پال رینالڈز عالمی امور کے نامہ نگار، بی بی سی نیوز |  |
 | | | لبنان اور اسرائیل تنازعے میں سب سے زیادہ متاثر شہری ہوئے ہیں |
حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی پر روم میں ہونے والی کانفرنس کسی واضح حل کے بغیر ہی ختم ہوگئی ہے۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس لڑائی کے اگلے مرحلے کیا ہو سکتے ہیں۔ سفارتی حل ’لبنان اور حزب اللہ کو سلامتی کونسل کی قرار داد 1559 پر عمل کرنا پڑے گا’۔ یہ قرار داد 2004 میں منظور کی گئی تھی۔ اس میں یہ مطالبات کیے گئے تھے کہ لبنان میں موجود تمام مسلح گروہ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور لبنانی حکومت ملک کے تمام حصوں کا انتظام سنبھال لے۔ حزب اللہ کو جنوبی لبنان سے نکلنا ہو گا اور لبنانی فوج اسرائیل کے ساتھ ملحقہ سرحد پر تعینات کی جائے گی۔ امید کی جا رہی تھی کہ اس طرح اسرائیل کے ساتھ پیدا ہونے والا یہ تنازعہ ختم ہو جائے گا۔ قرار داد کے تحت حزب اللہ اور اسرائیل دونوں کو جنگ بندی کو قبول کرنا تھا اور ایک معاہدہ سلامتی کونسل کی نئی قررار داد کے تحت حتمی شکل دی جانی تھی۔ لبنانی فوج کے سرحدوں کا انتظام سنبھالنے تک سرحدی علاقوں میں امن فوج تعینات کرنے کا منصوبہ تھا۔ اس قرار داد کا مستقبل کیا ہے؟ لبنان میں جاری رہنے والی لڑائی کے حسب ذیل امکانات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ ایک اس معاہدے پر دونوں اطراف سے رضامندی اور پھر امن فوج کی تعداد اور مقام تعیناتی کا تعین کوئی آسان کام نہیں ہے۔ تاہم امکان ہے کہ امن فوج اس خطے میں پہلے سے موجود اقوام متحدہ کی فورس ’یونیفل’ کی جگہ لے گی جو اس علاقے میں صورت حال کو مانیٹر کرنے کے لیے 1978 سے تعینات ہے۔ دو ممکن ہے کہ اسرائیل خود سے کچھ وقت کے لیے کوئی ’بفرزون’ قائم کردے لیکن کسی بھی حال میں اہمیت اسی بات کی ہو گی کہ اسرائیل لبنانی علاقے سے نکل جائے۔ تین ممکن ہے حزب اللہ کے قبضے میں دو اسرائیلی فوجیوں کی بازیابی جو اس تنازعے کی اصل وجہ ہیں کے لیئے کوئی الگ سے معاہدہ طے پا جائے۔ اسرائیل ان فوجیوں کی غیر مشروط واپسی کا خواہاں ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ فوجیوں کے بدلے اسرائیل کے قبضے میں ان کے لوگ رہا کیے جائیں۔
 | | | مشرق وسطی میں تیزی سے بگڑتی صورت حال |
چار اس کے علاوہ ہرمن کے پہاڑوں پر شیبا فارمز کا علاقہ جس پر اس وقت اسرائیل کا قبضہ ہے، لبنان چاہتا ہے کہ اسرائیل یہ علاقہ چھوڑ دے لیکن اقوام متحدہ اس بارے میں یہ فیصلہ دے چکا ہےکہ یہ علاقہ شام کی عمل داری میں آتا ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ اسرائیل اور شام مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ اس صورت حال میں اسرائیل حزب اللہ کے کارکنوں کو جنوبی لبنان سے آگے دھکیل دینا چاہتا ہے مگر حزب اللہ اس علاقے سے جانے یا کسی معاہدے پر عمل درآمد کو تیار نہیں۔ لڑائی جاری ہے۔ پانچ ایسی صورت میں اسرائیل جو چاہتا ہے وہ حاصل نہیں کر سکتا۔ صورت حال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیل نے جس جنگ کو شاید آسان جانا تھا اب وہ ایک کڑوے سچ کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ تعطل چھ لبنان گوریلہ جنگ کے لیے ایک انتہائی بہترین جگہ ہے مگر اسرائیل اپنی فوج کو اتنی آسانی سے ان علاقوں میں استعمال نہیں کر سکتا۔ ان تمام نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل جس جنگ میں کود پڑا ہے اس کا اختتام اس کی فتح کی صورت میں نہیں ہوگا۔ سات اگر ایسا نہ ہوا تو جنگ کسی نہ کسی شکل میں کم یا زیادہ چلتی سکتی ہے۔ اسرائیل یہ کوشش کر سکتا ہے کہ حزب اللہ کو جنوبی لبنانی حصے میں پہنچنے والی فوجی کمک کو بمباری سے متاثر یا بالکل ہی ختم کردیا جائے۔ حزب اللہ بھی جوابی کارروائی کے طور پر اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملے کرسکتا ہے۔ آٹھ اس معاملے میں سب سے زیادہ نقصان عام شہری اٹھائیں گے جنہیں جانی اور مالی نقصان سے گزرنا پڑے گا۔ اسرائیل لبنانی سرحد پر خود اپنے قائم کیے گئے ’بفرزون’ کا کنڑول سنبھال سکتا ہے۔ اس طرح اسے اس علاقے میں رہنے کا جواز مل سکتا ہے۔ اسرائیل کی کامیابی کا اعلان نو اسرائیل کامیابی کے حصول کے لیئے اس وقت تک لڑائی جاری رکھے گا جب تک اسے نہیں لگتا کہ وہ کامیاب ہو گیا اور ممکن ہے یا شاید نہیں کہ وہ جنگ بندی کا اعلان کردے لیکن امکان ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے علاقے کا کنٹرول بین الاقوامی امن فوج کے حوالے کر دے گا جو بعد میں لبنانی فوج کو اس علاقے کا کنڑول دے دے گی۔ دس اسرائیل حزب اللہ کے خلاف اپنی فتح کا اعلان کردےگا باودجود اس کے حزب اللہ کے قبضے سے اپنے دو فوجی واپس نہ ملیں۔
 | | | حزب اللہ کے راکٹ حملوں سے بچنے کے لیئے اسرائیلی شہری علاقہ خالی کر رہے ہیں |
گیارہ یہ ممکن ہے کہ کسی مرحلے پر اسرائیل اعلان کردے کہ بمباری کی نتیجے میں اسے اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل ہو گئی ہے اور حزب اللہ کو سرحد سے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ اس وقت کسی جنگ بندی کے ضرورت بھی نہ پڑے لیکن اس طرح بمباری یا تو مکمل رک جائے گی یا پھر اس کی شدت میں کمی آجائے گی۔ بارہ امکان ہے کہ حزب اللہ راکٹ حملے بند کردے لیکن اس صورت میں بھی بشمول لاپتہ فوجیوں کی بازیابی کے اصل مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اسرائیل ان کے بدلے حزب اللہ کے قیدیوں کو اس کے حوالے نہیں کرے گا جس میں سر فہرست سمیر قنطار ہیں جن کے 1979 میں اسرائیلی شہر نہاریہ میں ایک اپارٹمنٹ پر حملے میں ایک شخص اور اس کی بیٹی ہلاک ہوگئے تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ قیدیوں کی رہائی کے بارے میں صرف فلسطینی رہنما محمود عباس کے ذریعے مذاکرات کر سکتا ہے۔ بڑے پیمانے پر اسرائیلی حملہ تیرہ اسرائیل اپنے زمینی حملوں میں اضافے کا سوچ سکتا ہے۔ 1978 میں اسرائیل نے دریائے لیطانی کا علاقہ (سرحد سے بیس کلو میٹر شمال میں) اپنے قبضےمیں لے لیا تھا اور 1982 میں وہ تمام علاقوں کو روندتا بیروت تک پہنچ گیا تھا۔ اس نے 2000 تک جنوبی لبنانی علاقوں کو بھی خالی نہیں کیا تھا۔ اس وقت اس کا مقصد فلسطینی مزاحمت کاروں کو علاقے سے نکالنا تھا جن کی جگہ اب حزب اللہ نے لے لی ہے۔ چودہ یہ بھی ممکن ہے کہ اسرائیل اس بات کا فیصلہ کر لے کہ وہ چھوٹے حملوں کی بجائے بڑا زمینی آپریشن کرے جیسے کے 1978 میں کیا گیا تھا۔ اسرائیل ساحلی شہر طائر پر حملے کی کوشش کرسکتا ہے کیونکہ حزب اللہ اس علاقے سے اسرائیل پر راکٹ داغ رہا ہے۔ پندرہ مگر یہ کوئی طویل المدتی حل نہیں کیونکہ اس کے باجود لبنان پر اسرائیل کا قبضہ بنا رہے گا اور اسرائیل راکٹ حملوں کے خوف اور حزب اللہ کے خطرے میں گھرا رہے گا۔ پھر یہ بھی امکان رہے گا کہ جب اسرائیل واپس جائے تو حزب اللہ پھر اس کی جگہ لے لے۔ لڑائی میں شدت سولہ لبنان اسرائیل لڑائی میں شدت آ سکتی ہے۔ حزب اللہ اسرائیل کے دیگر علاقوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اسرائیل بمباری اور زمینی آپریشن کے اپنے منصوبے پر عمل کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ جلتی پر تیل کا کام دے گا اور مخلوط لبنانی حکومت بہت بڑی مشکل میں گرفتار ہو سکتی ہے۔ حزب اللہ کی جنگ کسی نئے جہادی فرنٹ کی شکل اختیار کر کے دیگر خطوں میں بسنے والے جنگجوؤں کو اس خطے کا رخ اختیار کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ سترہ شام، حزب اللہ اور ایران کے شدت پسند اس جنگ میں کود سکتے ہیں۔ شام جو گزشتہ کئی سال سے لبنان میں اپنااثر کھو چکا ہے دوبارہ اس خطے میں اپنے پاؤں جما سکتا ہے۔ اٹھارہ اگر اس خطے میں تناؤ بڑھا تو ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ ایک بار پھر سے ابھر کے مغرب کے ساتھ سفارتی اور معاشی تنازعے کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس تمام صورت حال کا حل سمجھداری اور اعتماد سازی پر منحصر ہے اور یہی دونوں باتیں اس تنازعے میں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ |