مشرقِ وسطیٰ مختصر مختصر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
٭ اسرائیل نے کہا کہ وہ جنوبی لبنان میں سرحد کے ساتھ ساتھ دو کلو میٹر چوڑی پٹی پر مشتمل ایک ایسا علاقہ بنائے گا جس میں کسی بھی لبنانی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ٭ نیٹیو کے سکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ لبنان میں قیام امن کے لیئے نیٹو افواج کی تعیناتی کا امکان ابھی قبل از وقت ہے۔ جب کہ جرمنی نے کہا ہے کہ وہ لبنان میں نیٹو افواج کی تعیناتی کے خلاف ہے۔ ٭ چین نے لبنان میں اقوام متحدہ کے مبصروں کی ہلاکت پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ میزائیل حملے سے ہونے والی یہ ہلاکتیں ایسی ہیں جن کے لیئے کسی بات کو جـواز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ٭ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ پر بات چیت کے لیئے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے جو آئندہ منگل کو ہو گا۔ ٭ مشرقِ بعید کے ایشیائی ممالک کی تنظیم ’آسیان‘ مطالبہ کرنے والی ہے کہ مشرقِ وسطٰی میں جنگ فوراً بند کی جائے، جب کہ امریکہ کی دعوت پر روم میں ہونے والی بارہ ملکوں کی کانفرنس نے جنگ کے فوراً بند کیے جانے کا مطالبہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ اب امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس آسیان کانفرنس میں شرکت کے لیئے جا رہی ہیں۔
٭ اسرائیلی فوجی یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ایک سو تیس عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے جب کہ حزب اللہ والے اپنی ہلاکتوں کی تعداد کہیں کم بتاتے ہیں۔ ٭ اقوام متحدہ کے سابق سفارتکار لقدر براہیمی نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ دینے کی وجہ سے امریکہ کا کردار مشرق وسطٰی کے بحران میں قابلِ قبول نہیں رہا۔ ٭ گزشتہ دو ہفتوں سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ میں 433 لبنانی اور اکاون اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں جب کہ ہلاک ہونے والے لبنانیوں میں ایک چوتھائی سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ |
اسی بارے میں کوئی جواز قابلِ قبول نہیں: چین27 July, 2006 | آس پاس لبنان میں یو این مبصرین ہلاک: وڈیو بلیٹن26 July, 2006 | آس پاس لبنان تک امداد پہنچانے کی جدوجہد26 July, 2006 | آس پاس مبصروں کی ہلاکت پر معذرت 26 July, 2006 | آس پاس نو نہیں 8 ہلاک ہوئے ہیں: اسرائیل26 July, 2006 | آس پاس امداد کا رستہ روکنے پر ایران برہم26 July, 2006 | آس پاس مشرقِ وسطٰی میں تباہی، کیمرے کی آنکھ سے26 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||