’روٹ کاز کیا ہے؟‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کونڈولیزا رائس سے لے کر ایہود اولمرت اور کوفی عنان سے لے کر سعودی وزیرِ خارجہ سعود الفیصل تک سب یہ کہہ رہے ہیں کہ مسئلہ لبنان میں فوری جنگ بندی سے زیادہ یہ ہے کہ تنازعے کے بنیادی اسباب (رُوٹ کاز) پر توجہ دی جائے۔ ’روٹ کاز‘ وہ ہوتا ہے جو سب کو ایک جیسا دکھائی دے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہر فریق کا ’روٹ کاز‘ الگ ہے۔ عرب کہتے ہیں کہ اسرائیل تمام برائیوں کا سرچشمہ ہے۔ اسرائیلی کہتے ہیں کہ کون سے عرب؟ یعنی اگر عرب کچھ ہیں بھی تو بقول لبرل اسرائیلی ناقد یوری ایونری اسرائیلی ریاست کے نزدیک وہ سب ہیومین یا نیم انسان ہیں اور جب وہ سب ہیومین ہیں تو نہ تو وہ اسرائیل کی زبان اور ضروریات سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی اسرائیل ان کی مجبوریوں کو جان سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب آنکھوں پر اپنے پسندیدہ رنگ کے نفرت کے فریم سے بنا ہوا چشمہ لگالیا جائے تو پھر ’روٹ کاز‘ سمیت ہر شے وہی نظر آئے گی جو کوئی دیکھنا چاہے گا۔ عرب کہتے ہیں کہ چاہے فلسطین کا مسئلہ ہو یا لبنان کا یا عرب ریاستوں سے امن سمجھوتوں کا، ہر شے کو تاریخ کی کسوٹی پر پرکھا جائے اور تاریخ جو فیصلہ دے وہ قبول کرلیا جائے۔ اس کے جواب میں اسرائیل، امریکہ اور ہمنوا مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ جو تاریخی انصاف یا ناانصافی ہوگئی وہ تو ہوگئی۔ آج جو مسئلہ ہے اس کا حل آج ہی کے تناظر میں نکالنا چاہیے۔ عربوں کی مشکل یہ ہے کہ اگر وہ تاریخ کا ترازو چھوڑتے ہیں تو ان کے ہاتھ سے سب کچھ جاتا ہے اور اگر امریکہ اور اسرائیل تاریخ کی کسوٹی کو معیار مان لیں تو پھر خود اسرائیلی ریاست کا جواز چیلنج ہوتا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ جھگڑا اس شے پر ہے جو سب سے زیادہ ناپائدار ہے یعنی ملکوں کی سرحدیں۔ آج جو لبنان ہے وہ سو برس پہلے شام تھا۔ آج جو اسرائیل ہے وہ ساٹھ برس پہلے ٹرانس جارڈن تھا اور خود ٹرانس جارڈن کا اسی برس پہلے کوئی وجود نہ تھا۔ آج جو عراق ہے وہ اسی برس پہلے عثمانی سلطنت کا ایک صوبہ اور پانچ سو برس پہلے ایرانی سلطنت کا حصہ تھا۔ عرب کہتے ہیں کہ اگر اسرائیل کا مقدمہ برحق ہوتا تو اسے کبھی بھی ایک معمولی واقعہ کے ردِ عمل میں بے تحاشا طاقت استعمال کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ اسرائیل اصل میں اندر سے خوفزدہ ملک ہے اور وہ اس خوف سے بھاگنے کے لئے بے تحاشا طاقت استعمال کرنے کا عادی ہے اور طاقت کے مسلسل استعمال کا عادی ہونے کا ایک سبب امریکہ کی مسلسل پشت پناہی ہے۔ اسرائیلی کہتے ہیں کہ انہیں امریکہ سے خصوصی تعلق پر اس لئے کوئی شرمندگی نہیں کیونکہ عرب ناقابلِ اعتبار ہیں۔ ان کا مغربی اور جمہوری اقدار سے کوئی علاقہ نہیں۔ وہ کبھی اسرائیل کو دل سے تسلیم کر ہی نہیں سکتے۔ لہذا خودکش حملوں، ہائی جیکنگ، راکٹ باری یا فوجیوں کی اغوا کاری جیسے حربوں سے وہ یہ چیک کرتے رہتے ہیں کہ اسرائیل اس طرح کی وارداتوں پر محتلف اوقات میں کس کس طرح سے ردِ عمل ظاہر کرتا ہے۔ اس لئے اگر اسرائیل ایک اینٹ کے جواب میں دس پتھر نہیں برسائے گا تو عرب اسے اسرائیلی ریاست کی کمزوری سمجھ کر اپنا دباؤ بڑھاتے چلے جائیں گے۔ جب بد اعتمادی، خوف اور نفرتوں کا دونوں طرف یہ عالم ہو تو کوئی بھی اچھوتا خیال، منصوبہ یا ثالثی کام نہیں دکھا سکتے۔ ویسے بھی عربوں اور اسرائیل کو آج تک کوئی ایسا ثالث میسر نہیں آسکا جس پر دونوں یکساں اعتماد کرسکیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا ایک پٹتا رہے گا اور دوسرا پیٹتا رہے گا۔ مگر چین دونوں میں سے کسی کو نہیں آئے گا۔ |
اسی بارے میں ’دس مرتبہ حملہ روکنے کو کہا گیا‘26 July, 2006 | آس پاس لبنان تک امداد پہنچانے کی جدوجہد26 July, 2006 | آس پاس مبصروں کی ہلاکت پر معذرت 26 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||