BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 July, 2006, 14:41 GMT 19:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خط: ’حزب اللہ صرف جنگجو نہیں‘
لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد سے جہاں سفارت کاری کے تمام مواقع جاتے رہے وہاں بیروت کے سلیم خوری اور شلومی، اسرائیل کے گورڈن عور ایک دوسرے سے ای میل کے ذریعے رابطہ قائم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ اس کڑی کا دوسراخط ہے:


اٹھارہ جولائی: سلیم خوری کا خط:

ڈیئر گورڈن!

تم نے پوچھا کہ اسرائیل کے لیے راستہ ہی کیا تھا؟ میرا خیال ہے کہ وہ ایک مہذب قوم کی طرح بھی جواب دے سکتا تھا۔ گفت شنید کو ایک آدھ موقعہ دیا جا سکتا تھا۔ جبکہ اس نے اسی دن لبنان پر بمباری شروع کردی تھی جس دن اس کے دو فوجی قید کرلئے گئے۔

اب تک اسرائیل نے دو سو شہری ہلاک کیے ہیں، تیرہ پل اڑا دیئے ہیں، ایک پاور سٹیشن اور اییرپورٹ تباہ کردیا ہے۔ کیوں، کیا بچگانہ رویہ نہیں؟

کسی بھی جنگ میں گفت وشنید جاری رہتی ہے۔ جب امریکی ویتنام پر بم مار رہے تھے، وہ تب بھی پیرس میں گفتگو جاری رکھے ہوئے تھے۔ ہم پر ایک ہفتے سے بمباری جاری ہے اور پہلا سفارت کار کل بیروت پہنچا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی بات چیت چوبیس گھنٹے پہلے شروع ہوئی۔

حز ب اللہ کے حوالے سے کئی پہلوؤں پر بات ہوسکتی ہے۔ اسرائیل کو حزب اللہ سے ویسے ہی بات کرنا چاہیے جیسے کہ مغرب ایران سے جوہری توانائی پر بات کررہا ہے۔ یعنی مقامی طور پر نہیں بلکہ علاقائی سطح پر۔ اسرائیل اور سب کو معلوم ہے کہ حزب اللہ لبنان کی ریاست کے اندر ایک ریاست ہے۔ شام اور ایران مغرب اور اسرائیل کہ خلاف جنگ یہاں لڑ رہے ہیں۔ عالمی برادری کو ایران اور شام پر دباؤ ڈالنا چاہیے جبکہ وہ سب سے کمزور فریق یعنی لبنانی حکومت سے کہہ رہے ہیں کہ وہ حزب اللہ سے نمٹے۔

حزب اللہ صرف جنگجو نہیں
 حزب اللہ صرف اغوا کرنے اور راکٹ مارنے والی تنظیم نہیں ہے۔ وہ سکول، سماجی فلاح و بہبود کے پروگرام اور ہسپتال بھی چلاتی ہے۔ وہ شیعہ کمیونٹی کے غریب لبنانیوں کی مدد کرتی ہے اور وہ سب کام کرتی ہے جو لبنانی حکومت نہیں کرتی۔

گورڈن تمہارے لیے یہ ماننا دشوار ہے کہ نصراللہ کا مقصد لبنانی عوام کی فلاح ہوسکتا ہے مگر تمہاری معلومات کے لیے بتاتا ہوں کہ حزب اللہ صرف اغوا کرنے اور راکٹ مارنے والی تنظیم نہیں ہے۔ وہ سکول، سماجی فلاح و بہبود کے پروگرام اور ہسپتال بھی چلاتی ہے۔ وہ شیعہ کمیونٹی کے غریب لبنانیوں کی مدد کرتی ہے اور وہ سب کام کرتی ہے جو لبنانی حکومت نہیں کرتی۔ اسی لیے شیعہ اس کے رہنما کی حمایت کرتے ہیں۔

ڈیری فارمز اور فیکٹریوں اور پاور سٹیشنز پر حملوں کے نتیجے میں لوگوں کے حزب اللہ پر انحصار اور اس کی حمایت میں صرف اضافہ ہوگا۔ بدقسمتی سے یہ جنگ اگلے چھ ماہ تک جاری رہ سکتی ہے جس میں کوئی ہار نہیں مانے گا۔

مخلص
سلیم


اٹھارہ جولائی: گورڈن عور کا خط:

ڈیئر سلیم!

امید ہے کہ تم یقین کرلو گے جب میں کہتا ہوں کہ میری دعا ہے کہ تم اور تمہارا خاندان محفوظ ہوگا اور رہے اور یہ کہ جنگ جلد ختم ہو۔

تم کہتے ہو کہ اسرائئل کو گفت وشنید کرنا چاہیے تھی لیکن حزب اللہ نے پہلے ہی یہ کارڈ استعمال کرلیا ہے۔ انہوں نے جان بوجھ کر شیلنگ کی، سرحد پار آئے اور اسرائیلیوں کو اغوا اور ہلاک کردیا۔ کیا یہ گفت وشنید کی حکمتِ عملی ہے؟

اور ہم نے ائیرپورٹ اور بیروت اور دمشق کی شاہراہوں کو نشانہ کیوں بنایا؟ کیونکہ یہی وہ راستے ہیں جن کے ذریعے ایران اور شام حزب اللہ کو وہ اسلحہ اور میزائل فراہم کرتے ہیں جن میں سے کچھ میرے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر گرے۔ مجھ سمجھ نہیں آئی کہ اقوامِ متحدہ یا دوسری طاقتوں کی خاموشی کا الزام اسرائیل پر کیسے ڈالا جا سکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اب یہ سب پر واضح ہوگیا ہے کہ کسی انتہا پسند گروہ کی طرف سے کیے جانے والا حملہ کیسے دنیا بھر کے لیے نقصان دہ ہے اور اب انہیں شکست دینا ہوگی۔

ہاں لیکن۔۔۔
 یقیناً حزب اللہ بھی حماس کی طرح سماجی اور تعلیمی خدمات انجام دیتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان کےذریعے اسرائیل اور اسے صفحہِ ہستی سے مٹادینے کے لیے رضامند افراد تیار کرتی ہے۔

یقیناً حزب اللہ بھی حماس کی طرح سماجی اور تعلیمی خدمات انجام دیتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان کےذریعے اسرائیل اور اسے صفحہِ ہستی سے مٹادینے کے لیے رضامند افراد تیار کرتی ہے۔ نہ حزب اللہ اور نہ ہی ایران اور شام کبھی قبول کریں گے کہ اسرائیل کا وجود رہے گا۔ جب لوگ کم عمر ہوں تب سے نفرت ان کے دل میں ڈال دو، تاکہ وہ ہمیشہ زندہ رہے۔

اگر لبنان اپنی افواج سرحدی علاقوں کی طرف بھیج دیتا تو شاید یہ سب کچھ کبھی نہ ہوتا۔

یہ سب ختم ہوگا؟ عارضی طور پر مجھے لگتا ہے کہ جلد ہی، جب اسرائیل کو یقین آجائے گا کہ حز ب اللہ کی اسرائیل پر حملے کرنے کی طاقت ختم ہوچکی ہے۔ مگر جہاں تک مستقبل کا تعلق ہے، اور یہ میں اپنے دل پر ایک بوجھ کے ساتھ کہہ رہا ہوں، شاید کبھی نہیں۔ جب تک انتہا پسند تنظیمیں موجود ہیں اور جارحیت اور دہشت گردی کرنے کے بعد کہتی ہیں ’بس، چلو اب گفت و شنید کرتے ہیں۔‘

تمہارا گورڈن


باقی خط پڑھیے:

اورلی اورآمنیہ چھٹےخط میں تاریخ کے فرق پر’میں بمقابلہ تم‘
اورلی اورآمنیہ چھٹےخط میں تاریخ کے فرق پر
اورلی اور آمنیہ کا پانچواں خطخون کا حساب
اورلی اور آمنیہ کا پانچواں خط
یہودی اور تاریخ
آمنیہ اور اورلی گتھیاں سلجھاتی ہیں‘چوتھا خط
اسرائیل کی اورلی’میں عرب ہوں‘
تیسرا خط: اورلی کا سوال، آمنیہ کا جواب
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد