BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طائر میں کہانیاں جمع ہو رہی ہیں

جنوبی پہاڑوں پر سے اٹھتا ہوا دھواں
اسرائیلی حملوں سے طائر کے آس پاس کے دیہات تباہ ہو گئے ہیں۔
لبنان کے جنوب میں واقع بندرگاہ طائر میں اسرائیلی بمباری انتہائی جارحانہ ہے۔ لبنان کا ساحل اسرائیلی ساحل سے نقورا کے مقام پر ملتا ہے۔ یہاں سے نقورا اور اس فونیشیائی شہر سے بیس سے تیس کلومیٹر مشرق میں کمان کی شکل میں پھیلا پہاڑی علاقہ نظر آتا ہے۔

طائر ریسٹ ہاؤس میں عرب اور بین الآقوامی میڈیا کے لوگ رہتے ہیں۔ علاقے میں دن رات ہونے والے دھماکوں کی گرج سے طائر ریسٹ ہاؤس کی کھڑکیاں اور دروازے لرزتے رہتے ہیں اور آگ کے گولے اور دھوئیں کے بادل گرمی کی حدت سے پیدا ہونے والے کہر میں ڈھکے ہوئے پہاڑوں تک اٹھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے ہوائی راکٹ، ہدف پر مار کرنے والے میزائل اور توپوں کی گولے جو کہ یا تو صرف جنوب سے یا درجنوں کی تعداد میں مغربی افق پر گھومنے والے جہازوں سے دعاغے جاتے ہیں۔

طائر کا وسطی علاقہ ان حملوں سے زیادہ تر محفوظ رہتا ہے مگر بدھ کی شام کو کان کے پردے پھاڑنے والے دو دھماکوں نے پورے شہر کی جڑوں تک کو ہلا کر رکھ دیا اور لوگ کسی آڑ کی تلاش میں ہر طرف بھاگنے لگے۔

بدھ کے حملے میں خالی فلیٹس کے اس بلاک کو نشانہ بنایا گیا تھا جہاں پر حزب اللہ فوج کے کارکن رہتے تھے۔ اس حملے سے آس پڑوس کی عمارتوں میں 12 لوگ زخمی ہو گئے جن میں پانچ سال سے کم عمر کے تین بچے بھی شامل ہیں۔

اکثر لوگ پہاڑوں میں واقع دیہاتوں سے ایک ہفتہ پہلے ہی بھاگ چکے تھے اور شہر میں دوستوں اور رشتہ داروں کے پہلے سے بھرے گھروں میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ بدھ کے حملے کے اگلے دن یہ لوگ اور ان کے ساتھ مزید لوگ شہر چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی حملوں کی تباہ کاریاں
بدھ کے حملوں سے طائر کی تباہی نے مزید شہریوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔

لبنان کے چوتھے بڑے ساحلی شہر کی آبادی کا صرف دسواں حصہ شہر میں رہ گیا ہے۔ پیچھے رہنے والوں میں اکثر شمال کا سفر کرنے کے لیے یا تو بہت غریب ہیں یا بہت بیمار۔

دوسری طرف طائر سے حزب اللہ روزانہ راکٹ داغتی رہتی ہے جس کی وجہ سے شہر کے شمالی کناروں پر راکٹوں کے داغی جانے سے بننے والے گڑھوں سے دھوئیں کی لہریں اٹھتی رہتی ہیں۔

حزب اللہ کی جانب سے راکٹ فائر اور سرحدوں کے آس پاس حملے روزانہ ہوتے ہیں۔ بارہ جولائی کو دو اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرنے کی وجہ سے اسرائیل نے جنگ کا آغاز کیا تھا۔ حزب اللہ کے ان حملوں نے علاقے میں دہشت پھیلا دی ہے اور شمالی اسرائیل کے شہروں کے گلیاں خالی ہوگئیں۔

