BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 July, 2006, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادی قافلے کا سفر، بیروت سے طائر تک

اقوام متحدہ کی سربراہی میں ایک امدادی قافلہ بیروت سے جنوبی لبنان کے شہر طائر کی طرف جا رہا ہے۔ طائر خاص طور پر اسرائیلی حملوں کا نشانہ رہا ہے اور بہت بری طرح متاثر ہوا ہے۔


آٹھ بجے صبح: ’قافلہ تیار ہے‘
جنوبی لبنان کی طرف جانے والا یہ پہلا بڑا امدادی قافلہ ہے۔ یہ قافلہ صبح سویرے بیروت بندر گاہ پر جمع ہوا۔ دس لاریوں میں پچاس ہزار لوگوں کے لیے اگلے تین ماہ کے لیے طبی امداد، کھانے پینے کی اشیا اور ویکسین لادے گئے۔

یہ تنازعہ اب گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے اور امدادی اداروں نے لبنان میں ’سنگین انسانی المیہ‘ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اس امدادی قافلہ کو تیار کرنا بہت مشکل ثابت ہوا ہے۔ اس میں اقوام متحدہ کے علاوہ دیگر کئی امدادی ادارے شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے ساتھ بھی تعاون کیا گیا ہے۔
توقع ہے کہ یہ قافلہ آٹھ گھنٹے میں طائر پہنچ جائے گا اور اس سے مستقبل میں امدادی مشنز کے بارے میں بھی اندازہ ہو جائے گا۔


صبح سوا دس بجے: ’مین روڈ چھوڑنا پڑا‘
قافلے کو سفر کرتے ہوئے اب دو گھنٹے ہو گئے ہیں۔ قافلہ بیروت کے گرد کی پہاڑیوں کو پار کر رہا ہے۔ مین روڈ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے بہت بری حالت میں جس وجہ سے قافلے کو مین روڈ چھوڑنا پڑا ہے۔

لبنان میں اقوام متحدہ کے ترجمان خالد منصور کا کہنا ہےکہ اس قافلے کا استعمال ایک ’ایڈ کاریڈور‘ یا امدادی اشیا پہنچانے کے لیئے ایک محفوظ راستے کی نشاندہی کے لیے کیا جائے گا۔


دوپہر پونے ایک بجے: ’منزل پر پہنچ گئے‘

امدادی قافلہ اب جنوبی شہر طائر پہنچ گیا ہے۔ طبی امداد کا سامان اور کھانے پینے کی اشیا ایک بینک کی تجوری میں رکھی جا رہی ہے۔ سفر بہت لمبا اور مشکل تھا۔

کئی بار قافلہ کو مین روڈ چھوڑنا پڑا، کیونکہ راستے میں آنے والے تقریباً تمام پل اسرائیلی بمباری کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔ جنوبی لبنان سے بہت بڑی تعداد میں لوگ جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے راستے میں کئی دفعہ قافلہ گاڑیوں کے درمیان کچی سڑکوں پر پھنس گیا۔

غاضہ متری’کوئی راستہ نہیں‘
غاضہ متری نے لبنان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔
لوگوں کی کہانیاںلوگوں کی کہانیاں
’کم از کم بیروت میں میرا گھر ابھی کھڑا ہے‘
لوگوں کی کہانیاںلوگوں کی کہانیاں
’بیروت، وہ شہر جو کبھی ہار نہیں مانے گا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد