BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 July, 2006, 13:52 GMT 18:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بیروت، وہ شہر جو کبھی ہار نہیں مانے گا‘
لبنان اور اسرائیل میں عام لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد خطے میں جاری جنگ سے پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ ان میں سے کچھ کی کہانیاں ہیں۔



مارک ویکڈ، ڈیریفارم کے مالک، لبنان
’ کل صبح تین بجے ہماری ڈیری فیکٹری پر پانچ سے چھ میزائلوں سے حملہ ہوا اور ڈیری پلانٹ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

حملے کا مقصد لبنان کی صنعت کو نقصان پہنچانا تھا۔ ہمارے ڈیری پلانٹ سے پورے علاقے میں دودھ سپلائی کیا جاتا تھا۔ نہ جانے اس پلانٹ کو نشانہ کیوں بنایا گیا ہے۔

میرے پاس لبنان کے علاوہ برطانوی شہریت بھی ہے لیکن میں اس ملک کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔

میں پچھلے دس سال سے اس پلانٹ پر محنت کر رہا تھا اور یہ کاروبار بہت کامیابی سے چل رہا تھا۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم یہاں رہ کر جو کچھ تباہ ہو چکا ہے اس کی از سر نو تعمیر کریں۔

ایسا نہیں ہے کہ ہمیں ان حملوں کا خوف نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ حملے دوبارہ بھی ممکن ہیں لیکن ہمیں کام کرتے رہنا ہے۔ ہمیں ہار مان کر یہاں سے بھاگنا نہیں چاہیے کیوں کہ اگر ہم بھی چلے گئے تو یہاں کون رکے گا؟‘۔


الیزا کوہن، تیبرس، اسرائیل (ایک ماں کی کہانی)
’میرا تعلق تیبرس سے ہے لیکن اب میں یروشلم میں رہ رہتی ہوں۔ میں، میرے شوہر اور ہمارے نو بچے اس عمارت کے سامنے والی عمارت میں رہتے ہیں جس پر ہفتے کے روز ایک راکٹ حملہ ہوا تھا۔

ہم اس سات منزلہ عمارت کی تیسری منزل پر رہتے ہیں۔ ہم سب دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک تمام کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور بچوں کے ہاتھ اور پاؤں زخمی ہو گئے۔ ہم عمارت سے باہر نکل آئے اور جلد ہی ایک بڑی سی ٹیکسی میں اپنے رشتے داروں کی طرف یروشلم آگئے۔

وہاں سے نکلتے وقت اپنی ضرورت کا سامان بھی ساتھ لانے کا موقع نہیں ملا اور میرا خیال ہے کہ ہمیں یہاں ابھی ایک ہفتے سے زائد رکنا پڑے گا۔

یہ ایک بہت بڑا دھچکہ تھا۔ ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔ سب بہت پریشان ہیں۔

لیکن کوئی بھی یہودیوں کو ختم نہیں کر سکتا کیوں کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔‘


گیبی بیرام، کنسلٹنٹ، بیروت، لبنان
’میں نے بیروت میں لوگوں کی مدد کے لیے ایک چیریٹی قائم کی ہے۔

دراصل میرے ایک دوست کی والدہ نے ایک پوسٹر بنایا جس پر یہ الفاظ تحریر تھے کہ ’بیروت، وہ شہر جو کبھی ہار نہیں مانے گا‘۔ یہ پوسٹر دیکھ کر میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس تحریر کے ساتھ ایک ٹی شرٹ بنائی جائے۔ پھر میرے ایک دوست کی کال آئی اور اس نے مجھے کھانے پینے کی اشیاء کے پارسلوں کا انتظام کرنے سے متعلق مشورہ دیا اور اس طرح یہ سب شروع ہوا۔

میں نے ان ٹی شرٹس، ایپرنز اور مگز کو فروخت کرنے کے لیے ایک آن لائن سٹور بنا رکھا ہے۔ اس سے جو کمائی ہوگی وہ تمام رقم ان امدادی اداروں کو جائے گی جو دھماکوں میں متاثر ہونے والے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔

پھل اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور گوشت کی بہت کمی ہے۔

کھانے پینے کی بیشتر اشیاء بکا وادی سے آتی ہیں اور وہاں سے آنے والی سڑکیں بمباری کی وجہ سے تباہ ہو چکی ہیں۔ ملک میں خوراک تو موجود ہے لیکن اس کی رسد کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

میرا تعلق بیروت میں حمرا ڈسٹرکٹ سے ہے۔ یہ ایک عیسائی علاقہ ہے۔ یہاں دکانیں اب بھی کھلی ہیں اور لوگوں کا رش پچھلے کچھ دنوں کی نسبت قدرے زیادہ ہے۔

تمام غیرملکی واپس لوٹ رہے ہیں۔ میں ایک انٹرنیٹ کیفے میں بیٹھا ہوں اور لوگوں کو یہاں سے جانے سے متعلق باتیں کرتے سن سکتا ہوں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ جب حالات بہتر ہو جائیں گے یا جب وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگیں گے تو وہ واپس لوٹ آئیں گے‘۔

 لوئس آربور جنگی جرائم ہوئے ہیں
اقوامِ متحدہ کی اہلکار کی مشرقِ وسطیٰ پر وارننگ
 لبنانحزب اللہ کا ’جوا‘
حزب اللہ نےاس موقع پر اسرائیل کو کیوں چھیڑا؟
لبنانکہیں کوئی گھرنہیں
بیروت کے شہری کہیں کوئی گھرنہیں ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد