BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 September, 2005, 20:52 GMT 01:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حماس کا حملے روکنے کا اعلان
اسرائیلی فوجی
تشدد کا تازہ ترین سلسلہ تلکرم میں اسلامی جہاد کے تین ارکان کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا
فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹوں کے حملے روکنے کا اعلان کیا ہے۔

حماس کہ رہنما محمود الزھار نے کہا کہ ان کی تنظیم سال کے شروع میں کی جانے والی جنگ بندی کی پابند ہے۔

اتوار کو اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون نے کابینہ کے اجلاس میں بغیر رُکے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

ان حملوں میں فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کے ایک رہنما محمد شیخ خلیل بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

حماس کہ رہنما محمود الزھار نے کہا کہ راکٹوں کے حملے روک کر ان کی تنظیم فلسطینیوں کو ’سیہونی جبر‘ سے بچانا چاہتی ہے۔

دریں اثناء اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں غرب اردن سے دو سو سے زائد مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

تشدد میں نئی تیزی غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے دو ہفتوں کے بعد آئی ہے۔

گزشتہ چند دنوں سے تشدد کی روداد کچھ یوں ہے:

جمعہ: اسرائیلی فوج نے غرب اردن کے شہر تلکرم میں اسلامی جہاد کے تین شدت پسندوں کو ہلاک کردیا جن پر اس سال خود کش حملوں میں ملوث ہونے کا شبہہ تھا۔ اسلامی جہاد نے غزہ سے اسرائیل پر ایک راکٹ سے جوابی کارروائی کی۔

جمعہ: غزہ میں حماس کی ریلی میں ہونے والے ایک دھماکے میں پندرہ افراد ہلاک ہوگئے۔ حماس اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے لیکن اسرائیل نے اس میں ملوث ہونے کے الزام سے انکار کیا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ نے حماس پر الزام لگایا ہے کہ ریلی کے دوران اسلحوں سے احتیاط نہیں برتا جارہا۔

جمعہ/ سنیچر: غزہ سے شدت پسندوں نے اسرائیل پر چالیس راکٹ داغے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کارروائی ریلی میں ہونے والے دھماکے کے بدلے میں کیا۔ سنیچر کو اسرائیل نے جواب میں فوجی کارروائی شروع کی جس کے نتیجے میں غزہ میں حماس کے دو کارکن ہلاک ہوگئے۔

سنیچر: شمالی غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوج جمع ہونا شروع ہوئے۔ غزہ اور غرب اردن کی سرحدوں کی ناکہ بندی کر دی گئی۔ سنیچر کی شب اور اتوار کو اسرائیل نے فضائی حملے کیے اور دو سو فلسطینیوں کو غرب اردن سے گرفتار کرلیا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غرب اردن سے گرفتار کیے جانے والوں میں حماس اور اسلامی جہاد کے کارکن ہیں۔ حماس نے کہا کہ اس کے رہنما حسن یوسف گرفتار ہونے والوں میں ہیں۔

اتوار کی صبح اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون نے اپنی کابینہ کے ارکان کو بتایا کہ انہوں نے فلسطینی شدت پسندوں کے خلاف مسلسل فوجی مہم کا حکم جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’میں نے حکم جاری کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے ارکان، دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور ساز و سامان پر حملے کرنے میں کسی قسم کی پابندی نہیں ہوگی۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد