BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 04 August, 2006, 13:37 GMT 18:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنگ کی قیمت
اسرائیل کا لبنان پر حملہ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور جنگ بندی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ ایسے میں جنگ کے حالات میں رہنے والے لبنانی اور اسرائیلی لوگوں کی کہانیاں:



حیبہ عثمان، ڈاکٹر، بیروت، لبنان

حیبہ عثمان
ڈاکٹر اور امدادی کارکن
میں امریکن یونیورسٹی میں طالب علموں اور سٹاف کی ڈاکٹر ہوں۔
اپنے روزمرہ کے کام سے فارغ ہو کر میں ڈاکٹروں، نرسوں، میڈیکل کے طالب علموں اور فارماسسٹز کے ایک گروہ کے ہمراہ امدادی کام کے لیے نکل جاتی ہوں۔

زیادہ تر بےگھر لوگوں کا تعلق ملک کے جنوب یا بیروت کے جنوبی حصہ سے ہے۔

یہ لوگ اس جنگ کے آغاز سے ہی کلاس رومز، زیر زمین شاپنگ سنٹرز، فلم تھیٹر جیسی جگہوں میں رہ رہے ہیں۔ یہ مقامات اس قسم کے حالات کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ بہت گرمی ہے، ہزاروں لوگ چند باتھ روم استعمال کرنے پر مجبور ہیں اور ہماری تہذیب میں یہ سب کچھ بہت مشکل ہے۔

آبادی کا ایک تہائی حصہ بے گھر ہو چکا ہے اور یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔

بہت سے لوگ زخمی ہیں۔ لوگ چھوٹے چولہوں پر پانی گرم کر تے ہیں اور اسی کمرے میں بچے ارد گرد بھاگتے پھرتے ہیں۔ میں نے ایک چھوٹی سی بچی کو دیکھا جس کی ٹانگ پر ابلتا پانی گرنے سے اس کی ٹانگ جل چکی تھی۔

بہت سے لوگ دل اور ذیابیطس کے امراض میں مبتلا ہیں اور انہیں علاج کی ضرورت ہے۔ ان کو ایسی پرہیزی خوراک کی ضرورت ہے جو ان کی حالت کے مطابق ہو لیکن انہیں کچھ بھی مہیا نہیں ہے۔

لوگ حیرت زدہ ہیں اور ہر طرف ڈپریشن نظر آتا ہے۔ بہت سے لوگو رات کو سو نہیں پاتے۔

کئی لوگ یہ تک نہیں جانتے کہ ان کے گھر اب تک سلامت ہیں یا تباہ کر دئے گئے ہیں اور وہ کبھی واپس لوٹ بھی سکیں گے یا نہیں۔ بہت سے لوگ غریب ہیں اور ان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ زندگی کا پھر سے آغاز کر سکیں۔

ایک اچھی بات یہ ہے کہ لوگو کھلے دل سے دوسروں کی مدد کر رہے ہیں۔ مجھے روزانہ ایسے کئی لوگوں کے فون آتے ہیں جو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔


ایلون ادیر، آئی ٹی کنسلٹنٹ، طیوان، اسرائیل

ایلون ادیر، آئی ٹی کنسلٹنٹ،اسرائیل
ایلون ادیر، آئی ٹی کنسلٹنٹ،اسرائیل

میرا شہر بہت پر سکون ہے اور حیفہ اور نزارتھ کے درمیان واقع ہے۔ آج کل شہر کے چاروں طرف پکتی ہوئے سنہری فصلیں ہیں۔

میرے دادا اور دادی 1930 میں جرمنی میں ناتزیوں سے بچ کر یہاں آئے تھے۔

پچھلے ہفتے ہم پر حزب اللہ نے راکٹ سے حملہ کیا۔

حملے سے کچھ گھنٹے پہلے میں ایک دوست کے ساتھ باغ میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہم نے کسی سائرن کی آواز نہیں سنی، بس ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ یہ راکٹ کسی عمارت پر نہیں گرا تاہم شہر کے بیچوں بیچ بوڑھے لوگوں کے نرسنگ ہوم کے قریب جنگل میں گرا۔

