 | | | اسٹرڈ وان جنڈرن سٹورٹ |
لبنان میں موجود امدادی ایجینسیوں کا کہنا ہے کہ انہیں جنوبی لبنان تک امداد پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث وہ مایوسی کا شکار ہیں۔ امدادی سامان کو اردن سے ہوائی جہاز اور شام سے سڑک کے ذریعہ لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ امدادی سامان کو یورپ اور اردن سے قبرص پہنچایا جا رہا ہے اور وہاں سے بحری جہازوں کے ذریعہ ان اشیاء کو بیروت پہنچایا جاتا ہے۔ بیروت سے پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این ایچ سی آر کی ترجمان اسٹرڈ وان جنڈرن سٹارٹ نے پچھلے ایک ہفتے میں ہونے والے امدادی کاموں اور ان میں پیش آنے والی مشکلات کو کچھ اس طرح سے قلم بند کیا ہے۔
 | | | دمشق میں یو این ایچ سی آر کے کارکن ٹرکوں میں سامان لاد رہے ہیں |
یو این ایچ سی آر امان سے امدادی اشیاء اردن کے ملٹری طیاروں سی 130 کے ذریعہ بیروت ہوائی اڈے پہنچانے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ کل تینوں پلوں اور بیروت کے شمال میں ایک اہم راستے کی تباہی کے بعد ہم نے بات چیت کے ذریعہ ان فلائٹوں میں سامان لانے کے لیے جگہ حاصل کرنے کی بہت کوششیں کی ہیں۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ ہمیں دو فلائٹوں میں جگہ مل سکتی ہے ایک پیر کو اور دوسری منگل کی صبح۔ ان میں سے ایک جہاز میں نو ہزار کمبل اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے ادوایات اور اگلے روز دوسری فلائٹ پر تین ہزار چھ سو گدے پہنچائے جانے کا منصوبہ بنایا گیا۔
اس دن کسی بھی جہاز پر جگہ نہیں مل سکی۔
پلوں کے تباہ ہونے کے بعد پہلی مرتبہ اس روز شام کے وقت ایک امدادی کارواں بیروت پہنچا۔ شام میں یو این ایچ سی آر کے پاس یہ ٹرالے اتوار کی صبح سے ہی اس سفر کے لیے تیار کھڑے تھے۔ابھی تک کسی بھی فلائٹ پر جگہ نہیں مل سکی ہے۔
ہم ابھی تک ان فلائٹوں میں جگہ ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم کافی پریشان اور مایوس ہیں کیوں کہ بیروت میں ہمارا گودام دن بہ دن خالی ہوتا جا رہا ہے۔ منگل کے روز جو امداد ٹرکوں کے ذریعہ پہنچی تھی اس سے کچھ آسرا تو ہوا لیکن مزید اشیاء کی شدید کمی ہے۔ آج نو بجے آخر کار اچھی خبر یہ ملی ہے کہ کل صبح مقامی وقت کے مطابق آٹھ بج کر دس منٹ پر ایک جہاز امان سے یہاں پنچے گا۔ اور یہ خبر سن کر ہم نے فوراً تیاری شروع کر دی۔
 | | | سرحد پر امدادی سامان کو اقوام متحدہ کے ٹرکوں پر منتقل کیا جائے گا | ہم صبح آٹھ بجے ائر پورٹ پہنچ گئے اور جہاز ٹھیک آٹھ بج کر دس منٹ پر لینڈ کر گیا اور ایک گھنٹے کے اندر اندر اس پر سے سامان اتار لیا گیا۔لیکن دوسرا جہاز جو دو بج کر دس منٹ پر متوقع تھا بیروت ائرپورٹ پہنچ تو گیا لیکن پھر ائر پورٹ کے اوپر ہی چکر کاٹنے لگا اور حفاطتی اقدامات کے پیش نظر اسے واپس چلے جانے کا حکم دے دیا گیا۔ اس دوران دمشق میں یو این ایچ سی آر کے گودام سے ٹرکوں پر سامان لادا جا رہا تھا۔ یہ سامان آج دوپہر شام اور لبنان کی سرحد تک پہنچ جانا چاہیے تھا جہاں سے اقوام متحدہ کے چھ سے آٹھ ٹرکوں میں منتقل کر کے دوپہر تک بیروت لایا جانا تھا۔ لیکن اسرائیلی حکام کی جانب سے کسی بھی قسم کی کلیرنس نہ ملنے کے باعث دوپہر کو ان ٹرالوں کو دمشق کے گودام پر ہی روک کر رکھنا پڑا۔ آج ایک فلائٹ کوپن ہیگن سے پینتالیس ٹن اشیاء کی سپلائی لے کر لارناکہ، قبرص پہنچنی تھی۔ اس کے علاوہ مزید دو جہاز پینتیس ٹن سامان جس میں خیمے، گدے، چولہے اور لالٹین وغیرہ جیسی اشیاء شامل ہیں لے کر لارناکہ ائرپورٹ پر متوقع تھے۔ اردن سے ایک اور فلائٹ پیر کے روز متوقع ہے۔ اس امدادی سامان کو لارناکہ میں اقوام متحدہ کے بحری جہازوں میں لاد کر اتوار کے روز بیروت کے لیے روانہ کر دیا جائے گا۔
 | | | اردن کے ملٹری طیارے بیروت ائرپورٹ پر امداد پہنچا رہے ہیں | ساری رات بیروت پر شدید بمباری ہوتی رہی۔ دوسرا جہاز امان سے نو بجے پہنچ گیا لیکن سامان کو اتارنے کے لیے منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث کچھ دشواری پیش آئی۔ بالآخر صورت حال پر قابو پا لیا گیا اور ان تین ہزار چھ سو گدوں کو گودام تک پہنچا دیا گیا۔ اس کے علاوہ اگر دمشق سے آنے والے سامان کو اسرائیلی حکام کی جانب سے ہفتے کے دن کے لیے کلیرنس مل جاتی ہے تو کل صبح اقوام متحدہ کے ٹرک سرحد پر جا کر وہ امدادی سامان وصول کر لیں گے۔ شام سے یو این ایچ سی آر کا عملہ بھی وہاں موجود ہو گا جو اس منتقلی کی نگرانی کرے گا اور سرحدی معامالات سے بھی نمٹ لے گا۔ اصولی طور پر تو یہ سامان یو این ایچ سی آر کے بندرگاہ پر واقع گودام پر ہی اتارا جانا چاہیے لیکن اگر سرحد پر سامان کی منتقلی اور باقی معاملات بغیر کسی رکاوٹ کے حل ہو جائیں تو یہ سامان ہفتے کی دوپہر تک بیروت پہنچ جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ ایک فرانسیسی جہاز یو این ایچ سی آر کی امداد کی لبنان میں سپلائی کے لیے پانچ ٹرک لے کر مرسیل کی بندرگاہ سے بیروت کے لیے روانہ ہونے والا ہے۔ ٹرکوں کے علاوہ یہ جہاز کمبل، پلاسٹک رولز، جیری کینز اور کچن کا سامان بھی لے کر آئے گا۔
اسٹرڈ وان جنڈرن سٹارٹ کی اس ڈائری کی اگلی قسط آنے والے دنوں میں شائع کی جائے گی۔ |