فوجی افسروں کو سزائیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے چھ افسران جنھیں تقریباًدو سال قبل انتہا پسندوں سے قریبی روابط کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا انھیں ایک فوجی عدالت نے مختلف سزائیں سنائی ہیں۔ فوج کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر شاہجہاں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان چھ افسران کو آرمی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر یہ سزائیں دی گئی ہیں۔ پاکستان کے صوبہ سندھ کی چھاؤنی میں زیرِ سماعت رہنے والے اس مقدمے میں تین آرمی افسران کو جن میں دو کرنل اور ایک میجر شامل ہے، دس برس سے چھ ماہ تک قید کی سزا سنائی ہے جبکہ تین فوجی افسران کو فوج کی نوکری سے برخواست کر دیا گیا ہے۔ نوکری سے برخواست کئے جانے والے تین افسران کے نام میجر عطا اللہ ، کیپٹن ڈاکٹر عثمان ظفر اور میجر روحیل فراز بتائے گئے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر افسران کو کوہاٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان افسران کے وکیل اکرام چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان سزاؤں کی تصدیق کی ہےاور کہا ہے کہ یہ سزائیں گذشتہ ماہ سنائی گئی تھیں۔ ان کے خلاف الزامات کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ تاہم ان افسران کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان افسران کو آرمی ایکٹ اور آرمی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر سزائیں سنائی گئی ہیں جبکہ برخواست ہونے والے فوجیوں کو آرمی ایکٹ کی شق سولہ کے تحت برطرف کیا گیا ہے۔ ان افسران میں ایک میجر عادل قدوس بھی شامل ہے جن کے راولپنڈی میں واقع آبائی گھر سے القاعدہ کا مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد مارچ دو ہزار تین میں گرفتار ہوا تھا۔ میجر عادل کو فوجی کورٹ مارشل کے بعد دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان کے علاوہ کرنل عبدالغفار اور کرنل خالد عباسی کو بالترتیب تین سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ فوج کے ترجمان کا کہنا ہےکہ ان افسران کو اپنے دفاع کے لئے وکیل کرنے کی آزادی دی گئی تھی اور اس مقدمے کی سماعت کے بعد فوجی عدالت نے ان کو مختلف الزامات کے تحت مجرم ثابت ہو جانے پر یہ سزائیں دی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||