مگر جنوبی لبنان کی آبادی سے وجود میں آنے والی حزب اللہ جیسی گوریلا آرمی کے مقابلے میں طائر پر اسرائیلی حملے اس کی کمزوری ظاہر کرتے ہیں۔

اسرائیلی جہازوں سے پھینکے جانے والے میزائیلوں کو ہدف پر پہنچنے میں بارہ منٹ لگ جاتے ہیں جو کہ راکٹ فائر کرنے والے متحرک عملے کے وہاں سے فرار ہونے کے لیے کافی وقت ہے۔

اسرائیلی رہنما حزب اللہ کی جانب سے فائر ہونے والے راکٹوں کے اندھا دھند حملوں پر بہت زور دیتے ہیں۔ اسرائیلی اس بات پر مصر ہیں کہ وہ حزب اللہ کے مورچوں اور سپلائی لائنز کو نشانہ بنا رہے ہیں تاہم بمباری اور ہائی ٹیک اسلحے کے حملوں میں زیادہ تر لبنانی شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

طائر کے لوگوں کو سروں پر منڈلانے والے جہازوں کی آوازیں چند کلومیٹر پر ہونے والی شیلنگ سے زیادہ خوفزدہ کرتی ہیں کیوں کہ یہ جہاز اسرائیل کے لیئے ممکنہ اہداف کی نشاندھی کرتے ہیں۔

طبی افسروں کے مطابق جو زخمی لائے گئے ہیں ان میں سے اکثر جنوبی دیہاتوں کے رہنے والے وہ لوگ ہیں جن پر بھاگنے کی کوشش کے دوران سڑکوں پر حملہ کیا گیا۔ دیہاتوں میں زخمیوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے کیوں کہ ایمبیولینس کے عملے کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس ہفتے ایک ایک منٹ کے وقفے سے دو ایمبیولینس پر حملہ کیا گیا۔ ان میں سے ایک حملے میں ہلالِ احمر کی ایمبیولینس کو نشانہ بنایا گیا۔

ایک مبصر کے مطابق ان بے تکے اسرائیلی حملوں نے جنوب میں سڑکوں کو بہت خطرناک بنا دیا ہے۔ بہت حد تک ممکن ہے کہ اسرائیل فرار ہونے کے لیے جنوب کی جانب جاتی ہوئی گاڑیوں کو میدانِ جنگ کی طرف بڑھنے والے حزب اللہ کے سپاہی سمجھتا ہے۔

ایک ماں اور اس کی بچی مدد کے انتظار میں
ہزاروں پناہ گزین خطرے سے دور بھاگ رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ صرف چند ایک کے سوا صحافی وسطی طائر کے تحفظ کو چھوڑ کر دور کے دیہاتوں میں نہیں جاتے اور اس علاقے کے نزدیک تو بالکل بھی نہیں جاتے جہاں حزب اللہ اور اسرائیلی فوجیوں میں گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے تاہم ذرائع ابلاغ کے لوگ طائر میں سے گزرتے ہزاروں پناہ گزینوں سے کہانیاں جمع کر رہے ہیں۔

ان سب کی کہانیاں سنانا تو ممکن نہیں مگر ان سب میں کچھ باتیں مشترک ہیں: ان کے دیہاتوں کی تباہی، کئی دنوں تک کسی قسم کی امداد کے بغیر پھنسے رہنا اور تحفظ کے لیے ایک پر خوف دوڑ۔

اسرائیلی فوجیحملوں کا سترہوان دن
لڑائی جاری، نقصان کے اندازے، عالمی رد عمل
’روٹ کاز کیا ہے؟‘’روٹ کاز کیا ہے؟‘
دونوں طرف بد اعتمادی، خوف اور نفرتیں
امداد کی جدوجہد
لبنان میں متاثرین تک امداد پہنچانے کی جنگ
بے قصور آٹھ لاکھ
بنیادی ضرورتوں سے محروم آٹھ لاکھ شہری
لبنان ہی میں رہیں
سری لنکن حکومت کا شہریوں کو مشورہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد