارے میں حماس انتخابات لڑےگی12 March, 2005 | آس پاس اسرائیل حملہ: حماس کمانڈرہلا ک17 July, 2005 | آس پاس ’حماس نے فائربندی توڑ دی‘20 July, 2005 | آس پاس حماس، ویڈیو پیغام جاری27 August, 2005 | آس پاس حماس کا حملے روکنے کا اعلان 25 September, 2005 | آس پاس جنگ بندی ختم کر دیں گے: حماس09 December, 2005 | آس پاس حماس کی بڑی انتخابی کامیابیاں16 December, 2005 | آس پاس حماس کا نیا ٹی وی چینل 10 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||