BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 August, 2006, 12:10 GMT 17:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خط: ’ جنگ نے کچھ دیا ہے تو وہ نفرت ہے‘
بیروت میں مقیم ایک لبنانی شخصں اور ایک اسرائیلی جو سرحدی شہر شلومی کا رہنے والا ہے، کے مابین ای میل کے ذریعے رابطہ ہوا۔ ان لوگوں نے جنگ بندی کے بعد قائم ہونے والے امن پر تبادلہ خیال کیا۔ اس سلسلے کے پہلے تین خط شائع کیے جا چکے ہیں اور ان کی آپس میں کی گئی خط وکتابت کی آخری قسط پیش ہے۔


سترہ اگست : سلیم خوری کا خط:

ڈیئر گورڈن!

مجھے امید ہے کہ آپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سلامتی سے ہوں گے۔ میں خوش ہوں کہ دنیا اسرائیلی فوج کو یہ سمجھانے میں کامیاب رہی کہ حزب اللہ سے جنگ ایک نقصان کا سودہ ہے۔ وہ راکٹ لانچروں کو تباہ کر سکتے ہیں اور حملہ کر سکتے ہیں لیکن وہ لبنان کے عوام کے عقیدہ کو ختم نہیں کر سکتے۔ اگر اس جنگ نے کچھ دیا ہے تو وہ نفرت ہے۔ حالانکہ مجھے بھروسہ ہے کہ جنگ بندی لمبے وقت تک قائم رہے گی۔

اس جنگ میں ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں، پندرہ ہزار سے زیادہ مکانات منہدم ہوئے اور ایک سو تیس پل تباہ ہو گئے۔ ہماری معیشت کو بھی کافی نقصان پہنچا۔ حزب اللہ نے دو سو راکٹ داغے۔ اس جنگ نے اسرائیل کی فوج کی ساکھ کو برباد کر دیا ہے۔

آج ہم پھر وہیں ہیں جہاں سے ہم نے شروعات کی تھی۔ اسرائیل کے پاس ابھی بھی لبنانی قیدی اور زمین ہیں جب کہ حزب اللہ کے پاس اب بھی اسرائیل کے دو فوجی ہیں۔ حزب اللہ کے کارکن اسرائیل کی مضبوط فوج کے خلاف تیس دنوں تک ڈٹے رہے۔ اب وہ اپنے لوگوں کو از سر نو آباد کرنے میں لگ گئے ہیں۔

اگر پھر جنگ شروع ہوتی ہے تو حزب اللہ کے کارکن مزید طاقت کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ اسرائیل کا منصوبہ تئیس سال پرانا ہے۔ وہ یہ محسوس کر رہے تھے کہ وہ پی ایل او سے لڑ رہے ہیں جو ایک فوج کی طرح ہے ۔لیکن حزب اللہ ایک قوم کی طرح ہے جس میں ماں، باپ اور بچے سب مل کر لڑتے ہیں۔ حزب اللہ ان کی سوچ سے دس گنا زیادہ طاقتور ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس جنگ سےعرب اسرائیل تنازع کے بعد فیصلہ کن نتیجہ سامنے آئے گا۔

اس جنگ میں بچوں اور عورتوں کی موت نے سب کو تکلیف پہنچائی ہے۔ ہم لوگ کہاں جا رہے ہیں؟

یہ مناسب وقت ہے کہ اسرائیل عربوں کے جائز حقوق فراہم کرے۔

تمہارا
سلیم


سترہ اگست : گورڈن عور کا خط:

ڈیئر سلیم!

ہاں ہم بالکل ٹھیک ہیں۔ ہمارے ارد گرد راکٹ گرتے رہے۔ ہمارے کئی پڑوسی ہلاک ہوئے۔ مجھے آپ کی منطق پسند ہے اور یہ بھی کہ آپ کو حزب اللہ میں کوئی خامی نظر نہیں آئی۔

میری سمجھ میں نہیں آیا کہ نصر اللہ کے بیان کے بعد جو لوگ لبنان چھوڑ کر چلے گئے تھے وہی لوٹنے کے بعد ان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔

میں آپ سے متفق ہو ں کہ ہم لوگوں نے حزب اللہ کو کمزور سمجھا۔ گزشتہ چھ سالوں میں حزب اللہ نے راکٹ کے ذخائر جمع کیئے۔ یہ محض اپنے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ ان کا مقصد عام شہریوں کو دہشت زدہ کرنا بھی ہے۔
ایسی حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟

حزب اللہ قوم جس میں ماں، باپ اور بچے شامل ہیں ، ان کا ایک ہی مقصد ہے ۔ ان کا مقصد سماجی مسائل کا حل نہیں بلکہ اسرائیل کو پوری طرح تباہ کرنا ہے۔

میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ آیا آپ یا لبنانی حکومت نے یہ تسلیم کیا کہ 1975 میں عیسائیوں کا قتل عام غلط عمل تھا؟ کیا 1982 میں آپ نے بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا جب شام میں آپ کے پڑوسی نے ہزاروں لوگوں کا قتل کیا؟ کیا آپ نے حزب اللہ کے مدد گار ایران اور عراق کے درمیان 1980 میں آٹھ ماہ تک جاری جنگ روکنے کی کوئی کوشش کی تھی؟ جس میں دسوں ہزار لوگ مارے گئے تھے؟

اسرائیل ایک جمہوری ملک ہے۔ اگر وہاں کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت غلط ہے تو اگلے انتخابات میں اسے اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ جبکہ لبنان میں جب حزب اللہ یہ محسوس کر لےتو وہ خود کافی ہے۔ اسے انتخابات کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ وہ اپنے اسلحے کی بدولت حکومت پر قبضہ کر لیں گے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ لبنان کی عوام کے غلطی ہوگی نہ کہ اسرائیل کی۔ تب آپ کس سے شکایت کریں گے جب آپ کا ملک مسلمانوں کے قانون کے تحت چلے گا اور آپ کی بیوی کو نقاب پہننے کے لیئے مجبور کیا جائے گا؟

اس امید میں کہ یہ جنگ بندی قائم رہے گی۔

گورڈن


باقی خط پڑھیے:

لبنانجنگ کی قیمت
’ہم نے کچھ نہیں جیتا، بہت کچھ کھویا ہے‘
’جنگ نہیں بھولتی‘’جنگ نہیں بھولتی‘
فرایا میں ایک لبنانی خاندان کی آپ بیتی
لوگوں کی کہانیاںلوگوں کی کہانیاں
’کم از کم بیروت میں میرا گھر ابھی کھڑا ہے‘
لبنانڈائری: امدادی کارکن
لبنان میں امدادی ایجنسیاں پریشان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد