بلیک میل نہیں ہوں گے: حماس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس نے تشدد کا راستہ ترک کرنے کے امریکی مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکہ نے کہا تھا کہ اگر حماس نےایسا نہیں کیا تو فلسطین کو ملنے والی امداد میں کمی کر دی جائے گی۔ خبر رساں اداے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے حماس کے رہنما اسماعیل حانیا نے کہا کہ’امداد کے نام پر فلسطینیوں کے سروں پر تلوار نہیں لٹکائی جا سکتی اور امداد روک دینے کی دھمکی سے حماس اور اس کی مزاحمت کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اسے مسترد کرتے ہیں‘۔ اسماعیل حانیا کا کہنا ہے کہ وہ غیر ملکی ڈونر کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے۔ حانیا نے اس ماہ پارلیمان کے لیے ہونے والے انتخابات میں حماس کے امیدواروں کے قائد کے طور پر کام کیا۔ صدر بش نے خبردار کیا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کو ملنے والی دو سو پچیس ملین پونڈ کی امریکی امداد میں حماس کی حیران کن فتح کے بعد کمی کی جاسکتی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر جارج بُش نے کہا تھا کہ اگر حماس نے اپنا عسکری شعبہ ختم نہ کیا اور اسرائیل کے بارے میں اپنے عزائم نہ ترک کیے تو فلسطینیوں کو ملنے والی امریکی امداد کم ہو سکتی ہے۔
دریں اثناء سابق حکمران فتح پارٹی کے مسلح کارکن فلسطین کی پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس گئے ہیں اور انہوں نےگولیاں برسائیں اس وقت عمارت میں پارلیمنٹ کا کوئی سیشن نہیں چل رہا تھاجبکہ رملہ میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں مظاہرین فتح پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہونے کامطالبہ کر رہے تھے۔ غزہ میں پولیس میں فتح پارٹی کے حامیوں نے حماس کو سکیورٹی کی کسی بھی ممکنہ ذمہ داری کی منتقلی پر بطور احتجاج کچھ دیر کے لیے پارلیمنٹ کی عمارت پر قبضہ کیے رکھا۔ اس سے قبل حماس اور فتح پارٹی کے کارکن میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ فلسطین کے علاقے خان یونس میں حماس اور فتح پارٹی کے کارکنوں کے درمیان ہونے والی فائرنگ سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ حماس نے فلسطینی پارلیمان کی ایک سو بتیس سیٹوں میں سے چھتر سیٹیں حاصل کیں ہیں اور انہیں دوسرے چار آزاد اراکین پارلیمنٹ کی بھی حمایت حاصل ہے۔ امداد میں کمی کے حوالے سے صدر بُش نے ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جب تک حماس ان کے مطالبات پر عمل نہیں کرتا امریکہ اس کے رہنماؤں سے بات چیت نہیں کرے گا اور امدادی پیکج منظور نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کسی ایسی حکومت کو امداد نہیں دے سکتا جو ان کے بقول ان کے ان کے ایک حلیف اور دوست (اسرائیل) کی تباہی کا پرچار کرتی ہو۔ اسرائیل نے بھی اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ نو منتخب اراکین پارلیمان کو آزادانہ غزہ اور غرب اردن کے درمیان نقل وحمل کی اجازت نہیں دے گا۔ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بات کا مطلب یہ ہے کہ حماس کے نو منتخب اراکین پارلیمان رملہ اور غرب اردن میں واقع پارلیمنٹ کی عمارت تک سفر نہیں کر سکیں گے کیونکہ اس کے لیے انہیں اسرائیلی عملداری سے گزرنا پڑے گا۔ فلسطینی انتظامیہ کی معیشت کا دارومدار غیر ملکی امداد پر ہے اور اس کے امداد دینے والے ممالک میں امریکہ، یورپی یونین، جاپان اور عرب ریاستیں ہیں۔ یہ امداد دینےوالے ممالک انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ حماس کو امریکہ اور یورپی یونین ایک دہشت گرد تنظیم کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ |
اسی بارے میں حماس انتخابات لڑےگی12 March, 2005 | آس پاس حماس کا حملے روکنے کا اعلان 25 September, 2005 | آس پاس جنگ بندی ختم کر دیں گے: حماس09 December, 2005 | آس پاس حماس کی بڑی انتخابی کامیابیاں16 December, 2005 | آس پاس حماس کیا ہے؟26 January, 2006 | آس پاس حماس کی بھاری اکثریت سے جیت26 January, 2006 | آس پاس حماس سے مذاکرات نہیں: اسرائیل27 January, 2006 | صفحۂ اول حماس کو حکومت بنانے کی دعوت27 January, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||