BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 July, 2006, 09:57 GMT 14:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ: اسرائیلی حملے، مزید5 ہلاک
اسرائیلی فوجی
جمعرات کو ایک لڑکا اسرائیلی گولیوں سے اس وقت مارا گیا جب وہ گھر کی چھت پر کھڑا تھا۔
اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں پانچ فلسطینیوں کو مار دیا ہے جن میں ایک پچہتر سالہ خاتون بھی شامل ہیں۔گزشتہ روز بھی اسرائیلی فوج نے تئیس فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

جون کے آخری ہفتے میں ایک اسرائیلی فوجی کے قبضے میں لیے جانے کے بعد سے اسرائیل نے غزہ پر فضائی اور زمینی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فلسطینی حکام نے بتایا ہے کہ مذکورہ ضعیف خاتون اس وقت ہلاک ہوئیں جب غزہ میں جبالیہ کے کیمپ کے نزدیک ان کے گھر پر اسرائیلی بم گرا اور اس کے ٹکڑے خاتون کو لگے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے غزہ شہر کے مشرقی حصے پر کئی میزائل پھینکے جس سے حماس کا ایک جنگجو ہلاک ہو گیا جبکہ کئی دیگر لوگ زخمی ہوئے۔

اے پی نے فلسطینی حکام کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ جمعرات کو ایک لڑکا اسرائیلی گولیوں سے اس وقت مارا گیا جب وہ جبالیہ میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑا تھا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ غزہ میں مارے جانے والے دوسرے دو افراد جنگجو تھے یا عام شہری۔

اسرائیل کے حالیہ حملوں میں اب تک ایک سو چالیس سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

دریں اثناء یورپی یونین نے فلسطینیوں کو اکاون ملین ڈالر مالی امداد دی ہے جس کا زیادہ تر حصہ صحت عامہ سے منسلک ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں خرچ ہوگا۔

یورپی یونین کے حکام نےاے ایف پی کو بتایا ہے کہ اکاون ملین ڈالر کی یہ امداد یونین کی طرف سے دی جانے والی مالی امداد کی تیسری قسط ہے۔ حکام کے مطابق اس کا مقصد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی ہے اور یہ رقم حماس حکومت کو نہیں بلکہ براہ راست ملازمین کو دی جا رہی ہے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کے دفتر کے مطابق امداد کی یہ ’معمولی‘ قسط براہ راست صحت عامہ سے متعلق تیرہ ہزار ملازمین کے ذاتی کھاتوں میں جمع کرائی جائے گی۔

یورپی یونین فلسطینیوں کو امداد دینے والا سب سے بڑا ادارہ ہے تاہم ادارے نے اپنی زیادہ تر امداد اس سال اُس وقت معطل کردی تھی جب حماس حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور تشدد کی کھل کر مخالفت نہیں کی۔

واضح رہے کہ تقریباً دس لاکھ فلسطینیوں کی زندگی کا دار ومدار فلسطینی انتظامیہ کے ایک لاکھ ساٹھ ہزار ملازمین کی تنخواہوں پر ہے، دوسرے الفاظ میں غرب اردن اور غزہ کی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی کا انحصار ان ملازمین کی تنخواہوں پر ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد