ایین پینل بی بی سی نیوز، لبنان |  |
اقوام متحدہ کی سربراہی میں ایک امدادی قافلہ بیروت سے جنوبی لبنان کے شہر طائر کی طرف جا رہا ہے۔ طائر خاص طور پر اسرائیلی حملوں کا نشانہ رہا ہے اور بہت بری طرح متاثر ہوا ہے۔
| آٹھ بجے صبح: ’قافلہ تیار ہے‘ | جنوبی لبنان کی طرف جانے والا یہ پہلا بڑا امدادی قافلہ ہے۔ یہ قافلہ صبح سویرے بیروت بندر گاہ پر جمع ہوا۔ دس لاریوں میں پچاس ہزار لوگوں کے لیے اگلے تین ماہ کے لیے طبی امداد، کھانے پینے کی اشیا اور ویکسین لادے گئے۔یہ تنازعہ اب گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے اور امدادی اداروں نے لبنان میں ’سنگین انسانی المیہ‘ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اس امدادی قافلہ کو تیار کرنا بہت مشکل ثابت ہوا ہے۔ اس میں اقوام متحدہ کے علاوہ دیگر کئی امدادی ادارے شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے ساتھ بھی تعاون کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ قافلہ آٹھ گھنٹے میں طائر پہنچ جائے گا اور اس سے مستقبل میں امدادی مشنز کے بارے میں بھی اندازہ ہو جائے گا۔
| صبح سوا دس بجے: ’مین روڈ چھوڑنا پڑا‘ | قافلے کو سفر کرتے ہوئے اب دو گھنٹے ہو گئے ہیں۔ قافلہ بیروت کے گرد کی پہاڑیوں کو پار کر رہا ہے۔ مین روڈ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے بہت بری حالت میں جس وجہ سے قافلے کو مین روڈ چھوڑنا پڑا ہے۔ لبنان میں اقوام متحدہ کے ترجمان خالد منصور کا کہنا ہےکہ اس قافلے کا استعمال ایک ’ایڈ کاریڈور‘ یا امدادی اشیا پہنچانے کے لیئے ایک محفوظ راستے کی نشاندہی کے لیے کیا جائے گا۔
| دوپہر پونے ایک بجے: ’منزل پر پہنچ گئے‘ |
امدادی قافلہ اب جنوبی شہر طائر پہنچ گیا ہے۔ طبی امداد کا سامان اور کھانے پینے کی اشیا ایک بینک کی تجوری میں رکھی جا رہی ہے۔ سفر بہت لمبا اور مشکل تھا۔ کئی بار قافلہ کو مین روڈ چھوڑنا پڑا، کیونکہ راستے میں آنے والے تقریباً تمام پل اسرائیلی بمباری کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔ جنوبی لبنان سے بہت بڑی تعداد میں لوگ جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے راستے میں کئی دفعہ قافلہ گاڑیوں کے درمیان کچی سڑکوں پر پھنس گیا۔ |