لبنان کے لیئے امن فوج ضروری ہے:بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ ایران اور شام دہشت گردی کی حمایت ختم کر دیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ لبنان میں امن قائم کرنے کے لیے عالمی امن فوج کی جلد تعیناتی ضروری ہے۔ وائٹ ہاؤس میں برطانوی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران امریکی صدر نےکہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش چھوڑ کر پرامن رہنے کا راستہ اپنا لیے۔ برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ایران یا تو عالمی امن میں حصہ دار بن جائے ورنہ اسے بھی بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا کرنے پڑے گا۔ امریکی صدر نے اعلان کیا کہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سنیچر کے روز قیام امن کی خاطر ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گی جہاں وہ اسرائیلی اور لبنانی لیڈروں سے ملاقات کریں گی۔ امریکی اور برطانوی رہنماؤں نے واضح الفاظ میں کہا کہ حزب اللہ کی موجودگی میں لبنان میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا اور حزب اللہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق غیر مسلح کیا جانا بہت ضروری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ایران اور شام پر الزام لگایا کہ وہ حزب اللہ کو ہتھیار مہیا کر رہا ہیں اور وہ ایسا کرنا بند کر دیں۔ اس سے پہلے امریکی دفتر خارجہ نے اسرائیل کے اس بیان پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے کہ دنیا نے اسے لبنان پر بمباری جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ایڈم اریلی نے کہا: ’ امریکہ اس تنازعہ کے دیرپا تصفیہ کے لیئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔‘ یاد رہے کہ دو دن قبل جب روم میں بڑی طاقتوں نے فوری فائر بندی کے لیئے واضح مطالبہ نہیں کیا تواسرائیلی وزیر قانون ہائم رامون نے اس کے یہ معنی لیئے تھے کہ دنیا نے اسرائیل کو بمباری جاری رکھنے کی اجازت دیدی ہے۔ اپنے وزیر قانون کے بیان کے بعد سے اسرائیل لبنان پر درجنوں نئے حملے کر چکا ہے جن میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنوبی لبنان میں جاری لڑائی سے فرار ہونے والے عام شہریوں کی گاڑیوں کا ایک قافلے اسرائیلی مارٹر شیلوں کا نشانہ بن گیا۔ امریکہ کا کہا ہے کہ فائر بندی کا کوئی فائدہ اسی صورت میں ہے کہ جب اسے طویل عرصے کے لیے برقرار رکھا جائے۔جمعرات کی شام صدر بُش نے یہ بات پھر دھرائی کہ امریکہ ’نام نہاد امن‘ کو تسلیم نہیں کرے گا۔ تاہم بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار نِک چائلڈ کا کہنا تھا کہ صدر بش نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وہ بڑھتی ہوئے ہلاکتوں پر کس قدر پریشان ہیں۔اس سے شاید اندازہ ہوتا ہے کہ صدر بُش کو اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ قربت کی کیا قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ فضائی حملے : گزشتہ سترہ دن سے جاری حملوں میں اب تک اگرچہ چارسو پچیس لبنانیوں کے ہلاک ہو جانے کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں بہت بڑی اکثریت عام شہریوں کی ہے، لیکن ایک لبنانی وزیر کا کہنا ہے کہ بےشمار مزید لاشیں ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ جمعرات کو لبنان کی حکومت میں وزیر صحت نے اندازً بتایا کہ بارہ جولائی سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں چھ سو تک شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اندازہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک تہائی ابھی تک ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ ادھراسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ کے راکٹوں سے اکاون اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں تینتیس فوجی اور اٹھارہ عام شہری شامل ہیں۔ جنوبی لبنان کے قصبے نتابیہ کے قریب اسرائیل نے کئی تازہ فضائی حملے کیے ہیں جن میں اردن کا ایک باشندہ ہلاک جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ انہی حملوں میں ایک خاوند اور اسکی بیوی بھی ہلاک ہو گئے جبکہ کم از کم تین بچے زخمی ہوگئے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فضائیہ نےنتابیہ سے مشرق میں واقع وادی بقاء کے دیہاتوں پر بھی بمباری کی اور ارد گرد کی سڑکوں کو بھی اڑا دیا۔ بنت جبیل میں ، جہاں بدھ کے روز اسرائیلی کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا، ابھی تک اسرائیلی فوجوں اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ اس دوران شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کے راکٹ حملے بھی جا رہے ہیں تاہم کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ دریں اثناء اردن کی فضائیہ کا ایک مال بردار ہوائی جہاز امدادی سامان لے کر بیروت میں اتر چکا ہے۔ یہ جہاز ان پہلی پروازوں میں سے جسے بیروت کے ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت ملی ہے۔ ائر پورٹ کی ہوائی پٹی (ائر سٹرپ) کواسرائیلی فضائیہ نے اپنے حملوں کے ابتدائی دنوں میں ہی نشانہ بنا دیا تھا۔ یروشلم میں بی بی سی کی نامہ نگار کاتیہ ایڈلر کے مطابق اسرائیل میں اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا کہنا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو بیکار کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس زیادہ تر کا کہنا ہے کہ اسرائیل ’محفوظ پٹی یازون‘ بنا سکتا ہے جو کہ حزب اللہ کے سے پاک ہو۔ | اسی بارے میں ’لبنان: ایک سو تیس اہداف پر حملہ‘28 July, 2006 | آس پاس سلامتی کونسل نے مذمت نہیں کی27 July, 2006 | آس پاس لبنان تک امداد پہنچانے کی جدوجہد26 July, 2006 | آس پاس کوئی جواز قابلِ قبول نہیں: چین27 July, 2006 | آس پاس لبنان اسرائیل تنازعہ: اخبارات کی رائے27 July, 2006 | آس پاس ’ہمیں دنیا سے اجازت مل گئی ہے‘27 July, 2006 | آس پاس ’پورے خطے میں جنگ کا انتباہ‘ 26 July, 2006 | آس پاس مبصروں کی ہلاکت پر اسرائیلی معذرت 26 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||