بیروت ہوائی اڈے پر امدادی مشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیروت اب بھی مشرق وسطی کا دارالخلافہ اور عرب دنیا کا پروقار شہر ہے جہاں کے لگژری ہوٹلوں کے سوئمنگ پول فضا سے نیلگوں دکھائی دیتے ہیں۔ یا شاید اب یہ صرف ایک واہمہ ہو۔ آج یہ نظارہ میں نے ایک امدادی جہاز سے دیکھا جو خوراک اور ادویات سے امدادی سامان کی ایک کھیپ کے ساتھ یہاں پہنچا۔ میں امدادی مشن پر روانہ ہونے والے اردن ائر فورس کے جہاز پر عمان سے سوار ہوا تھا۔ یہ ان پہلے جہازوں میں سے تھا جو حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے نتیجے میں امدادی سامان لے کر بیروت آنے میں کامیاب ہوئے۔ لبنانی دارالخلافے تک پہنچے کے لئے ہمیں اسرائیلی ائرفورس کے تعاون سے بنائے گئے فلائٹ منصوبے پر عمل کرنا پڑا۔ ٹیڑھے میڑھے سے اس راستہ نے ہمیں سمندر کے اوپر سے اور جنوبی لبنان میں خطروں سے دور رکھا۔ ہمارے جہاز کے بلکل نیچے اسرائیلی لڑاکا جہاز لبنانی ساحل پر کھڑے نظر آ رہے تھے۔ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے اس لڑائی کے شروع میں بیروت ائرپورٹ پر بم داغ دیئے تھے۔وھاں ابھی بھی اہم سڑکوں پر بم سے پڑنے والے گڑھوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ہماری پرواز کے وہاں لینڈ کرنے سے پہلے اردنی انجینئرز نے دوسرے رن وے کی مرمت کر کے اسے استعمال کے قابل بنایا۔ کمرشل جہازوں کے لئے یہ ابھی بھی محفوظ نہیں ہے۔ قریباً دو ہفتے پہلے یہ ہوائی اڈہ زندگی سے سرشار تھا۔کاروباری اور سیرکے لئے آنیوالے حضرات لبنان کی روشنیوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ اس کے برعکس اب یہ ہوائی اڈہ بلکل اجاڑ اور ویران ہے۔ جونہی ہمارا جہاز زمین پہ اترا، ہوائی اڈے پہ کام کرنے والے کارکن تیزی سے جہاز کی طرف لپکے کیونکہ امدادی سامان کی یہاں اشد ضرورت ہے۔ پوری عرب دنیا میں ذرائع ابلاغ سے امداد کے لئے اپیلیں جاری ہیں۔ امداد کی کمی تو نہیں مگر اسے وہاں تک پہنچانا دشوار ہے۔ چونکہ اردن نے اسرائیل کے ساتھ امن کا معاہدہ کر رکھا ہے اس لئے اسے بیروت کے ہوائی اڈے تک جانے کی اجازت ہے۔اردنی اس وقت بیروت کے ایک سکول میں ہسپتال بنا رہے ہیں جس میں آپریشن تھیٹر، ایکسرے اور پلاسٹک سرجری کی سہولتیں ہوں گی۔ ہمارے وہاں جانے تک ہسپتال نے کام کرنا شروع نہیں کیا تھا۔ اس کے باوجود وہاں پہلے سے ہی مریضوں کی قطار ہے جن میں سے زیادہ تر لوگ شمالی لبنان سے آئے ہیں۔ محمد بیڈون کا خاندان شمالی لبنان کے شہر شہابیاں سے ہجرت کر کے آیا تھا۔ وہ اپنے بیٹے کوخوراک سے پیدا ہونے والی پیٹ کی بیماری کے علاج کے لئے لایا تھا۔طبی امداد پا کر اسرائیلیوں کے خلاف اس کی تلخی کچھ کم ہوئی تھی۔ محمد بیڈون نے کہا کہ ہم ہر قوم کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے ہمارے بچوں کی مدد کی ہے چاہے وہ اردنی، سعودی ہیں یا مصری۔ لیکن امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف چند خوش قسمت ہیں جنہیں یہ امداد میسر ہے ورگرنہ جنگ والے علاقوں میں امداد کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔جب تک جنگ بندی نہ ہو جائے کچھ ممکن نہیں اور یہ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ | اسی بارے میں سلامتی کونسل نے مذمت نہیں کی27 July, 2006 | آس پاس لبنان کے لیئے امن فوج ضروری ہے:بش28 July, 2006 | آس پاس ’حزب اللہ کے 26 ارکان ہلاک ہوئے‘29 July, 2006 | آس پاس ’ایک تہائی اسرائیل حزب اللہ کی زد میں‘29 July, 2006 | آس پاس اسرائیل، حزب اللہ سے جنگ بندی کی اپیل 29 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||