مشرق وسطیٰ بحران سے امریکہ کیا حاصل کرے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِخارجہ کونڈو لیزا رائس اسرا ائیل اور لبنان کے درمیان پیدا شدہ بحران کے دیرپا حل کے لیئے مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ وہ بیروت اور یروشلم میں وہاں کے رہنماؤں سےملاقات کرنے کے بعد اس ہفتہ کے آخرمیں روم روانہ ہو جائں گی۔ دراصل رائس کے سابقہ پروگرام کے مطابق اس ہفتہ انھیں بیروت کے بجائے جاپان، جنوبی کوریا، چین، ملیشیا اور ویت نام کے دورے پر جانا تھا۔ اس دورے پر انھیں جنوبی کوریا اور اس کے میزائیل پروگرام جیسے اہم موضوعات پر دھیان مرکوز کرنا تھا لیکن رائس کو اپنے پروگرام میں تبدیلی کرنی پڑی۔ سابق وزیر خارجہ میڈ لین البرائیٹ نے اسے خارجہ پالیسی کے لیئے ’پرفیکٹ سٹارم قرار دیا جو اس وقت ہرطرف سے واشنگٹن کی طرف کالے بادلوں کی طرح چلے آرہے ہیں۔ میری ملاقات ائیر پورٹ پر ایک امریکی دوست سے ہوئی جو اس معاملے کو ایک الگ طریقہ سے دیکھتا ہے۔ اس کے مطابق لبنان کا یہ بحران صدر بش کے لیئے کئی معاملوں میں فائدہ مند ہی ہے۔ میرا یہ دوست صحافی نہیں بلکہ وکیل ہے اور شاید اسی لیئے وہ میڈیاکی باتوں سے ایک حد تک ہی متاثر ہوتا ہے۔ اسکا خیال تھا کہ یہ تشدد کافی حد تک مشرق وسطیٰ کے بحران کو بش انتظامیہ اپنی خواہشوں کے مطابق متاثر کریگا۔ لیکن میں یہ نہیں کہ سکتا کہ یہ جنگ جارج بش اور رپبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں کسی طرح کا فائدہ پہنچائےگا۔ لیکن اس جنگ نے یقینی طور پر نہ صرف عراق کو اخباروں کے پہلے صفحے سے پیچھے دھکیل دیا ہے بلکہ لوگوں میں یہ تاثر دینے میں بھی کامیاب رہی ہے کہ صرف اکیلے امریکہ ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہے۔ان تمام باتوں کے باوجود اس کے کسی بھی طرح کے سیاسی اثرات اخذ کرنا جلد بازی ہوگی۔ رائس کے آنے کے پہلے ہی میں یروشلم کا دورہ کر چکا ہوں اور انکے وہاں پہنچنے پر میں پھر انکے ساتھ ہونگا۔ اس وقت میں دوسرے صحافیوں کے ساتھ اسی طیارے میں پیچھے رہونگا جہاں وہ عمومًا آ کر صحافیوں سے گفتگو کرتی ہیں اور انکے سوالوں کا جواب دیتی ہیں۔ ایک بار تو وہ اپنے کیبن سے نکل کر ایک ایک ساتھی کے لیئے ہیپی برتھ ڈے کا گیت گانے پہنچ گئی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میں ایسے سفر میں ان حالات کوکافی مس کرتا ہوں جب امیگریشن پر لمبی لائنوں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی انکے ساتھ سڑکوں پر سخت انتظامات میں جانا بھی ایک خاص بات ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ منزل پر پہنچنے کے اس سے بھی اچھے طریقے ضرور ہو سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں اسرائیل: لبنان میں زمینی آپریشن کیوں؟22 July, 2006 | آس پاس فوری فائر بندی ممکن نہیں: رائس22 July, 2006 | آس پاس ’بیروت کی تباہی ہیبت ناک ہے‘23 July, 2006 | آس پاس یہودی بستیاں گِریں گی:رائس 19 June, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||