BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی دعوے، امریکہ کا ’شدید غصہ‘
جنوبی لبنان کے قصبے نتابیہ کے قریب اسرائیل نے کئی تازہ فضائی حملے کیے ہیں جن میں اردن کا ایک باشندہ ہلاک جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
امریکی دفتر خارجہ نے اسرائیل کے اس بیان پر ’شدید غصے‘ کا اظہار کیا ہے کہ دنیا نے اسے لبنان پر بمباری جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ایڈم اریلی نے کہا: ’ امریکہ اس تنازعہ کے دیرپا تصفیہ کے لیئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔‘


یاد رہے کہ دو دن قبل جب روم میں بڑی طاقتوں نے فوری فائر بندی کے لیئے واضح مطالبہ نہیں کیا تواسرائیلی وزیر قانون ہائم رامون نے اس کے یہ معنی لیئے تھے کہ دنیا نے اسرائیل کو بمباری جاری رکھنے کی اجازت دیدی ہے۔

ادھر برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر بات چیت کے لیے واشنگٹن پہنچ رہے ہیں۔ امریکی صدر کے ساتھ ان کی ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ اور برطانیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ان آوازوں کا ساتھ دیں جو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فوری فائر بندی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

اپنے وزیر قانون کے بیان کے بعد سے اسرائیل لبنان پر درجنوں نئے حملے کر چکا ہے جن میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جمعہ کے روز جنوبی لبنان میں جاری لڑائی سے فرار ہونے والے عام شہریوں کی گاڑیوں کے ایک قافلے دو اسرائیلی مارٹر شیلوں کا نشانہ بن گیا۔ قافلے کے ساتھ سفر کر رہے بی بی سی نامہ نگار ٹم مائر نے بتایا کہ اس حملے میں ایک گاڑی کا ڈرائیور اور ایک کیمرہ مین زخمی ہوئے۔ اس قافلے کا بندوبست لبنان میں آسٹریلیا کے سفارتخانے نے کیا تھا اور یہ اسرائیلی حملوں میں گھرے ہوئے سرحدی گاؤں ’رمیش‘ کے رہائشیوں کو ساحلی شہر طائر کی طرف لے کر جا رہا تھا۔

بدھ کو روم میں ہونے والی بات چیت میں اگرچہ امریکہ، برطانیہ اور علاقائی ملکوں نے ’جلد از جلد‘ امن قائم پر زور دیا تھا لیکن انہوں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ اس پر اسرائیلی وزیر قانون نے کہا تھا کہ اسرائیل کو’دنیا سے یہ اجازت مل چکی ہے کہ وہ اپنی کارروائی جاری رکھے۔‘

لیکن جب کوالالمپور میں ایک کانفرس میں شریک امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان سے صحافیوں نے اس اسرائیلی تشریح کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا ’ یہ احمقانہ بات ہے۔‘

امریکہ کا کہنا ہے کہ فائر بندی کا کوئی فائدہ اسی صورت میں ہے کہ جب اسے طویل عرصے کے لیے برقرار رکھا جائے۔جمعرات کی شام صدر بُش نے یہ بات پھر دہرائی کہ امریکہ ’نام نہاد امن‘ کو تسلیم نہیں کرے گا۔


تاہم بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار نِک چائلڈ کا کہنا ہے کہ صدر بش نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وہ بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر کس قدر پریشان ہیں۔اس سے شاید اندازہ ہوتا ہے کہ صدر بُش کو اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ قربت کی کیا قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

گزشتہ سترہ دن سے جاری حملوں میں اب تک اگرچہ چھ سو لبنانیوں کے ہلاک ہو جانے کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں بہت بڑی اکثریت عام شہریوں کی ہے، لیکن ایک لبنانی وزیر کا کہنا ہے کہ بےشمار مزید لاشیں ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔

جمعرات کو لبنان کی حکومت میں وزیر صحت نے اندازً بتایا کہ بارہ جولائی سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں چھ سو تک شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اندازہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک تہائی ابھی تک ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔

ادھراسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ کے راکٹوں سے اکاون اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں تینتیس فوجی اور اٹھارہ عام شہری شامل ہیں۔

جنوبی لبنان کے قصبے نتابیہ کے قریب اسرائیل نے کئی تازہ فضائی حملے کیے ہیں جن میں اردن کا ایک باشندہ ہلاک جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ انہی حملوں میں ایک خاوند اور اسکی بیوی بھی ہلاک ہو گئے جبکہ کم از کم تین بچے زخمی ہوگئے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فضائیہ نےنتابیہ سے مشرق میں واقع وادی بقاء کے دیہاتوں پر بھی بمباری کی اور ارد گرد کی سڑکوں کو بھی اڑا دیا۔

بنت جبیل میں ، جہاں بدھ کے روز اسرائیلی کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا، ابھی تک اسرائیلی فوجوں اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

اس دوران شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کے راکٹ حملے بھی جا رہے ہیں تاہم کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

دریں اثناء اردن کی فضائیہ کا ایک مال بردار ہوائی جہاز امدادی سامان لے کر بیروت میں اتر چکا ہے۔ یہ جہاز ان پہلی پروازوں میں سے جسے بیروت کے ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت ملی ہے۔ ائر پورٹ کی ہوائی پٹی (ائر سٹرپ) کواسرائیلی فضائیہ نے اپنے حملوں کے ابتدائی دنوں میں ہی نشانہ بنا دیا تھا۔

یروشلم میں بی بی سی کی نامہ نگار کاتیہ ایڈلر کے مطابق اسرائیل میں اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا کہنا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو بےاثر کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس زیادہ تر کا کہنا ہے کہ اسرائیل ’محفوظ پٹی یازون‘ بنا سکتا ہے جو کہ حزب اللہ کے سے پاک ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد