BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 July, 2006, 13:50 GMT 18:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کم از کم میرا گھر ابھی کھڑا ہے‘
لبنان اور اسرائیل میں عام لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد خطے میں جاری جنگ سے پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ ان میں سے کچھ کی کہانیاں ہیں۔


احلم دیرانی، طالب علم، قسانربا، بقا، لبنان
ہمارا گاؤں شیعہ اکثریت ثالا گاؤں ہے اور یہاں لوگوں کی بڑی تعداد حزب اللہ کی حامی ہے۔ اس لیے ہمیں خدشہ ہے کہ یہاں بھی اسرائیلی حملے ہوں گے۔ ہم ابھی گاؤں نہیں چھوڑیں گے کیونکہ پورا ملک غیر محفوظ ہے اور اسرائیلی حکومت کے خلاف مزاحمت کا ہمارے پاس یہی طریقہ ہے۔

جنوبی لبنان کا ایک خاندان ہمارے ہاں ٹھہرا ہوا ہے۔ ان کاگھر تباہ ہو چکا ہے۔ وہ ہمارے دور کے رشتہ دار ہیں۔ وہ جب تک چاہیں ہمارے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ وہ چار دن پہلے یہاں پہنچے تھے۔

بے شک یہاں بھی وہ خطرے سے دور نہیں۔ لیکن وہ شمال میں کسی عیسائی گاؤں تک بھی نہیں جا سکتے کیونکہ اسرائیل سڑک پر چلتی ہوئی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

یہاں قریب ہی بہت سے بم دھماکے ہوئے ہیں، خاص طور پر آج صبح۔ میں بہت تھکا ہوا ہوں لیکن پھر بھی خوف کے مارے نیند نہیں آتی۔ ان سب حالات میں لوگوں کی ہمت جواب دے رہی ہے۔ آج میں نے بالبیک میں بمباری ہوتے ہوئے دیکھی۔ یہ بم کچھ الگ طرز کے لگ رہے تھے اور ان کے پھٹنے کے بعد گہرے سرمئی رنگ کے بادل آسمان پر پھیل رہے تھے۔ میری آنٹی وہاں رہتی ہیں لیکن وہ صحیح سلامت ہیں۔

انسانی حقوق کے بارے میں سوچ کر بہت تکلیف اور بےچینی ہوتی ہے کیونکہ ہم ان پر عمل تو کر نہیں سکتے۔ ہم سیاسی کھیل کا نشانہ بن رہے ہیں۔ جن ملکوں کی لبنان میں کوئی دلچسپی نہیں، وہ ہمیں جلتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔


مارٹین گراسمن، افولہ، اسرائیل
میں شمال میں بحیرۂ غلیلی کے پاس رہتی ہوں۔ پانچ منٹ پہلے ہمیں سائرن کی آواز سنائی دی اور پناہ گاہ کی طرف دوڑنا پڑا۔ ہم ابھی ابھی واپس آئے ہیں۔
لوگوں نے یہ گاؤں نہیں چھوڑا۔ نہ جانے کیوں ہم خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے بہت سے گھروں میں پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں۔ مجھے فکر تو ہے لیکن اگر ہمیں گاؤں چھوڑنا پڑا تو ہم کہاں جائیں گے؟

میں کہیں نہیں جاؤں گی کیونکہ میرے خیال میں جتنا ہو سکے ہمیں اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزارنی چاہیے۔ یہاں بہت گرمی ہے اور ہر وقت گھر کے اندر نہیں رہا جا سکتا۔ ہم باہر نہیں نکل سکتے کیونکہ باہر میزائیلوں کی بارش ہو رہی ہے۔

میرے خیال میں حزب اللہ کا نشانہ اچھا نہیں ہے۔ بدھ کو انہوں نے نازریتھ میں دو عرب اسرائیلیوں کو مار ڈالا۔ اس سے نہ صرف یہودیوں بلکہ تمام لوگوں میں خوف پھیل رہا ہے۔ میں ایسے علاقے میں رہتی ہوں جہاں آدھے لوگ عرب ہیں اور آدھے یہودی۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتے ہیں اور ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ نصراللہ (حزب اللہ کے رہنما) اس بھائی چارے کو کسی نہ کسی طرح سے تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایسے معاشرے کو تباہ کرنا چاہتے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ زندگی گزار رہے ہیں۔


فووآد توباجی، بیروت، لبنان
میں بیروت کے جنوب میں ایک نواحی علاقے میں رہتا ہوں۔ یہ علاقہ مکمل طور پر رہائشی ہے اور یہاں کوئی فوجی تنصیبات نہ ہونے کی وجہ سے اسے محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ میری دو نوعمر بیٹیاں ہیں اور میری بیوی کی پرورش جرمنی میں ہوئی تھی۔ اس لیے ان میں سے کسی نے بھی کبھی جنگ نہیں دیکھی تھی۔ جب اسرائیلی حملے شروع ہوئے تو وہ بہت خوفزدہ ہوئیں۔ ہمارے علاقے میں کوئی پناہ گاہ نہیں تھی اس لیے ہمیں بیروت کی مشرقی پہاڑیوں میں ایک دوست کے گھر جانا پڑا۔ یہاں پناہ گاہ ہے، اس لئے کچھ حوصلہ بندھا رہتا ہے۔

اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں ہیں۔ قیمتوں میں تین سے چار گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ آج میں بازار سے ٹیونا کے چھ ڈبے، کچھ ہیومس اور روٹی خرید کر لایا۔ سب ملا کر ایک سو ڈالر خرچ کرنے پڑے۔

ہم فی الحال گزارہ تو کر رہے ہیں لیکن ہمارے پاس صرف تین ہفتے تک کھانا خریدنے کے پیسے ہیں۔ دکانوں میں چند بنیادی ضروریات کی چیزیں تو مل رہی ہیں لیکن جب وہ ایک دفعہ ختم ہو جاتی ہیں تو دوبارہ نہیں مل سکتیں کیونکہ ان کی سپلائی رک چکی ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو نہ جانے ہم کیا کریں گے۔

ہماری طرح کے ہزاروں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نکل گئے ہیں۔ یہاں افواہیں پھیل رہی تھیں کہ خالی گھروں پر یا تو دوسرے لوگ قبضہ کر رہے ہیں اور یا پھر انہیں لوٹا جا رہا ہے۔ میں بھی اپنے گھر کا جائزہ لینے کے لیے واپس گیا تھا۔ میری بہن، جو کہ آج کل ہماری والدہ کے ساتھ رہ رہی ہے، وہ بھی اپنے گھر کی حالت دیکھنے گئی تو اسے اپنا گھر مکمل طور پر تباہ شدہ ملا۔ کم از کم میرا گھر ابھی تک اپنی جگہ کھڑا ہے۔

وویک نے کیا دیکھا
بی بی سی کے وویک راج نے لبنان میں کیا دیکھا
انڈین خاتون’شوہر وہیں ہیں‘
لبنان سے لوٹیں انڈین خاتون کے تاثرات
لوگوں کی کہانیاںلوگوں کی کہانیاں
’بیروت، وہ شہر جو کبھی ہار نہیں مانے گا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد