BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 July, 2006, 07:01 GMT 12:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مبصروں کی ہلاکت پر معذرت
لبنان کے جنوبی حصے پر منگل کی شب بھی اسرائیل حملے جاری رہے
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے کوفی عنان سے لبنان میں اقوام متحدہ کے مبصروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

کوفی عنان سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے لبنان کے جنوبی حصے میں اسرائیلی حملوں میں اقوام متحدہ کے چار مبصروں کی ہلاکت پر معذرت کی ہے۔


منگل کو اسرائیلی حملوں میں تین مبصر ہلاک جبکہ چوتھے کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے بنائی گئی چوکی کے ملبے تلے دب کر ہلاک ہوا۔ اس چوکی کو منگل کو اسرائیل نے حملوں کو نشانہ بنایا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کا مقصد اقوام متحدہ کی چوکی کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔

ایہود اولمرت کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور اس سے حاصل نتائج کے بارے میں کوفی عنان کو آگاہ کیا جائے گا۔

وزیراعظم ایہود اولمرت نے کوفی عنان کے ابتدائی ردعمل پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے مبصروں کی ہلاکت کو 'دانستہ' کارروائی کہا تھا۔ کوفی عنان کے مطابق اسرائیل بتائے کہ اس کے وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے عملے کو نشانہ نہ بنائے جانے کی یقین دہانی کے باوجود ایسا کیوں کر ہوا؟۔ اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ انہیں اس واقعے پر شدید حیرت اور صدمہ ہوا ہے۔

اس سلسلے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے اسرائیل نے بتایا ہے کہ یہ محض ایک حادثہ ہے۔

لبنانی سکیورٹی فورسز نے سب سے پہلے اس کی اطلاع دی کہ اسرائیلی کے ایک فضائی حملے کے دوران جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اس میں اقوام متحدہ کے چار مبصر ہلاک ہوئے ہیں۔

بارہ جولائی کو حزب اللہ کے دو اسرائیلی فوجیوں کو قبضے میں لیے جانے کے بعد سے لبنان پر اسرائیلی حملوں میں اب تک تین سو اسی سے زائد لبنانی شہری ہلاک جبکہ حزب اللہ کی جانب سے جوابی کارروائی میں بیالیس اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

یونیفل لبنان میں رہے گی
 اقوام متحدہ کے نائب سیکریٹری جنرل مارک میلک براؤن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اقوام متحدہ لبنان میں مقیم اپنی عبوری فوج یونیفل کو ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی

بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے یہ مبصر جن کا تعلق مختلف ملکوں سے تھا، خیام نامی قصبے کے پاس واقع ایک چوکی پر تعینات تھے۔

جنگ بندی کے حالات پر نظر رکھنے والے ان مبصرین کا تعلق ’آبزرور گروپ لبنان‘ سے تھا۔ اس گروپ کی تشکیل اقوام متحدہ کی 1948 کی قراردادوں کے تحت کی گئی تھی۔

لبنان میں اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ مبصرین کی چوکی کے قریب دن بھر میں چودہ مرتبہ گولہ باری کی گئی جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ چوکی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

جب چوکی اور اس کی ایک قریبی ٹیم بمباری کا نشانہ بن گئی تو ایک انڈین دستے کو ملبہ ہٹانے کے لیئے بھیجا گیا لیکن یہ دستہ بھی کھدائی کے دوارن حملوں کی زد میں آگیا۔

اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق اسرائیل سے فوری احتجاج کیا گیا ہے اور حملے روکنے کی درخواست کی گئی۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے نائب سیکرٹری جنرل مارک میلک براؤن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اقوام متحدہ لبنان میں مقیم اپنی عبوری فوج یونیفل کو ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

نائب سیکریٹری جنرل نے کہا کہ انسانی مدد فراہم کرنے کے لیئے ہماری موجودگی ضروری ہے اور جب بھی لڑائی رکے گی تو ہمارا وہاں ہونا ضروری ہوگا۔

تمام کمزوریوں کے باوجود یونیفل کو اگر ہٹا لیا گیا لبنانیوں کو احساس ہوگا کہ بین الاقوامی برادری کو ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کی عبوری فوج یونیفل کے دو ہزار فوجی 1982 سے لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر موجود ہیں۔

لبنانیوں کا انخلاء
’علاقہ چھوڑنے پر تیار ہیں مگر راستے تباہ‘
riceمشن مشرق وسطیٰ
مشرق وسطیٰ سے امریکہ کو کیا حاصل ہوگا؟
امریکہ کیا چاہتا ہے؟
شامی،ایرانی طاقت کا خاتمہ، امریکی مقصد
انسانی ڈھال انسانی ڈھال کا الزام
اسرائیل فوجیوں پر انسانی ڈھال کا الزام
بمباری اور انخلاء
وویک راج نے لبنان میں کیا دیکھا؟
احتجاج، اشتعال
اسرائیلی حملے: تباہی ہی تباہی
اسی بارے میں
لبنان وڈیو بلیٹن
25 July, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد