فلسطین سے’محبت نامہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی تنظیم حماس نے غرب اردن میں دو سو چھبیس جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کا بندوبست کیا ہے۔ غرب اردن میں اجتماعی شادی کی تقریب دیکھنے کے لیے نابلوس کے فٹبال سٹیڈیم میں تقریباً ساٹھ ہزار افراد جمع تھے۔ حاضرین نے حماس کے جھنڈے پکڑے ہوئے تھے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس تقریب کے ذریعے وہ حماس کا ایک نیا رخ دکھانا چاہتے تھے جو اسرائیل میں کئی خود کش حملے کروا چکی ہے۔ اجتماعی شادیوں کی یہ تقریب فلسطینی پارلیمان کے انتخابات سے پہلے حماس کی مقبولیت کا بھی مظاہرہ تھی۔ حماس کے ایک مقامی رہنما یاسر منصور نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ’اس تقریب سے ثابت ہوتا ہے کہ حماس فلسطینی معاشرے کے ہر رخ میں شریک ہے۔ یہ دنیا کے لیے ایک پیغام ہے۔ ہم دہشت گرد نہیں ہیں‘۔
شادی کے لیے لڑکے سیاہ رنگ کے سوٹوں میں ملبوس تھے اور انہوں نے ہاتھوں میں قرآن اٹھائے ہوئے تھے۔ سب کے گلے میں حماس کا سبز رنگ کا سکارف تھا۔ لاؤڈ سپیکر پر ایک مقامی امام نے اسرائیل اور امریکہ کےخِلاف تقریر بھی کی۔ تقریب میں شریک ایک دلہن سندس نے اے پی کو بتایا کہ ’یہ پوری دنیا کے لیے حماس کی طرف سے محبت نامہ ہے‘۔ ’ہماری شادی ہو رہی ہے اور ہمیں محبت ہے اور باقی دنیا کی طرح ہم بھی امن سے رہنا چاہتے ہیں‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||