وسعت اللہ: دمشق سے بیروت تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان پر بارہ جولائی سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کا سترہواں دن ہے۔ بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان اب بیروت میں ہیں۔ وہ دمشق سے بیروت کیسے پہنچے اور پہنچنے تک انہوں نے کیا کیا دیکھا۔ اس کی درج ذیل تفصیل انہوں نے اپنے پہلے مراسلے میں بھیجی ہے۔ ’مثنا کی سرحدی چیک پوسٹ پر جو لبنان اور شام کی مشترکہ سرحد ہے وہاں تک تو ٹریفک اچھا خاصا تھا لیکن جیسے ہی ہم نے لبنان کی سرحد عبور کی تو پہلے سرحدی قصبے سے لے کر بیروت کی مضافات تک یوں لگ رہا تھا کہ جیسے گھروں، لوگوں اور پہاڑیوں سب کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ شام کی طرف تو لبنانی خاندانوں سے بھری ہوئی بی ایم ڈبلیواور مرسیڈیز گاڑیاں جاتی دکھائی دیں لیکن شام سے بیروت جانے والے راستوں پر ایسا لگ رہا تھا کہ صرف ہم ہی ہم ہیں۔ اسرائیلیوں نے خوب خوف پیدا کیا ہے طاق طاق کر نشانے لگائے ہیں۔ مثال کے طور پر راستے میں دو مسافر بسیں اور متحدہ عرب امارات سے خوراک لانے والا ایک بڑا ٹرالر تین ٹرک اور ایک کار لیزر گائیڈڈ بموں کے حملے کا ایسے نشانہ بنی ہوئی تھیں جیسے کسی دیو نے انہیں توڑ مروڑ کے پھینک دیا ہو۔ ایک جگہ تباہ شدہ گاڑیوں کی تصویر بنانی چاہی تو میرے ڈرائیور نے خوف سے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ لبنانیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت خوش قلب اور گپ شپ کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔
ایک قصبے میں جو لبنان کے سابق صدر الیاس سارقس کا آبائی گاؤں ہے وہاں سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ صرف ایک پھل والے کی دکان ہی کھلی ہوئی تھی جس پر دو تین لبنانی کھڑے تھے۔ ان میں سے صرف ایک کو تھوڑی بہت انگریزی آتی تھی اس سے جب میں نے پوچھا کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں تو اس نے بتایا کہ ہم نے اٹھارہ سال کی خانہ جنگی بھی دیکھی ہے۔ سن انیس سو بیاسی میں بھی اسرائیل نے اسی طرح سے قتل عام کیا تھا اور اب دوبارہ اپنے ملک کو ٹوٹتا دیکھ رہے ہیں جس سے ہم نہیں مریں گے بلکہ اسے بھی جھیل جائیں گے۔ میں نے محسوس کیا کہ لوگوں میں اس قسم کا مورال موجود ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہ رہا ہوں کہ دمشق سے لانے والے ٹیکسی ڈرائیور جب مجھے بیروت کے لبنانی ڈرائیور کے حوالے کر کے چلا گیا تو اس لبنانی ٹیکسی ڈرائیور نے کہا کہ اگر تم مجھے دس ڈالر دو تو میں تمہیں ایسے ہوٹل میں لے جاؤں گا جہاں خانہ جنگی کے زمانے میں بھی ایک گولہ نہیں گرا۔ میں نے ظاہر ہے کہ دس ڈالر پیشگی نکال کر دیئے اور اس وقت میرا جو کمرا ہے اس کے سامنے بحیرہ روم ہے جہاں دور ایک لگژری لائنر کھڑا ہے اور کچھ فاصلے پر دو چھوٹے چھوٹے جہاز بھی ہیں جن کے بارے میں ہوٹل والوں کا کہنا تھا کہ یہ چھوٹے جہاز اسرائیلی گن بوٹس ہیں جو چکر لگاتی رہتی ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے کوئی گولہ نہیں پھینکا ہے۔ اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ لوگ کن حالات میں رہ رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’لبنان: ایک سو تیس اہداف پر حملہ‘28 July, 2006 | آس پاس بنت جبیل: حزب اللہ کا گڑھ 28 July, 2006 | آس پاس اسرائیلی دعوے، امریکہ کا ’شدید غصہ‘28 July, 2006 | آس پاس مشرقِ وسطٰی میں تباہی، کیمرے کی آنکھ سے26 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||