BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 July, 2006, 08:19 GMT 13:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لبنان: ایک سو تیس اہداف پر حملہ‘
اسرائیلی حملہ
کچھ علاقوں میں رسائی نہ ہونے کی وجہ سے نقصان کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا
اسرائیل کی طرف سے جمعرات کی رات بھی لبنان پر حملے جاری رہے اور اس کی فوج کے مطابق انہوں نے ایک سو تیس اہداف کو نشانہ بنایا۔

ان اہداف کے بارے میں اسرائیل کو شبہہ تھا کہ یہاں سے حزب اللہ اس پر راکٹ فائر کر رہا تھا۔ ان حملوں میں جانی نقصان کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔


جمعرات کو لبنان کی حکومت میں وزیر صحت نے اندازً بتایا کہ بارہ جولائی سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں چھ سو تک شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اندازہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک تہائی ابھی تک ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ کے راکٹوں سے اس کے تینتیس فوجی اور انیس شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

جمعرات کو حزب اللہ نے اسرائیل پر کم سے کم ستر راکٹ فائر کیئے جن میں ستر افراد زخمی ہوئے۔

دریں اثناء جنوبی لبنان سے سینکڑوں دیہاتیوں کو طائر میں نسبتاًمحفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ لوگ دو ہفتوں سے جاری لڑائی کے دوران اپنے گھروں میں پھنسے رہے جہاں ہر طرف مسلسل بمباری ہو رہی تھی اور خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا۔

اسرائیل میں اس بات پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ دو ہفتوں کی بمباری کے باوجود حزب اللہ کی طرف سے راکٹ فائر کیے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے پی نے لبنانی سیکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے جمعہ کو جنوبی لبنان میں حملے کیئے جس سے ایک چار منزلہ عمارت تباہ ہوگئی لیکن ابتدائی طور پر کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ حکام نے بتایا کہ حملے میں عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔

اے پی کے مطابق حکام نے نام نہ بتائے جانے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے جنوب مشرقی لبنان میں چار حملے کیئے جن سے علاقے میں سڑکیں تباہ ہو گئیں۔

اے پی نے سیکیورٹی حکام کے حوالے بتایا کہ جمعرات کی شام کو لبنان کے علاقے میدون میں پندرہ منٹ میں نو اسرائیلی میزائیل فائر کیے گئے، تاہم رسائی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں جانی یا مالی نقصان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور امریکی وزیر خارجہ
اقوام متحدہ
اس سے قبل اقوام متحدہ نے اسرائیلی بمباری اپنے چار مبصرین کی ہلاکت پر حیرت اور رنج کا اظہار کیا تھا۔ اقوام متحدہ نے ایک پالیسی بیان جاری کیا جس میں ان مبصرین کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ اس بیان کی اہمیت ایک قرار داد سے کم ہے۔

امریکہ کی مخالفت کی وجہ سے پالیسی بیان کا حتمی مسودہ اس سے بہت مختصر تھا جو چین نے تجویز کیا تھا۔ اسرائیل اور اقوام متحدہ کی طرف سے مبصرین کی ہلاکت کے بارے میں مشترکہ تفتیش اور ’اقوام متحدہ کے عملے پر جان بوجھ کر کیئے گئے حملے‘ کی مذمت کو مسودے سے نکال دیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک چینی مبصر بھی شامل تھا۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے اقوام متحدہ کے بیان کو متوازن اور منصفانہ قرار دیا۔ اسرائیل نے منگل کو مبصرین کی ہلاکت کو حادثہ قرار دیا اور اس پر معذرت کر چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیل سے بمباری روکنے کے لیئے ایک درجن بار رابطہ کیا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

چین کے اقوام متحدہ میں سفیر نے بظاہر امریکہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے ارکان کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے موقف کے مستقبل بعید میں منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کے روز سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بحث بھی مشکل ہو گی۔

لبنانی پناہ گزیں
اسرائیل
دریں اثنا یروشلم میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے پندرہ سے چالیس ہزار رِزرو فوجیوں کو طلب کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک لمبی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیلی کابینہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رزرو فوجیوں کی تعیناتی کے لیئے مزید منظوری کی ضرورت ہے۔

شام
شام نے کہا ہے کہ بدھ کو روم میں ہونے والے مذاکرات اس وجہ سے ناکام ہوئے کہ ان میں شام اور ایران کو نہیں بلایا گیا تھا۔ شام میں کابینہ کے ایک رکن نے کہا کہ لبنان میں لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک عرب علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ جاری ہے۔

ٹونی بلیئر
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر صدر جارج بُش سے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بارے میں بات چیت کے لیئے واشنگٹن روانہ ہو رہے ہیں۔ بلیئر کو اِس امریکی موقف کی حمایت کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے کہ لبنان کے مسئلے کی ذمہ داری حزب اللہ اور اس کے حامیوں پر عائد ہوتی ہے۔

اسی بارے میں
لبنان وڈیو بلیٹن
27 July, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد