اسرائیل حملہ: حماس کمانڈرہلا ک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک عینی شاہد کے مطابق اسرائیلی فوج نےغزہ میں فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس کےایک کمانڈر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ یہ واقعہ غزہ کے جنوبی قصبےخان یونس میں پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل فلسطینی مسلح جنگجوؤں کی طرف سےراکٹ حملوں کے بعد ایک زمینی حملہ شروع کرنے کی تیاریاں کررہا ہے۔ اسرائیلی نائب وزیر دفاع زیو بوائم نےایک مقامی ریڈیو کو بتایا کہ غزہ میں ایک بڑا آپریشن شروع کیاجا رہا ہے۔ انہو ں نے بتایا کہ اسرائیل کےفو جی دستے چند گھنٹوں کے اندر غزہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ زمینی مداخلت کا امکان کس حد تک ہے، انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں کیا ہوتا ہے؟ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ ہم راکٹوں کی بارش کو برداشت نہیں کریں گے۔ فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے میزائل حملوں میں تیزی کے بعد اسرائیل نے فلسطینی جنگجوؤں کو نشانہ بنانےکاسلسلہ ایک بار پھر شروع کر دیا ہے۔ جمعہ کو اسرائیل کی فوج کی جانب سےفضائی حملوں کے نتیجے میں پانچ فلسطینی اورحماس کے چار جنگجو ہلاک ہوگئےتھے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق تازہ حملے میں مرنے والا ایک مقامی جنگجو کمانڈر تھا۔ جسے اس کے گھر کے قریب گردن پر گولی مارکر ہلاک کیا گیا۔ فلسطینی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اسے اس علاقے میں کام کر نے والے ایک اسرائیلی نے چھپ کرہلاک کیا۔ اسرائیلی فوج نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کے قصبوں پر بڑے پیمانےپرحملے کے لیے اپنی فوجوں کو اکھٹا کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم ارئیل شیرون نے فلسطینیوں کےحملوں کے جواب میں سخت جواب دینے کاوعدہ کیا ہے۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نےاسرائیل پرفائر بندی توڑنےکاالزام لگایا ہے لیکن اس کےساتھ ہی انہوں نےفلسطینی جنگجوؤں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی فوج پر تازہ حملے برداشت نہیں کریں گے۔ اسرائیل کے ایک ترجمان کے مطابق اتوار کواسرائیل کے جنوبی حصے میں فوجی دستے پرگزا کی پٹی سےفلسطینیوں نےدو راکٹ داغے۔لیکن ان حملوں میں نہ کسی کی ہلاکت ہوئی نہ ہی اور کوئی نقصان ہوا۔ تشدد کےیہ تازہ واقعات ایک اسرائیلی قصبہ پر فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سےمتواترراکٹ حملوں کے بعد شروع ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں ایک عورت ہلاک ہوئی۔چار ماہ کے دوران ہونے والے پہلےخودکش حملہ میں چھ اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس اگلے ہفتے مشرق وسطی کا دورہ کر رہی ہیں۔ اس دورے میں وہ تشدد کے ان بڑھتے ہوئے واقعات کو ختم کرنے کی درخواست کریں گی۔ کونڈا لیزا رائس کا پانچ ماہ کے دوران اسرائیل اور فلسطینی مقبوضات کا یہ تیسرا دورہ ہوگا۔ اس خطے میں رہنے والے آٹھ ہزار پانچ سو یہودیوں اور ان کی حفاظت کر نے والے اسرائیل کےفوجی دستوں کوغزہ کا علاقہ خالی کرناہے۔ اسرائیل غزہ، غرب اردن اور فضا کا کنڑول اپنے پاس رکھےگا۔ اس کے علاوہ چھ سو تیس افراد کو بھی مغربی کنارہ کے چار چھوٹے رہائشی علاقوں سے نکالاجائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||