BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 July, 2006, 08:36 GMT 13:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دس مرتبہ حملہ روکنے کو کہا گیا‘
اسرائیل کی بمباری کے ساتھ مشرق وسطٰی پر مذاکرات بھی جاری ہیں
اقوامِ متحدہ کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق منگل کو ہلاک ہونے والے مبصرین پر چھ گھنٹے تک بمباری کے بعد گائیڈڈ میزائل سے حملہ کیا گیا اور اس دوران اسرائیلی فوج سے دس مرتبہ حملہ روکنے کے لیئے کہا گیا تھا۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

کوفی عنان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حملے میں اقوام متحدہ کے چار مبصرین کی ہلاکت کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ مبصرین کی ہلاکت کے بارے میں عنان کا کہنا تھا کہ’ہمارے جنرل، فوجی اور وہاں موجود افراد اسرائیلی فوج سے مسلسل رابطے میں تھے اور انہیں خبردار کر رہے تھے کہ احتیاط برتیں کیونکہ وہاں ہمارے لوگ موجود ہیں۔ہمارے لوگوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ایسی درخواستیں بارہا کی گئیں یہاں تک یہ واقعہ ہوگیا‘۔

انہوں نے یہ بات روم میں مشرق وسطٰی کے بحران پر فوری مذاکرات کے لیئے ہونے والے اجلاس میں کہی جس میں تقریباً ایک درجن ممالک کے وزرائے خارجہ اور دیگر اعلٰی اہلکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء فوری جنگ بندی کے مطالبے پر متفق ہونے میں ناکام رہے اور اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ بیان میں علاقے میں جنگ بدی کے لیئے کوششیں کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اردن کا طیارہ بیروت سے 150 زخمی لے کر جائےگا

کوفی عنان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اپنے زمینی آپریشن، بمباری اور ناکہ بندی جبکہ حزب اللہ کو دانستہ طور اسرائیلی آبادی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کر دینا چاہیئے۔

دریں اثناء جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تصادم جاری ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لبنانی قصبے بنت جبیل میں ہونے والی جھڑپوں میں آٹھ اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں جبکہ بائیس زخمی ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقے تک امدادی اشیاء پہنچانے کی کوشش بھی کامیاب رہی ہے۔

اس کے علاوہ طائر میں اس عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس میں حزب اللہ کے ایک سرکردہ اہلکار کا دفتر واقع تھا۔ تاہم حملے کے وقت وہ دفتر میں موجود نہیں تھے۔

روم میں ہونے والا یہ اجلاس امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کی جانب سے طلب کیا گیا تھا اور اس میں یورپ اور عرب ممالک کے علاوہ روس اور امریکہ کو بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم برطانوی اور امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اجلاس سے زیادہ موثر نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہیئے۔ اجلاس میں کوفی عنان نے ایران اور شام کو مشاورتی عمل میں شامل کرنے پر زور دیا جبکہ کونڈالیزارائس کا کہنا تھا کہ لبنان کو اس حالت میں واپس لوٹنے نہیں دیا جا سکتا جہاں وہ اس بحران کے آغاز سے قبل تھا۔

 ہمارے جنرل، فوجی اور وہاں موجود افراد اسرائیلی فوج سے مسلسل رابطے میں تھے اور انہیں خبردار کر رہے تھے کہ احتیاط برتیں کیونکہ وہاں ہمارے لوگ موجود ہیں۔ہمارے لوگوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ایسی درخواستیں بارہا کی گئیں یہاں تک یہ واقعہ ہوگیا
کوفی عنان

روم میں بی بی سی کی سفارتی نامہ نگار بریجٹ کینڈل کے مطابق کئی ممالک کا اصرار ہے کہ موجودہ حالات میں اولین ترجیح جنگ بندی کو دینی چاہیئے۔ اس کے علاوہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک کثیر القومی فوج تعینات کرنے اور لبنان کے جنگ زدہ علاقوں میں امداد پہنچانے پر بھی بات ہوگی۔تاہم امریکہ اور برطانیہ کا یہ اصرار کہ مسئلہ کی جڑ کے خاتمے تک جنگ بندی ممکن نہیں، اس اجلاس کو متفق نہیں بلکہ منقسم کردے گی۔

علاقے میں امن فوج کی تعیناتی میں بھی مسائل درپیش ہیں۔ اسرائیل اور حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی پر رضامندی کی غیر موجودگی میں اس بات کا امکان کم ہے کہ ممالک اپنی فوجیں یہاں بھیجنے پر راضی ہوسکیں گے۔

یاد رہے کہ منگل کو اسرائیلی وزیر دفاع عامر پیریٹز نے کہا تھا کہ اگر کثیر القومی فوج پر فیصلہ نہ ہوا تو اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں ایک ’سکیورٹی زون‘ قائم کرے گی۔

لبنان
کئی ممالک کا اصرار ہے کہ موجودہ حالات میں اولین ترجیح جنگ بندی کو دینی چاہیئے

مشرق وسطی کے حوالے سے اپنے سفارتی مشن کے تیسرے دن امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس منگل کو روم میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان سے ملاقات کر رہی تھیں جب جنوبی لبنان میں اسرائیلی بمباری سے اقوام متحدہ کے چار مبصروں کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی۔

نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر پر بی بی سی کے نامہ نگار ڈینئل یاک کا کہنا ہے کہ مبصروں نے چودہ اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی بیس میں ایک بنکر میں پناہ لی تھی۔ تاہم ان کے بنکر پر ایک اسرائیل جنگی طیارے نے ایک بڑا بم پھینکا جس کے نتیجے میں چاروں مبصر ہلاک ہو گئے۔

اپنے بیان میں کوفی عنان نے کہا کہ بظاہر یہ حملہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا تھا۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ غلطی سے کیا گیا تھا۔

مشرقِ وسطٰی میں دو ہفتے سے جاری ان جھڑپوں اور بمباری میں اب تک چار سو کے قریب لبنانی اور بیالیس اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد