BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 July, 2006, 14:46 GMT 19:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خط: ’جہاں تم رہتے ہو، وہاں ہمارا باغ تھا‘
لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد سے جہاں سفارت کاری کے تمام مواقع جاتے رہے وہاں بیروت کے سلیم خوری اور شلومی، اسرائیل کے گورڈن عور ایک دوسرے سے ای میل کے ذریعے رابطہ قائم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ اس سلسلے کا تیسرا خط ہے:


چھبیس جولائی: سلیم خوری کا خط:

ڈیئر گورڈن!

مجھے واقعی یقین ہے کہ تم میرے اور میرے خاندان کے تحفظ کے لیے دعا گو ہو اور تمہارے اور تمہارے خاندان کے لیے بھی ہماری یہی دعا ہے۔

تمہارا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بیروت اور دمشق کی شاہراہوں کو اس لیے نشانہ بنایا تاکہ ایران اور شام حزب اللہ کو اسلحہ نہ فراہم کرپائیں۔ لیکن پھر دوسری جگہوں پر بمباری کیوں؟ اسرائیل ان پلوں کی بنیادیں تباہ کرنے کے لیے کیوں لوٹتا ہے جو وہ پہلے ہی تباہ کرچکا ہے؟ تمام لبنانی سیٹلائٹ ٹی وی سٹیشنز کے ایرئیل کیوں؟ ان سے حزب اللہ کا کیا تعلق ہے؟

تم کہتے ہو کہ لبنان نے اپنی افواج سرحد کی طرف کیوں نہ بھیجیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے میں اپنے چھ سالہ بیٹے کو اپنے گھر کی حفاظت کی تمام ذمہ داری سونپ دوں۔ لبنانی فوج اس خاندان کا کمزور ترین فرد ہے۔ جب سے خانہ جنگی ختم ہوئی ہے، ہم نے اپنے تمام وسائل ملک کی تعمیر پر خرچ کئے ہیں نہ کہ اپنی منقسم فوج پر۔

لیکن اسرائیل کو وہ کام کرنے کی ہرگز ضرورت نہ تھی جو لبنانی افواج نہ کرپائیں۔

صرف مسلمان بچوں کے ذہن میں ہی نہیں بلکہ نفرت دونوں طرف کم عمری میں دلوں میں ڈال دی جاتی ہے ۔ آج کے ایک اخبار میں ان اسرائیلی بچوں کی تصویر ہے جو 155ایم ایم کے شیل پر پیغام لکھ رہے ہیں: ’اسرائیل اور ڈینیئیلے کی طرف سے‘۔

اگر تم بیروت میں ہوتے تو یہاں کا درد جانتے۔ تمام سکول ان پچہتر ہزار افراد کی رہائش کے لیے استعمال ہورہے ہیں جو بےگھر ہوگئے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کے ستمبر میں میرے بچے پڑھنے کہاں جائیں گے؟

وہاں ہمارا باغ تھا
 شاید تم مجھے اپنے داد کے باغات سے کچھ مالٹے بھیج سکو۔ یہ وہ باغات ہیں جنہیں اسے انیس سو اڑتالیس میں چھوڑنا پڑا۔ وہی جگہ جہاں اب تم رہتے ہو۔ یہ کیسا اتفاق ہے کہ جہاں تمہاری بستی ہے، میرے داد کی ایکڑوں زمین تھی۔

تم کہتے ہو کہ حزب اللہ اسرائیل کا وجود کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ جبکہ حزب اللہ کے اسرائیل سے صرف دو ہی مطالبات رہے ہیں: مقبوضہ زمین سے اسرائیلی واپسی اور لبنانی قیدیوں کی رہائی۔ اسرائیل کا وجود رہے گا لیکن اسے مقبوضہ علاقے سے جانا ہوگا بشمول شیبا کے کھیتوں سے۔ اور اسے وہ زمین واپس کرنی ہوگی جو اس نے فلسطینیوں سے چرائی۔ اسرائیل کو معلوم ہے کہ وہ چور ہے، اس نے ایک ملک چرایا ہے۔

شاید تم مجھے اپنے داد کے باغات سے کچھ مالٹے بھیج سکو۔ یہ وہ باغات ہیں جنہیں اسے انیس سو اڑتالیس میں چھوڑنا پڑا۔ وہی جگہ جہاں اب تم رہتے ہو۔ یہ کیسا اتفاق ہے کہ جہاں تمہاری بستی ہے، میرے داد کی ایکڑوں زمین تھی۔ میری ماں کا گاؤں البصًہ ہے جسے اب بیضۃ کہا جاتا ہے۔ میرے پاس اپنی نانی کی انیس چھیالیس کی ایک تصویر ہے اس زمین پر۔ یہ شلومی سے دو کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔ تمہاری نانی انیس سو چھیالیس میں کہاں تھیں؟

اسرائیل کو ہماری زمینیں لوٹانا ہوں گی۔ تب میں پہلا آدمی ہوں گا جو سرحد پار کرکے تمہارے لیے تازہ لبنانی سیبوں کی پیٹی لے کر آئے گا۔

تمہارا
سلیم


چھبیس جولائی: گورڈن عور کا خط:

ڈیئر سلیم!

