BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 February, 2006, 07:44 GMT 12:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حماس سے کیا سلوک کیا جائے‘
اسرائیل کے قائم مقام وزیر اعظم
اسرائیل حماس کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔
اسرائیلی کابینہ نے اس معاملے پر فیصلہ اتوار تک مؤخر کردیا ہے کہ فلسطینی انتخابات میں برسراقتدار آنے والی شدت پسند تنظیم حماس کے ساتھ اسرائیل کی پالیسی کیا ہونی چاہیے۔

جمعہ کے روز اسرائیلی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس ہوا لیکن اسرائیلی حکام نے بتایا ہے کہ اس بارے میں تجاویز پر کابینہ کے ارکان اتوار کے روز ووٹ دیں گے۔ اسرائیلی وزارت دفاع نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ غربِ اردن کے کراسنگ پوآئنٹس پر حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے جائیں۔

جنوری میں ہونے والے انتخابات میں حماس کی فتح کے بعد اسرائیل یہ کہتا رہا ہے کہ وہ فلسطینی انتظامیہ کو ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں جمع کی جانے والی رقم کی ترسیل روک سکتا ہے۔

واضع رہے کہ کئی مقامات پر فلسطینی انتظامیہ کے لیے ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی وصول کرنے کی ذمہ داری اسرائیل نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔

حماس نے ابھی تک ایسے تمام مطالبے مسترد کر دیئے ہیں جن میں اس سے کہا گیا تھا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تشدد کا راستہ چھوڑنے کا اعلان کرے۔ واضح رہے کہ اسرائیل حماس کو ایک دہشگرد تنظیم کہتا ہے اور اس کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔

اسی بارے میں
بلیک میل نہیں ہوں گے: حماس
28 January, 2006 | صفحۂ اول
حماس کی فلسطینی فوج کی تجویز
29 January, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد