لبنان اسرائیل جنگ پھیلنے کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور لبنان میں انیس سو پچہتر سے وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے بحرانوں کی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ وہ آج کل مشرق وسطی کے جاری تنازعے پرجنوبی لبنان کی بندرگاہ طائر سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دو قسطوں کے سلسلے کی اس دوسری تحریر میں وہ موجودہ تناؤ کا ماضی کے بحرانوں سے موازنہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ تشدد کی کارروائیوں کا سلسلہ بھی اسی انداز میں شروع ہوا تھا جیسے کہ 1996 کی گریپس آف رتھ کی بمباری، جو اتنی شدید نہیں تھی جتنی کہ حالیہ حملے ہیں۔ اس وقت جو بڑا فرق نظر آتا ہے وہ یہ کہ اسرائیل کو واشنگٹن کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے جس نے اسے اس معاملے میں فری ہینڈ دے رکھا ہے جبکہ سابقہ امریکی حکومتوں نے اسرائیل سے دفاعی اشتراک ہونے کے باوجود کسی حد تک خود کو ابتدائی تنازعوں سے دور رکھا مگر اس وقت امریکی صدر جارج بش نے بلا تردد اسرائیل کے حملے کے جواز کو تسلیم کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک جنگ بندی نہیں کی جائے گی جب تک کہ اس لڑائی کی اصل جڑ یعنی حزب اللہ کو ختم نہیں کر دیا جائے۔ اسرائیل حملے روکنے کے لیے اس وقت تک کوئی دباؤ قبول نہیں کرے گا جب تک حزب اللہ یا تو تباہ یا ختم نہیں ہوجاتی۔ واشنگٹن میں بیٹھے طاقت کے استعمال پر یقین رکھنے والے ’جدید کنزرویٹو’ نظریے کے حامی گروپ کے مطابق لبنان کی تباہی بھی عراق میں انسانی جانوں کے ضیاع کی طرح نئے مشرق وسطیٰ کے جنم کے لیے پیشگی پیش آنے والی تکالیف کا حصہ ہیں۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ وہ اپنے حلیف امریکہ کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ لڑ رہا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ حزب اللہ کو تباہ کر دے یا کم از کم اسے غیرمسلح کرکے اسرائیل پر میزائل داغنے کی پہنچ سے دور کر دے۔ حالیے حملے 1996 کے گریپس آف رتھ سے بہت مختلف ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل حزب اللہ کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں اور نہ ہی وہ حزب اللہ کی پشت پناہی کرنے والے ممالک شام اور ایران سے سوائے بظاہر کسی شرائط نامے میں شرکت کرنے کے، اس معاملے میں مداخلت نہیں چاہتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے لیے اس لڑائی پر کوئی سمجھوتہ حزب اللہ کی شکست اور اس کے ساتھیوں شام اور ایران کی بے عزتی پر ہی قابل قبول ہو گا۔
اگر تیزی سے تنہا ہوتے امریکہ اور اس کا کسی حد تک ساتھ دینے والے برطانیہ نے اسرائیل کی اسی طرح سے حمایت اور پشت پناہی جاری رکھی تو اس کے نتائج نہ صرف لبنان بلکہ خطے میں بڑے خوفناک نکل سکتے ہیں۔ اسرائیل یوں ہی جنوبی لبنان میں اپنی جنگی مہم کو جاری رکھے گا اور شمال میں مزید آگے انتہائی تباہ کن حملے کیے جائیں گے۔ لبنان میں ملک کے سنی اور شیعہ دھڑے کے آپس میں اتحاد کے اشارے بھی ملے ہیں۔ اگر ان کے اس اتحاد کی پذیرائی کی گئی تو وہ متحد ہو کر امریکہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ بارہ جولائی کو حزب اللہ کے دو اسرائیلی فوجیوں کو قبضے میں لینے کے بعد اس کے اس عمل کی بظاہر جزوی طرو پر غزہ میں حماس حکومت نے حمایت کی ہے، شاید انہوں نے ایسا حزب اللہ کے حمایتی ایران کے اشارے پر کیا ہے۔ چنانچہ سنی اور شیعہ شدت پسند گروہوں کے درمیان تعاون کے بیج اس علاقے میں پہلے ہی سے موجود ہیں اور اسے ایران اور شام کی خوشنودی بھی حاصل ہے۔ یہ بیج خطے کے باقی حصوں میں بھی نمو پا سکتے ہیں۔ اگر لبنان پر جنگ بندی کے سلسلے میں کوئی دباؤ پڑتا ہے تو تہران منطقی طور پر عراق میں موجود اپنے حماتیوں کو متحرک کرنے کا اشارہ کردے گا۔ ایران کے بغداد کی حکومت میں موجود بہت سی شیعہ جماعتوں سے قریبی تعلقات ہیں اور یہ جماعتیں اپنے ہم مذہبوں کی لبنان میں تباہی بھی بغور دیکھ رہی ہیں۔ عراق میں مسلح گروہ مہدی ملیشیا اور ایران میں پنپنے والی تنظیم بدر برئگیڈ کو خطے میں ایک لاکھ بیس ہزار امریکی فوجیوں کی موجوگی کسی طور گوارہ نہیں ہے۔ ایران سے متاثر شیعہ عراقی دھڑے امریکی فوج کے خلاف آپس میں مل کر کاروائیوں کا آغاز کر سکتے ہیں چاہے انہیں سنی مزاحمت کار تنظیموں سے کوئی تعاون ملے یا نہ ملے۔ کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کسی متوازن سمجھوتے سے صرف نظر صرف فتح پر بضد ہیں۔ ایسی صورت میں یہ لڑائی ایک دوہری جنگ میں تبدیل ہوکر اس وقت خطے کے باقی انشتار والے خطوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے سوا دنیا کے دیگر ممالک جنگ بندی اور اس لڑائی کا حل چاہتے ہیں۔ حزب اللہ بھی فوری جنگ بندی اور دو اسرائیلی فوجیوں کے بدلے قیدیوں کے تبادلے پر تیار ہے۔ اس کے بعد دیگر مسا ئل اٹھائے جائیں گے جیسے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا یا اس کے مسلح گروہ کی لبنانی فوج میں شمولیت۔ یہی وہ نکتہ ہے جو حالیہ بحران کے آغاز سےقبل زیر غور تھا۔ اگر لبنان پر موجودہ بمباری اور حملے رک جاسکتے ہیں تو پھر لبنان کے سیاسی منظر نامے میں حزب اللہ پر طویل المدتی استحکام کے لیے مختلف اقدام اٹھانے کے لیے شدید دباؤ ہو گا جیسے لبنانی فوج کی لبنان اسرائیل سرحد پر تعیناتی کی اجازت۔ حالیہ بحران نے ملک کے ایک بڑے حصے کو نقصان پہنچایا ہے۔لبنان کی مخلوط حکومت میں حزب اللہ کی ساتھی اہم سنی اور عیسائی جماعتیں اس اچانک
عام لبنانیوں اور شام مخالف دھڑوں نے اس حالیے بحران کی ذمہ داری واشنگٹن پر ڈالی ہے۔ ان کے نزدیک اس کی وجوہات میں امریکہ کی مشرق وسطی پر گرفت میں کمزوری ، فلسطین کے مسئلہ، اسرائیل کی کھلم کلا مدد اور خطے میں اس کے عزائم کے تحفظ کے لیے لبنانیوں کو تباہ کرنے کی اجازت شامل ہیں۔ صدر بش کہہ چکے ہیں کہ حزب اللہ کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی اور اس وقت تک کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ پورے خطے میں اعتدال پسند عرب اور بنیاد پرست، سنی اور شیعہ ہی اس مسئلے پر کوئی قدم اٹھائیں گے۔ وہ یہی کہیں گے کہ اس مسئلے کی اصل جڑ اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ ہے اور اسرائیل کے اس علاقے سے انخلاء تک امن قائم نہیں |
اسی بارے میں لبنان: بدلے کی آگ سے بھری تاریخ28 July, 2006 | آس پاس ’لبنان: ایک سو تیس اہداف پر حملہ‘28 July, 2006 | آس پاس طائر میں کہانیاں جمع ہو رہی ہیں28 July, 2006 | آس پاس ’حزب اللہ کے 26 ارکان ہلاک ہوئے‘29 July, 2006 | آس پاس ’ایک تہائی اسرائیل حزب اللہ کی زد میں‘29 July, 2006 | آس پاس ’امن فوج کی تعیناتی متاثر ہوسکتی ہے‘29 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||