مجھے کوئی شک نہیں کہ تمہاری نانی بیضۃ سے تعلق رکھتی تھیں۔ میں کبھی اس بات کو نہیں چھپاتا کہ میں یہاں انگلینڈ سے آیا ہوں۔ لیکن میں تمہیں بتانا چاہوں گا کہ میری بہو کے والدین تیونس سے بھاگے تھے جو ایک ماڈریٹ عرب ریاست ہے مگر ان کے لیے وہاں رہنا ناممکن ہوگیا تھا۔

مجھے نہیں معلوم کہ تمہارے بزرگوں نے کن حالات میں ہجرت کی۔ مقامی آبادی کا ایک بڑا حصہ یہیں رہ گیا۔ اس میں وہ خاندان بھی شامل ہے جن کے دو بچے ان میزائلز سے (انیس جولائی کو) مارے گئے جو حزب اللہ نے داغے تھے۔ نصراللہ کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کی راہ کے شہید ہیں، جس سے امید ہے کہ ان کے والدین کو کچھ سکون آیا ہوگا۔

میں ذاتی طور پر مغربی پٹی اور غزہ میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف ہوں لیکن مجھے ہرگز توقع نہیں تھی کہ جنوب میں اسرائیلی بستیوں پر مسلسل بمباری شروع ہوجائے گی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان بستیوں پر قبضہ اس جنگ کے نتیجے میں ہوا جو ہم پر مسلط کی گئی تھی۔

انیس سو بیاسی کا اسرائیلی قبضہ غلط پالسیسی کے تحت ہوا لیکن وہ شہریوں کو ہدف بنانے والے حملے روکنے کے لیے کیا گیا۔ اس وقت امید یہ تھی کہ صدر بشیر جمائیل سے امن معاہدہ ہوجائے گا مگر انہں قتل کرردیا گیا۔ آج یہ بات منطقی لگتی ہے کیونکہ آخر لبنان میں کوئی بھی اسرائیل کے ساتھ امن کیوں چاہے گا؟

اسرائیل کو مٹانا ناممکن ہے
 مجھے جس بات کی فکر ہے وہ یہ ہے کہ حزب اللہ، حماس اور القاعدہ وغیرہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے افعال سے اسرائیل کا خاتمہ ممکن ہے خواہ اس کے نتیجے میں لوگوں کو کتنی تباہی اور تکلیف کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

اسرائیل کے شمال میں اتنے میزائل داغے گئے ہیں کہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے جنوب میں پناہ ڈھونڈی ہے۔ میرے بیٹے کے گھر کے قریب میزائل گرے ہیں اور ہمیں اس کی زیادہ فکر بہ نسبت اپنے۔ تمہیں اچھا لگے یا نہ لگے، لبنانیوں کی ایک بڑی تعداد حزب اللہ کی حمایت کرتی ہے کیونکہ وہ اسرائیل کا وجود مٹانا چاہتی ہے۔ اسی لیے وہ حزب اللہ کو سکولوں اور گھروں سے میزائل داغنے کی اجازت دیتے ہیں اور تمام شہری آبادی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

اگر لبنان اپنی افواج کو مضبوط یا حزب اللہ کو قابو میں نہیں کرسکتا تو اس کا الزام اسرائیل پر نہیں لگایا جا سکتا۔ اسرائیل کو نہیں مٹایا جاسکتا۔ مجھے جس بات کی فکر ہے وہ یہ ہے کہ حزب اللہ، حماس اور القاعدہ وغیرہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے افعال سے اسرائیل کا خاتمہ ممکن ہے خواہ اس کے نتیجے میں لوگوں کو کتنی تباہی اور تکلیف کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

اچھے دنوں کی امید میں

گورڈن


باقی خط پڑھیے

اورلی اورآمنیہ چھٹےخط میں تاریخ کے فرق پر’میں بمقابلہ تم‘
اورلی اورآمنیہ چھٹےخط میں تاریخ کے فرق پر
اورلی اور آمنیہ کا پانچواں خطخون کا حساب
اورلی اور آمنیہ کا پانچواں خط
یہودی اور تاریخ
آمنیہ اور اورلی گتھیاں سلجھاتی ہیں‘چوتھا خط
اسرائیل کی اورلی’میں عرب ہوں‘
تیسرا خط: اورلی کا سوال، آمنیہ کا جواب
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد