لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد سے جہاں سفارت کاری کے تمام مواقع جاتے رہے وہاں بیروت کے سلیم خوری اور شلومی، اسرائیل کے گورڈن عور ایک دوسرے سے ای میل کے ذریعے رابطہ قائم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ سلسلہ ان کے خطوط پر مبنی ہے:
| چودہ جولائی: سلیم خوری کا خط: |
ڈیئر گورڈن! میں نہیں سمجھتا کہ اسرائیل کا مقصد کبھی بھی حزب اللہ سے لڑنا رہا ہے۔ پہلے دن سے اسرائیل صرف ہمارے شہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے درپے رہا ہے۔ حزب اللہ کے جنگجو جنوب میں ہیں جہاں اسرائیل نے ایک ٹینک بھی نہیں روانہ کیا۔ لبنان نے اپنے بزرگ، بچے اور شہری کھوئے ہیں جو صرف جنگ سے دور بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ زندگی رک گئی ہے۔خدا جانے اسرائیل کے دو فوجیوں کے لیے کتنی بڑی جنگ لڑی جائے گی۔ جبکہ حزب اللہ نے فوجی اغوا کیے نہ کہ شہری۔
 | ایسا پھر بھی ہوسکتا ہے  سو وہ بیروت کو دوبارہ تباہ و برباد کردیں گے، جیسا کہ انہوں نے انیس سو بیاسی میں کیا تھا لیکن ہم نے تب بھی اسے پھر تعمیر کرلیا تھا اور اب بھی کرلیں گے۔ شاید اسرائیل کو یاد کرنا پڑے گا کہ لبنان ان کے فوجیوں کے لیے قبرستان بن گیا تھا، اور ایسا دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔  |
کوئی بھی منطقی حل قیدیوں کی رہائی سے شروع ہوتاہے، میں مجرموں کی نہیں، ان افراد کی بات کررہا ہوں جسے اسرائیل نے لبنان پر قبضے کے دوران قید کیا۔ اسرائیل کی ’مضحکہ خیز منطق‘ کون سمجھے، مجھے معلوم ہے کہ ان کے پاس انتہائی طاقتور فوج ہے اور ایسے جدید ترین ہتھیار جو امریکہ خرید سکتا ہے، لیکن جب تک وہ خطے میں دوسروں کو جینے کا حق نہیں دے گا، یہ اسے امن نہیں فراہم کرسکتے۔سو وہ بیروت کو دوبارہ تباہ و برباد کردیں گے، جیسا کہ انہوں نے انیس سو بیاسی میں کیا تھا لیکن ہم نے تب بھی اسے پھر تعمیر کرلیا تھا اور اب بھی کرلیں گے۔ شاید اسرائیل کو یاد کرنا پڑے گا کہ لبنان ان کے فوجیوں کے لیے قبرستان بن گیا تھا، اور ایسا دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔ سلیم خوری
| چودہ جولائی، گورڈن عور کا خط: |
ڈیئر سلیم! میں شلومی میں لبنانی سرحد پر رہتا ہوں اور حزب اللہ کے مورچے اپنی بالکنی سے دیکھتا ہوں۔ شلوم ان بستیوں میں سے ہے جس پر بدھ کی صبح بمباری ہوئی اور جواباً اسرائیلی فوجی اس سرحد پر پہنچے جہاں سات مارے گئے اور دو اغوا کر لیےگئے۔ آخر کس لیے؟ کیا نصراللہ (حزب اللہ کے سربراہ) عرب دنیا میں اپنا مقام بہتر بنانا چاہتے ہیں؟ میں یہ تو نہیں مان سکتا کہ ان کا مقصد لبنانی عوام کی فلاح تھی۔ اسرائیل کے پاس راستہ ہی کیا تھا؟ کیا ہم کہتے: ’زبردست جنابِ نصراللہ۔‘
 | لبنان کی ذمہ داری  لبنانی حکومت اس صورتِ حال میں اپنی ذمہ داری سے آنکھیں نہیں پھیر سکتی۔  |
جسے دوسرے سفارت کہتے ہیں، وہ دراصل میرے اور میرے جیسے اسرائیلیوں کی زندگی کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ میں اسرائیل کی پالیسیوں کا حامی نہیں اور کسی بھی فلسطینی، لبنانی، مصری، اردنی یا شامی سے امن کی اہمیت کو کم نہیں جانتا لیکن گفتگو کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے سے انکار کو اسرائیل کی ’مضحکہ خیز منطق‘ قرار دینا حقائق سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔ اسرائیل کو لبنانی افراسٹرکچر تباہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں اور ایک مضبوط اور خوشحال لبنان خطے کے لیے صرف بہتر ہی ہوسکتا ہے لیکن کسی نہ کسی کو بہرحال حزب اللہ پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔ لبنانی حکومت اس صورتِ حال میں اپنی ذمہ داری سے آنکھیں نہیں پھیر سکتی۔گورڈن عور
|