BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 July, 2006, 23:02 GMT 04:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ اسرائیل کو وقت دےگا‘
مظاہرہ
کونڈولیزا رائس جب اسرائیل پہنچیں تو ایک مختصر گروہ نے مظاہرہ بھی کیا
امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس نے اسرائیلی وزیرخارجہ سیپی لیوینی سے ملاقات کی ہے تاہم اس ملاقات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

اس سے پہلے جب وہ لبنانی وزیراعظم فواد سینیورا سے ملاقات کے بعد اسرائیل پہنچیں تو ایک مختصر گروہ نے مظاہرہ بھی کیا۔ مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا کہ ’مس رائس، جنگی جرائم بند کرو‘۔

امریکی وزیرِخارجہ کونڈو لیزا رائس نے اپنے دورۂ مشرقِ وسطٰی کا آغاز بیروت میں لبنانی وزیراعظم سے غیر متوقع ملاقات سے کیا۔ اس کے بعد وہ اسرائیل پہنچیں جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیرخارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔

پریس کانفرنس کے بارے میں یروشلم سے صحافی ہریندرمشرا کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کم وبیش انہیں باتوں کو دہرایا جو وہ اس پہلے کہتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد 1559 پر عمل کرتے ہوئے لبنان کو اسرائیل لبنان سرحد پر فوج تعینات کرنی چاہیئے۔ انہوں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کو اسرائیلی فوجی غیر مشروط طور پر رہا کرنے ہوں گے تاکہ جنگ بندی کے سلسلے میں بات چیت شروع ہو سکے۔

رائس
لبنان کے اچانک دورے کے دوران امریکی وزیرخارجہ نے لبنانی وزیراعظم سے ملاقات کی

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ وہ اس معاملے کا کوئی عبوری حل نہیں بلکہ مستقل حل چاہتی ہیں اسی بات کو اسرائیلی وزیرخارجہ سیپی لیوینی نے بھی دہرایا۔

ہریندر مشرا کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیل تو نہیں بتائی گئی لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو ایک ہفتے کی مہلت اور دینا چاہتا ہے تاکہ وہ حزب اللہ کے خلاف شروع کی جانے والی کارروائی کو تکمیل تک پہنچا سکے۔

اس کے بعد جب مس رائس دوبارہ خطے کے دورے پر آئیں گی تو جنگ بندی یا مستقل جنگ بندی کے لیئے درکار اصل اقدامات کیئے جائیں گے۔

اسرائیل کے اندر لبنان پر حملے کے اثرات کے بارے میں ہریندر مشرا کا کہنا تھا کہ پیر کے روز دو پائلٹوں سمیت چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں اسرائیلی فوجی ذرائع تو کچھ نہیں کہہ رہے لیکن ایک سابق اسرائیلی فوجی اور اسرائیلی فوجی امور کے ماہر نے کہا ہے کہ ’اب مکمل جنگ شروع ہو چکی ہے اور اس میں اب اس طرح کی گنتیاں نہیں کی جا سکتں‘۔

اسرائیلی فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں لبنان پر حملوں میں بڑی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے اور انہوں نے حزب اللہ کے چالیس فیصد تک ٹھکانے تباہ کر دیئے ہیں۔

ادھر اسرائیلی پالیمان کے ارکان کا کہنا ہے کہ حملے کے بارے میں پارلیمان کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے کیونکہ اب تک اس پوری کارروائی کے بارے میں پارلیمنٹ میں بات نہیں کی گئی۔

امریکہ کیا چاہتا ہے؟
شامی،ایرانی طاقت کا خاتمہ، امریکی مقصد
حزب اللہ کی طاقت
کیا راز ہے حزب اللہ کی قوت کا؟
لبنان کی کمزور آرمی
کم فوجی اور بنیادی ساز وسامان سے محروم
فضائی یا زمینی حملے؟
لبنان میں زمینی آپریشن کی ضرورت کیوں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد