لبنان تک امداد پہنچانے کی جدوجہد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرکزی بیروت میں واقع ویئر ہاؤس اشیاء خوردونوش سے بھرا پڑا ہے۔ ٹماٹر کے ٹن، چاول کے سینکڑوں تھیلے، خوبانیاں، پاستا، دالیں، زیتون کے تیل کی بوتلیں، غرضیکہ ہر قسم کی غذائی اشیا یہاں فراوانی سے موجود ہیں۔ رضاکار ہر خاندان کے لیئے خوراک کے ایسے پیکٹ بنا رہے ہیں جودس افراد کے لیئے پندرہ دن تک کافی ہوں گے۔ لیکن اسی دوران ایک امدادی ادادرے کی کارکن کسینڈرا نیلسن سخت پریشان ہیں کہ وہ لوگ ان افراد تک یہ اشیا نہیں پہنچا پا رہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس علاقے میں امداد پہنچانے کا کام انتہائی خطرناک ثابت ہورہا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج بیروت کی بندرگاہ سے امدادی اشیا دیگر علاقوں تک لے کر جانا ہے۔ کسینڈرا کہتی ہیں ’اگر یہ سب یہیں پڑا پڑا گل سڑ گیا تو کیا فائدہ۔ اس طرح تو یہ کسی کے کام نہیں آئے گا‘۔ عالمی امدادی اداروں میں ان ہزاروں لبنانی باشندوں کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے جو ملک کے جنوبی حصے میں پھنسے ہوئے ہیں اور اب تک ان تک امداد نہیں پہنچ سکی ہے۔ انہیں مسائل کے بیچ اسرائیل لبنان تنازع تیسرے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے۔ بیشتر لبنان تباہ ہوچکا ہے اور ایسے تباہ حال علاقوں سے آنا یا جانا نہایت خطرناک ہوسکتا ہے۔
جنوبی لبنان میں امداد پہنچانے والے قافلے تک اسرائیلی بمباری کی زد میں آچکے ہیں۔ اتوار کو لبنان کے ریڈ کراس کے چھ اہکار اسرائیلی حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔ بدھ کو بیروت سے دس ٹرکوں پر مشتمل ایک امدادی قافلہ جنوبی لبنان میں طائر کے لیئے روانہ ہوا ہے جہاں امداد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کو امداد پہنچانے کے لیئے محفوظ راہداری فراہم کی ہے تاہم وہاں مزید امداد کی فوری ضرورت ہے۔ بیروت کے نواح میں بے شمار پناہ گزین موجود ہیں۔ فی الوقت امدادی ادروں کی توجہ ان تک امداد پہنچانے پر ہے۔
اسرائیل کی جانب سے تحفظ کی یقین دہانی نہ کروانے کے باوجود مرسی کورپس ان گاؤوں تک امداد پہنچا رہی ہیں جو پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں۔ گاؤں کے ماڈرن سٹی سکول میں جنوبی لبنان کے 270 پناہ گزین موجود ہیں۔ پناہ گزین کو بجلی منقطع ہونے اور پانی کی قلت کی بھی شکایت ہے۔ ہر کلاس روم میں 20 افراد قیام کررہے ہیں۔اب تک انہیں حکومت اور حزب اللہ کی جانب سے امداد دی جاتی رہی ہے۔ لیلٰی جبار کے تین سالہ بیٹے ابراہیم جبار کو ایپی لیپسی کی دوا کی فوری ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان چھوڑنے کے بعد سے اس نے دوا نہیں لی ہے اور اسے کسی بھی وقت دورہ پڑ سکتا ہے۔ ’ایک ڈاکٹر کئی مرتبہ آکر دواؤں کے نام لکھ کر لے گیا ہے مگر وہ دوائیں لے کر کبھی نہیں آیا۔ صرف ایک اچھی بات یہ ہے کہ میرا بیٹا یہ نہیں جانتا کہ وہ بیمار ہے۔ وہ حالات سے بے خبر کھیلتا رہتا ہے‘۔ لیلٰی کے صبر کا دامن چھوٹنے ہی والاہے۔ وہ کہتی ہیں ’ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ دنیا ہماری مدد کرے‘۔ | اسی بارے میں مبصروں کی ہلاکت پر اسرائیلی معذرت 26 July, 2006 | آس پاس لبنان کیلیئے اقوام متحدہ کی اپیل25 July, 2006 | آس پاس سری لنکن: لبنان میں رکنے کا فیصلہ25 July, 2006 | آس پاس طائر پر اسرائیل کی شدید بمباری25 July, 2006 | آس پاس لبنان: رائس کا دورۂ مشرقِ وسطٰی 24 July, 2006 | آس پاس ’امریکہ اسرائیل کو وقت دےگا‘24 July, 2006 | آس پاس علاقے سے جائیں تو جائیں کیسے؟23 July, 2006 | آس پاس ’بیروت کی تباہی ہیبت ناک ہے‘23 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||