’حماس سے کیا سلوک کیا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی کابینہ نے اس معاملے پر فیصلہ اتوار تک مؤخر کردیا ہے کہ فلسطینی انتخابات میں برسراقتدار آنے والی شدت پسند تنظیم حماس کے ساتھ اسرائیل کی پالیسی کیا ہونی چاہیے۔ جمعہ کے روز اسرائیلی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس ہوا لیکن اسرائیلی حکام نے بتایا ہے کہ اس بارے میں تجاویز پر کابینہ کے ارکان اتوار کے روز ووٹ دیں گے۔ اسرائیلی وزارت دفاع نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ غربِ اردن کے کراسنگ پوآئنٹس پر حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے جائیں۔ جنوری میں ہونے والے انتخابات میں حماس کی فتح کے بعد اسرائیل یہ کہتا رہا ہے کہ وہ فلسطینی انتظامیہ کو ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں جمع کی جانے والی رقم کی ترسیل روک سکتا ہے۔ واضع رہے کہ کئی مقامات پر فلسطینی انتظامیہ کے لیے ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی وصول کرنے کی ذمہ داری اسرائیل نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔ حماس نے ابھی تک ایسے تمام مطالبے مسترد کر دیئے ہیں جن میں اس سے کہا گیا تھا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تشدد کا راستہ چھوڑنے کا اعلان کرے۔ واضح رہے کہ اسرائیل حماس کو ایک دہشگرد تنظیم کہتا ہے اور اس کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔ | اسی بارے میں حماس کو حکومت بنانے کی دعوت27 January, 2006 | آس پاس بلیک میل نہیں ہوں گے: حماس28 January, 2006 | صفحۂ اول حماس کی فلسطینی فوج کی تجویز29 January, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||