ہمیں بہت عرصے سے شک تھا کہ ان کے پاس ایسے راکٹ ہیں جو حیفہ تک پہنچ سکتے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں اس حملے سے کافی حیرت ہوئی ہے۔

تیوان پر حملے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ مجھے یقین ہے کہ ان کا نشانہ ہم نہیں تھے۔

یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کو جانتا ہے۔ پچھلے دنوں جو تین فوجی مارے گئے ان میں سے ایک کا تعلق تیوان سے تھا۔ میں اس کے والد کو اچھی طرح جانتا ہوں۔

میرے گھر میں شیلٹر نہیں ہے۔ میں کافی سائیکلنگ کرتا ہوں۔ سائرن بجنے پر میں اپنی سائیکل چلانے والا ہیلمٹ پہن کر میز کے نیچے چھپ جاتا ہوں۔

بہت سے لوگ شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں لیکن میں یہیں رہوں گا۔ مجھے لگتا ہے کہ تیوان محفوظ ہے اور مجھے اپنا شہر بہت پسند ہے۔

تیوان آباد کرنے والوں کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ رومن دور کے مشہور یہودی شہر کے اوپر واقع ہے۔ تالمود کی پہلی کتاب ’مشنا‘ یہاں لکھی گئی تھی۔

جو ہو رہا ہے بہت شرم کی بات ہے۔ اس سارے خطے میں لبنان ہی ایک ایسا ملک ہے جس کے خیالات ہم سے ملتے جلتے ہیں۔ ان کا نظریہ خاصہ مغربی ہے اور میرا خیال ہے کہ لبنانیوں کے ساتھ دوستی کا امکان سب سے زیادہ ہے۔


رواد اوک، گرافک ڈیزائنر، بیروت، لبنان

بیروت، لبنان
بیروت میں پانچ روز بعد پیٹرول ختم ہو جائے گا

میں ایک گرافک ڈیزائن کمپنی کے لیے بطور انیمیٹر اور السٹریٹر کام کرتا ہوں۔ پہلے دو ہفتوں کے لیے کام رک گیا تھا، سب کچھ بند ہو گیا تھا اور لوگ بہت خوف زدہ تھے۔

لیکن اب آفس میں سب واپس آگئے ہیں۔ آخر کام کئیے بغیر گزارا بھی تو نہیں ہے۔

میں اپنے آفس کے قریب رہتا ہوں۔ میں کام پر ٹیکسی میں جاتا ہوں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پانچ دنوں میں پیٹرول ختنم ہو جائے گا۔

رات کی گھہما گھہمی بھی کسی حد تک لوٹ رہی ہے۔ خاص کر ان علاقوں میں جو بمباری والے علاقوں سے دور ہیں۔ میں آج صبح دو بجے تک اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ تھا۔

معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر کیا ہوگا۔

حزب اللہ ٹی وی پر یہ کہتی ہے کہ ہم جیت رہے ہیں۔ لیکن میری عمر کے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ہم نے کچھ نہیں جیتا بلکہ بہت کچھ کھویا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسرائیل کے لیے بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے۔

حزب اللہ کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔ اس کا معاشی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے لیکن انتہا پسند نظریہ ابھی قائم ہے۔ یقیناً اسرائیل یہ نہیں چاہتا تھا۔

غاضہ متری’کوئی راستہ نہیں‘
غاضہ متری نے لبنان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔
’جنگ نہیں بھولتی‘’جنگ نہیں بھولتی‘
فرایا میں ایک لبنانی خاندان کی آپ بیتی
خط: ’جہاں تم رہتے ہو، وہاں ہمارا باغ تھا‘ڈئیرسلیم، ڈئیرگورڈن
’جہاں تم رہتے ہو، وہاں ہمارا باغ تھا‘
لوگوں کی کہانیاںلوگوں کی کہانیاں
’کم از کم بیروت میں میرا گھر ابھی کھڑا ہے‘
لوگوں کی کہانیاںلوگوں کی کہانیاں
’بیروت، وہ شہر جو کبھی ہار نہیں مانے گا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد