’امن فوج کی تعیناتی متاثر ہوسکتی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے جنوبی لبنان میں اپنے عملے کے چار اراکین کی ہلاکت کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں اس علاقے میں تعینات کی جانے والی امن فوج کے لیے مختلف ممالک اپنے دستے نہ بھیجیں۔ اقوام متحدہ کے نائب مارک ملوک براؤن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فائرنگ سے پہنچنے والے نقصانات پر اس کی معافی قبول کر لی گئی ہے تاہم انہیں اب بھی اس بات کی شدید تشویش ہے کہ کیا ہوا۔ اس سے قبل اقوام متحدہ نے اسرائیل اور حزب اللہ سے تین دن کی عارضی جنگ بندی کی اپیل کی تھی تاکہ جنوبی لبنان میں امدادی اشیاء کی فراہمی اور زخمیوں کے علاقے سے انخلاء کو ممکن بنایا جا سکے۔ اسرائیل نے عارضی جنگ بندی کی اس پیشکش کو رد کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی سرگرمیوں کے سربراہ ژاں ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ دو ہفتوں سے جاری اس لڑائی میں بچے، بوڑھے اور معذور افراد متاثرہ علاقوں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ امریکی صدر جارج بش نے ایک بار پھر فریقین کے مابین فوری جنگ بندی کی ایپل کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لبنان میں بین الاقوامی فوج تعینات کی جائے گی۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس سنیچر کو ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہو گئی ہیں۔ صدر بش کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن کے قیام اور دونوں ممالک میں استحکام کے لیے کونڈو لیزا رائس لبنان اور اسرائیل کے رہنماؤں سے بات چیت کریں گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مس رائس اقوام متحدہ کی قرار داد پر عمل در آمد کے لیے زور دیں گی جس کے تحت بین الاقوامی فوج جنوبی لبنان کے علاقے میں تعینات کی جائے گی۔ واشنگٹن میں امریکی صدر اور برطانوی وزیراعظم نے ایک پریس کانفرنس میں واضح الفاظ میں کہا کہ حزب اللہ کی موجودگی میں لبنان میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا اور حزب اللہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق غیر مسلح کیا جانا بہت ضروری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ایران اور شام پر الزام لگایا کہ وہ حزب اللہ کو ہتھیار مہیا کر رہے ہیں اور وہ ایسا کرنا بند کر دیں۔
برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر، جنہوں نے امریکی صدر بش سے جمعہ کو واشنگٹن میں ملاقات کی ہے، کا کہنا ہے کہ پیر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہونے والے اجلاس میں عالمی رہنما لبنان میں بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کے بارے میں غور کریں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والے اجلاس میں وہ تمام ممالک شرکت کریں گے جو اپنے دستے بین الاقومی فوج میں بھیج سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس اجلاس میں مشرق وسطیٰ کے مسئلے پر ابتدائی بات چیت کی جائے گی کیونکہ ہمیں ابھی تک سکیورٹی کونسل کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہے’۔ سلامتی کونسل اس مسئلے پر اس ہفتے کے آخر تک بات چیت کا عمل شروع کرے گی۔ جمعہ کو لبنان، اسرائیل اور غزہ کے دورے کے بعد سلامتی کونسل میں اس مسئلہ پر بات کرتے ہوئے ژاں ایگلینڈ کا کہنا تھا کہ لبنان میں اسرائیلی بمباری سے اب تک چھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی خوف ناک صورت حال ہے۔ اس جنگ میں بنیادی طور پر کچھ مسائل موجود ہیں کیونکہ اس میں مسلح افراد نہیں بلکہ بچے مر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہا کہ وہ اس لڑائی میں شامل فریقین سے کم از کم 72 گھنٹوں کی عارضی صلح کی درخواست کریں گے تاکہ زخمیوں، بچوں، بوڑھوں اور معذور افراد کو جنوبی لبنان کے متاثرہ علاقوں سے نکالا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ’وار زون’ میں اس وقت فراہم کی جانے والی امدادی اشیاء ناکافی ہیں اور لوگوں کو ضروریات زندگی کی اشد ضرورت ہے۔ ادھر اسرائیلی فوج کے چیف کا کہنا ہے کہ فوج نے حزب اللہ کے چھبیس ارکان کو بنت جبیل کے علاقے میں ہلاک کر دیا ہے۔ اس دوران حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل پر ایک سو سے زیادہ راکٹ داغے ہیں اور ان میں وہ نئے دور مار بھی شامل ہیں جنہیں خیبر - ون کہا جا رہا ہے اور جو افولا نامی قصبے کے قریب گرے ہیں جو اسرائیل کی سرحد کے پچاس کلو میٹر اندر واقع ہے۔
یروشلم سے صحافی ہریندر مسرا کا کہنا ہے کہ افولا میں اس سے پہلے بھی راکٹ گرتے رہے ہیں اور ان میں سے کئی عمارتوں کو بھی لگے ہیں لیکن جمعہ کو حزب اللہ نے جو راکٹ داغے ہیں ان کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی ایک تہائی آبادی حزب اللہ کے راکٹوں کو زد میں آ چکی ہے۔ جمعہ کو داغے جانے والے راکٹوں کے بعد افولا سے اسرائیلیوں کی بڑی تعداد نقل مکانی کر گئی ہے اور پہلی بار لوگوں میں خوف دیکھا گیا ہے۔ افولا سے نقلِ مکانی کر کے یروشلم آنے والے ایک افغان نژاد یہودی خاندان کا کہنا ہے کہ راکٹ ان کے گھر سے دور نہیں گرے تھے اور ان کے گرنے سے زوردار دھماکے ہوئے تھے ان کا کا کہنا تھا اس حملے کے بعد وہاں رہنا ممکن نہیں تھا۔ اسرائیلی پولیس کے ترجمان مکی راسن فلس کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی خطرناک راکٹ ہیں۔ اگرچہ یہ راکٹ ایسے علاقے میں گرے ہیں کہ کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا لیکن جہاں یہ راکٹ گرے ہیں وہاں بڑے اور گہرے گڑھے بن گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’لبنان: ایک سو تیس اہداف پر حملہ‘28 July, 2006 | آس پاس سلامتی کونسل نے مذمت نہیں کی27 July, 2006 | آس پاس لبنان تک امداد پہنچانے کی جدوجہد26 July, 2006 | آس پاس کوئی جواز قابلِ قبول نہیں: چین27 July, 2006 | آس پاس لبنان اسرائیل تنازعہ: اخبارات کی رائے27 July, 2006 | آس پاس ’ہمیں دنیا سے اجازت مل گئی ہے‘27 July, 2006 | آس پاس ’پورے خطے میں جنگ کا انتباہ‘ 26 July, 2006 | آس پاس مبصروں کی ہلاکت پر اسرائیلی معذرت 26 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||