BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 July, 2006, 09:28 GMT 14:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہمیں دنیا سے اجازت مل گئی ہے‘
طائر کے باشندے
طائر کے باشندوں نے اسرائیلی بمباری کے بعد نقل مکانی شروع کر دی ہے
اسرائیلی وزیرِ قانون کا کہنا ہے کہ روم میں منعقدہ اجلاس میں جنگ بندی کے کسی مطالبے کے سامنے نہ آنے سے اسرائیل کی مہم کوگرین سگنل مل گیا ہے۔

اسرائیلی فوجی ریڈیو پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’ گزشتہ روز روم میں دراصل ہمیں اس امر کی اجازت مل گئی کہ ہم اس وقت تک اپنا آپریشن جاری رکھیں جب تک جنوبی لبنان سے حزب اللہ کا صفایا نہیں ہو جاتا‘۔

حائم رامن کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا جانتی ہے کہ حزب اللہ کی فتح عالمی دہشتگردی کی فتح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیئے ضروری ہے کہ اسرائیلی فضائیہ پہلے اس علاقے پر بمباری کرے جہاں زمینی فوج نے پیش قدمی کرنی ہو۔ اسرائیلی وزیرِ قانون نے کہا کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے باشندوں کو علاقہ چھوڑرنے کے لیئے کافی وقت دیا اور اب وہاں جو بھی ہے وہ حزب اللہ کا حامی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ لبنان میں حملوں میں ہلاک ہونے والے 437افراد میں زیادہ تر شہری ہیں۔اٹھارہ شہریوں سمیت 41 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

لبنان کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں 58 کی شاخت نہیں ہو سکی ہے جبکہ 1,788 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ حزب اللہ نے اپنے تیس افراد کی ہلاکت جبکہ شیعہ تنظیم العمل نے اپنے پندرہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ کوئی سات سو کے قریب افراد جن میں تین سو بچے بھی شامل ہیں، بیت جبیل کے ایک گاؤں بلدیہ میں ملے جو وہاں کی ایک مسجد میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں شدید لڑائی جاری ہے۔ دوسرے دیہاتوں میں کھانے پینے کا اشیاء ختم ہو گئی ہیں اور لوگ انتہائی خوف زدہ ہیں۔ بہت سے لوگ ابھی بھی ملبے تک دبے ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے بیروت کے شمال میں ریڈیو سٹیشن کو بھی تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ذرائع کے مطابق لبنان کے مشرقی حصےمیں حملوں میں تین ڈرائیور ہلاک ہوئے ہیں۔ جنگی جہازوں نے جنوب میں شیعہ اکثریتی علاقے پر میزائل حملے کیے ہیں جن میں ایک موٹر سائیکل سوار ہلاک ہو گیا ہے۔

جمعرات کو اسرائیلی جنگی طیاروں نے بیروت کے شمال میں ایک فوجی اڈے اور ریڈیو ریلے سٹیشن پر بمباری کی ہے۔جنوبی لبنان میں بنتِ جبیل کے اردگرد بھی لڑائی جاری ہے اور اسرائیلی فوج تاحال قصبے کا کنٹرول حاصل نہیں کر سکی ہے۔ اسی علاقے میں بدھ کو نو اسرائیلی فوجی حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے تھے۔

حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور بدھ کو اسرائیلی علاقوں پر 150 سے زائد راکٹ فائر کیئے گئے۔

 گزشتہ روز روم میں دراصل ہمیں اس امر کی اجازت مل گئی کہ ہم اس وقت تک اپنا آپریشن جاری رکھیں جب تک جنوبی لبنان سے حزب اللہ کا صفایا نہیں ہو جاتا۔
حائم رامن

طائر سے بی بی سی کے نامہ نگار جم میوئر کا کہنا ہے کہ جمعرات کو شہر کے مضافات میں بمباری کی گئی ہے جبکہ بدھ کو شہر میں ایک چھ منزلہ عمارت کی بمباری سے تباہی کے بعد لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیل کو حزب اللہ کی جانب سے امید سے زیادہ مزاحمت کا سامنا ہے اور ایک سینیئر اسرائیلی جنرل کا کہنا ہے کہ’ یہ لڑائی مزید کئی ہفتوں تک چل سکتی ہے‘۔ اسرائیلی شمالی کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل عدی آدم کا کہنا تھا کہ’میرے خیال میں یہ سب متعدد ہفتوں تک جاری رہے گا اور تب ہی ہم فتح حاصل کر سکیں گے‘۔

ایک زخمی اسرائیلی فوجی کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے

ادھر آسٹریلیا نے اسرائیلی بمباری سے اقوامِ متحدہ کے چار مبصرین کی ہلاکت کے بعد لبنان میں موجود امن فوج میں شامل اپنے بارہ فوجی واپس بلا لیئے ہیں۔آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ نے آسیان اجلاس کے دوران ایک پریس کانفرنس میں مشرقِ وسطٰی میں جاری بحران اور لبنان میں جنگی صورتحال کے پیشِ نظر علاقے میں امن فوج بھیجنے کی تجویز کو’خودکشی‘ قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کو روم میں مشرقِ وسطٰی کے بحران پر ہونے والے مذاکرات میں شریک ممالک نے جنوبی لبنان میں ایک بین الاقوامی امن فوج پھیجنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم اس فوج کی روانگی کے شیڈول پر کوئی بات نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی اس اجلاس میں شریک ممالک فوری جنگ بندی کے مطالبے پر متفق ہو پائے تھے۔

دو ہفتے قبل شروع ہونے والی اس لڑائی میں اب تک چار سو سے زیادہ لبنانی اور اکیاون اسرائیلی مارے جا چکے ہیں۔

دریں اثناء علاقائی سکیورٹی پر ہونے والی بات چیت میں شرکت کے لیئے ملائیشیا پہنچنے پر امریکی وزیرِ خارجہ کو مشرقِ وسطٰی کے حوالے سے مزید مظاہروں کا سامنا ہے۔ ان کی ملائیشیا آمد پر بھی درجنوں افراد نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔

’روٹ کاز کیا ہے؟‘’روٹ کاز کیا ہے؟‘
دونوں طرف بد اعتمادی، خوف اور نفرتیں
قیدی کون ہیں
مشرق وسطی تنازعے کے قیدیوں کا احوال
انسانی ڈھال انسانی ڈھال کا الزام
اسرائیل فوجیوں پر انسانی ڈھال کا الزام
بے قصور آٹھ لاکھ
بنیادی ضرورتوں سے محروم آٹھ لاکھ شہری
اسی بارے میں
لبنان وڈیو بلیٹن
25 July, 2006 | آس پاس
لبنان کی تباہی کی ویڈیو
20 July, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد