BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 July, 2006, 01:34 GMT 06:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئی جواز قابلِ قبول نہیں: چین
اقوام متحدہ
لاشیں نکالنے کے لیئے جانے ولا انڈین دستہ بھی بمباری کی زد میں آیا
چین نے لبنان میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں اپنے ایک فوجی اور اقوام متحدہ کے تین دوسرے مبصروں کی ہلاکت پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔



چین کا کہنا ہے کہ ایک گائیڈڈ میزائیل حملے سے ہونے والی یہ ہلاکتیں ایسی ہیں جن کے لیئے کسی بات کو جواز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل لبنان میں مبصروں کی ہلاکت پر اب تک بیان اس لیئے جاری نہیں کر سکی کہ وہ اس واقعے کے لیئے کیا الفاظ استعمال کرے جسے اسرائیل کے وزیراعظم ایہود المرت نے ایک غلطی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کے چار مبصرین کی ہلاکت کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے اور اقوامِ متحدہ کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق منگل کو ہلاک ہونے والے مبصرین پر چھ گھنٹے تک بمباری کے بعد گائیڈڈ میزائل سے حملہ کیا گیا۔

الفاظ نہیں مل رہے
 اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل لبنان میں مبصروں کی ہلاکت پر اب تک بیان اس لیئے جاری نہیں کر سکی کہ وہ اس واقعے کے لیئے کیا الفاظ استعمال کرے جسے اسرائیل کے وزیراعظم ایہود المرت نے ایک غلطی کا نتیجہ قرار دیا ہے

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے انکشاف کیا ہے کہ ان حملوں کے دوران اسرائیلی فوج سے دس مرتبہ حملہ روکنے کے لیئے کہا گیا تھا لیکن مسلسل رابطے میں ہونے کے باوجود حملے روکے نہیں گئے۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ’ہمارے جنرل، فوجی اور وہاں موجود افراد اسرائیلی فوج کو مسلسل خبردار کر رہے تھے کہ احتیاط برتیں کیونکہ وہاں ہمارے لوگ موجود ہیں۔ ہمارے لوگوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ایسی درخواستیں بارہا کی گئیں یہاں تک یہ واقعہ ہوگیا‘۔

اقوام متحدہ کے یہ مبصر جن کا تعلق چین، فن لینڈ، کینیڈا اور آسٹریا سے تھا، خیام نامی قصبے کے پاس واقع ایک چوکی پر تعینات تھے اور جب حملے شدید ہوئے تو وہ پناہ لینے کے لیئے ایک پناہ گاہ میں چلے گئے جہاں انہیں ایک میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

ان مبصرین کا تعلق ’آبزرور گروپ لبنان‘ سے تھا۔ اس گروپ کی تشکیل اقوام متحدہ کی 1948 کی قراردادوں کے تحت کی گئی تھی۔ لبنان میں اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ مبصرین کی چوکی کے قریب دن بھر میں چودہ مرتبہ گولہ باری کی گئی جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ چوکی ہی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

جب چوکی اور اس کی ٹیم بمباری کا نشانہ بن گئی تو ایک انڈین دستے کو ملبہ ہٹانے کے لیئے بھیجا گیا لیکن یہ دستہ بھی اس وقت بمباری کی زد میں آ گیا جب کھدائی کر رہا تھا۔

’روٹ کاز کیا ہے؟‘’روٹ کاز کیا ہے؟‘
دونوں طرف بد اعتمادی، خوف اور نفرتیں
جنگ پر روم اجلاس
زیادہ توقع ممالک کی آراء منقسم ہونے کی ہے
امداد کی جدوجہد
لبنان میں متاثرین تک امداد پہنچانے کی جنگ
بے قصور آٹھ لاکھ
بنیادی ضرورتوں سے محروم آٹھ لاکھ شہری
لبنان ہی میں رہیں
سری لنکن حکومت کا شہریوں کو مشورہ
اسی بارے میں
’روٹ کاز کیا ہے؟‘
26 July, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد