لبنان: سوال آپ کے، جواب وسعت اللہ خان کے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان پر بارہ جولائی سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کو چار ہفتے ہونے والے ہیں۔ بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان لبنان میں ہیں جہاں سے وہ اس جنگ کا آنکھوں دیکھا حال بیان کررہے ہیں اور ان کے مراسلے سیربین میں سنے اور بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر پڑھے جاسکتے ہیں۔ نیچے انہوں نے ہمارے پڑھنے اور سننے والوں کے سوالات کے جوابات دیئے ہیں۔
اس جنگ سے اسرائیل کیا نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس کے پورے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
وسعت: نتائج دو طرح کے مرتب ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ نتیجہ بھی نکل سکتا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ پر قابو پالے جیسا کہ وہ چاہتا ہے اور اس علاقے میں انٹرنیشنل فوج آجائے اور جب لبنان نیوٹرالائز کردیا جائے تو شام پر توجہ دی جائے اور اسے بھی نیوٹرالائز کیا جائے اور بقول کنڈولیزا رائس کے جو نیا مشرقِ وسطیٰ ہے وہ جنم لے لے۔ دوسرا اس کا نتیجہ یہ بھی نکل سکتا ہے کہ اگر اسرائیل بغیر اپنے فوجی مقاصد حاصل کیے جنگ بندی پر آمادہ ہوجاتا ہے تو وہاں کے لوگوں کو نفسیاتی طور پر لگے گا کہ یہ پہلا موقعہ ہوگا کہ اسرائیل کے جنم کے بعد سے کہ کسی غیر ریاستی گروہ یا تنظیم نے اسے اتنی مشکل میں ڈالا ہوگا جو ابھی تک کسی عرب ملک کی ریاست بھی اپنے وسائل اور تعداد کے باوجود نہیں کرسکی۔ اگر حزب اللہ کے راکٹ داغنے کی صلاحیت کو ختم کیے بغیر جنگ بندی ہوئی تو اسرائیلیوں کو یہ احساس رہے گا کہ عربوں کو اتنی آسانی سے نہیں مارا جاسکتا۔
کیا یہ جنگ ہمسایہ ممالک تک بھی پھیل سکتی ہے؟
وسعت: دیکھیں ہمسایہ ممالک کون؟ مصر جو ہے، اس کا تو علاقے کا مسئلہ نہیں ہے اور اسرائیل اس کے علاقے کبھی کے واپس کرچکا۔ پھر مصر بری طرح سے امریکی کیمپ میں ہے بلکہ اسرائیل کے بعد اس خطے میں سب سے بڑی امریکی دفاعی اور اقتصادی امداد مصر کو ہی ملتی ہے۔ دوسری سرحد اردن کی ملتی ہے جس میں کبھی بھی اتنی سکت نہیں رہی کہ وہ اسرائیل سے ٹکر لے سکے۔ شاید ایک ہی بار اس نے ٹکر لی ہے انیس سو سڑسٹھ میں۔ تو اردن تو اہم نہیں ہے اور اس کا اسرائیل سے امن معاہدہ بھی ہوچکا۔ باقی شام نے نہ تو اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور پھر اس کا علاقہ بھی اسرائیل کے قبضے میں ہے، گولان ہائیٹس۔ وہ تھیوری کی حد تک تو ٹکر لے سکتا ہے لیکن اب تو سوویت یونین بھی اس کی حمایت کے لیے موجود نہیں ہے۔ تو شام کی بھی کوشش تو یہی ہوگی کہ اگر دامن پر داغ نہ آئے تو اچھا ہے۔ ہاں اگر اس پر جنگ تھوپ دی جاتی ہے تو پھر ظاہر ہے کہ کچھ نہ کچھ تو کرے گا ہی لیکن بہرحال جہاں تک روایتی طاقت کا تعلق ہے تو شام تنہا ہوجانے کی وجہ سے فوجی سطح پر خاصا کمزور ہے۔
عرب لیگ کہاں ہے؟ کیا کررہی ہے اور اگر وہ کچھ کرنا چاہے تو کیا کوئی کردار ادا کرسکتی ہے؟
وسعت: عرب لیگ بہت اچھا کام پہلے بھی کرتی رہی ہے اور آج بھی کررہی ہے کہ وہ مرنے والوں پر فاتحہ پڑھتی ہے۔
کیا اسرائیل اس بار لبنانیوں کی روح کو ختم کرنے میں کامیاب ہوجائے گا؟ وسعت: ایک مقامی شہری سے میری بات ہوئی۔ میں نے اس سے کہا کہ اس بار اسرائیل چڑھا چڑھا سا لگ رہا ہے اور غصے میں بھی ہے تو اس نے کہا ’دیکھیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جو قوم سولہ سال کی خانہ جنگی میں دو لاکھ آدمی مروا کے زندہ رہ سکتی ہے، جو انیس سو بیاسی کا محاصرہ جھیل سکتی ہے، وہ بار بار زخمی تو ہوسکتی ہے لیکن اسے کوئی مار نہیں سکتا۔
کیا اس جنگ کے شروع ہونے سے عربوں میں اسرائیل کے خلاف نفرت بڑھی ہے؟
وسعت: اسرائیل کے بارے میں تو عرببوں کی اکثریت کے جذبات تقریباً یکساں ہی رہے ہیں۔ اصل میں تو امریکہ سے نفرت اور کم نفرت کے گراف میں تبدیلی آتی ہے۔ عرب اب جب اسرائیل سے زیادہ جب ردًِعمل کا اظہار ہو تو امریکہ کی بات کرتے ہیں۔ ان کا ماننا یہ ہے کہ جو کچھ کرتا ہے، امریکہ کرتا ہے۔ ہر اس طرح کے واقعے کے بعد امریکہ سے نفرت بڑھ جاتی ہے۔
لبنان میں تو بہت سے مذاہب ہیں، تو کیا یہ جنگ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی جنگ تصور کی جا رہی ہے؟
وسعت: نہیں، جب خانہ جنگی ہوئی تھی تو اس میں تو ہم سنتے تھے کہ شیعہ ملیشیا، سنی ملیشیا، دروز ملیشیا، عیسائی ملیشیا اور عیسائی ملیشیا میں فلانجسٹ ملیشیا (کے نام)۔ اس میں تھا کہ لبنان فرقوں اور گروہوں میں بٹا ہوا تھا لیکن عجیب بات ہے کہ ان حملوں کے بعد صورتِ حال ایک طرح کی قوم پرستی میں بدل گئی ہے۔ لبنان کی حکومت حزب اللہ کی حمایت کررہی ہے اور اس کی ایک وجہ بھی ہے کہ لبنان کی نہ تو اپنی ائیرپورٹس ہیں، نہ نیوی ہے اور جو فوج ہے، وہ تقرباً پولیس کے کام کرتی ہے، لڑائی کا اس کا کوئی تجربہ ہی نہیں ہے۔ جو واحد گروہ مدافعت کررہا ہے، وہ حزب اللہ ہے۔ تو حزب اللہ اب قوم پرستی کا آئینہ بن گئی ہے۔ اس لیے میں نے جن جن سے بھی بات کی، ان میں سے کوئی بھی حزب اللہ کے خلاف نہیں تھا۔
کیا یہ جنگ دراصل لبنان کی سرزمین پر ایران اور امریکہ کے درمیان لڑی جارہی ہے؟
وسعت: دیکھیے یہاں بیٹھ کر تو یہ بالکل احساس نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ ہر لڑائی میں بیرونی عوامل تو اثرات رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر اسرائیل کے پیچھے امریکہ ہے تو حزب اللہ کے پیچھے ایران ہے اور شام بھی لیکن لڑائی تو یہیں کے لوگوں کو ہی لڑنی پڑتی ہے۔ پھر یہاں کے لوگوں کے اپنے اپنے بھی قوم پرستی کے کچھ مسائل ہیں۔ اس میں اگر ایران اور شام نہ بھی شامل ہوں تو بھی یہ مسئلے رہیں گے۔ مثلاً اسرائیل کا ہمسایہ ہونا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے یہاں کے لوگوں کے لیے، ایک ایسے ملک کے لیے جہاں فوج نہ ہو۔ یا ہر دس سال بعد اس ملک کا کسی نئے چکر میں پھنس جانا ایک شدید مسئلہ ہے۔ تو پیرونی محرکات ایک حد تک تو اثرانداز ہوسکتے ہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صرف ایران یا شام کی جنگ یہاں لڑی جارہی ہے۔
کیا حزب اللہ میں اتنی طاقت بچی ہے کہ اسرائیل سے لڑ سکے؟
وسعت: دیکھئے حزب اللہ اور اسرائیل میں کوئی مقابلہ نہیں، ایک روایتی طاقت ہے اور دوسری چھاپہ مار۔ ہاں یوں مقابلہ ہوسکتا ہے جیسے ویت کانگ تھے اور امریکہ تھا۔ اگر بظاہر دیکھا جائے تو امریکہ کے آگے ویت کانگ کیا چیز ہے۔ تقریباً اسی طرح کی (ویت کانگ جیسی) حکمتِ عملی حزب اللہ نے بھی وضع کررکھی ہے۔ اسرائیل کا یہ دعویٰ اپنی جگہ کہ تقریباً سات سو راکٹ لانچرز تباہ کردیئے گئے ہیں اور اگر حزب اللہ کے صرف دو ہزار لوگ ہیں تو ابھی اور کتنے راکٹ لانچرز حزب اللہ کے پاس ہیں کہ جن روزانہ تقریباً ڈیڑھ سو راکٹ فائر ہورہے ہیں؟ باقی اگر آمنے سامنے آجائیں تو کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے حزب اللہ اور اسرائیل کا۔ لبنان کا کیا حال ہے اور لبنانیوں کا مورال کیسا ہے؟ حزب اللہ کی طاقت کیا ہے اور لبنانیوں میں اس کی کتنی حمایت موجود ہے؟ کیا آپ کے کوئی ایسے سوالات ہیں جو آپ وسعت اللہ خان کو بھیجنا چاہیں تو ہمیں بائیں طرف لگے ای میل فارم کے ذریعے لکھ بھیجیں۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||