مغربی بیروت کے ایک سکول کا دورہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی بیروت میں سمندر کے کنارے الحمرا ایک جدید صاف ستھرا رہائشی علاقہ ہے۔ یہاں کئی ممالک کے سفارتخانے بھی ہیں۔اسی الحمرا کی ایک سڑک پر ایک سکول ایسا بھی ہے جس میں جنوب سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کے سبب پڑھائی نہیں ہورہی۔ بیروت میں ایسی بیسیوں عمارتیں ہیں جن میں پناہ گزین رہ رہے ہیں اور جنہیں جگہ میسر نہیں آ رہی وہ پارکوں میں اپنے بچوں کے ساتھ رک گئے ہیں۔ الحمرا کے اس سکول کے آٹھ بڑے کمروں اور دو ہال کمروں میں ایک سو بیس خاندان رہ رہے ہیں۔ پانی کی شدید قلت ہے اور باتھ روم صرف چار ہیں اس لیئے گرمی کے موسم میں یہاں پر نہانا دھونا بھی عیاشی کے زمرے میں گنا جا رہا ہے۔ میں جب سکول کے دروازے پر پہنچا تو دو لبنانی فوجی چوکیداری کر رہے تھے۔ انہیں انگریزی سے کوئی علاقہ نہیں تھا اور میرے ساتھ عربی کا مسئلہ تھا۔ چنانچہ جب ہم اشاروں کی زبان میں ایک دوسرے کو سمجھاتے سمجھاتے شل ہوگئے تو اندر سے یہ منظر دیکھنے والی ایک حجاب یافتہ خاتون گیٹ پر آگئیں۔ جیسے ہی انہوں نے پوچھا ’وت دو یو وانت؟‘ مجھے ایسا لگا کہ اندھے کو دو لسانی آنکھیں مل گئیں۔ لینا نامی یہ خاتون ازخود میری ترجمان بن گئیں اور یوں پناہ گزینوں سے گفتگو کا راستہ کھلتا چلا گیا۔
اس کیمپ کا نظم ونسق حزب اللہ، امل اور کیمونسٹوں کے رضاکار مل جل کر چلا رہے ہیں۔ خوراک اور دواؤں کا کوئی مسئلہ نہیں۔ مسئلہ صرف پانی اور صفائی کا ہے۔ خود لینا کا تعلق جنوبی لبنان کے قصبے نباتیہ سے ہے جہاں وہ ایک پرائمری سکول میں انگریزی پڑھاتی تھیں۔ نباتیہ پر جب اسرائیل کے حملے بڑھ گئے تو لینا اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ پچھلے ہفتے بیروت آ گئیں۔ مگر انکے اور انکے شوہر کے والدین نباتیہ میں ہی ہیں۔انہوں نے یہ کہہ کر آنے سے انکار کردیا کہ اس عمر میں بے گھر ہونے کی ہمت نہیں رہی۔ ل ’میں لبنان ہوں۔لبنان میرے جسم میں خون کی طرح ہے۔ لبنان اسرائیل کے مقابلے میں ایک مکہ ہے۔اسرائیل اس مکے سے کبھی نہیں جیت سکتا۔‘ لینا نے بتایا کہ جعفر کو یہ گیت اسکے باپ نے تب رٹوایا تھا جب وہ نیا نیا بولنا سیکھا تھا۔ جعفر کا سب سے گہرا دوست محمد جمال ہے جس سے اسکی ملاقات پچھلے ہفتے ہوئی۔ سات سالہ جمال کا تعلق بیروت کے جنوبی علاقے سے ہے جہاں دو ہفتے تک زبردست بمباری ہوئی۔ جمال کی ماں نے مجھے بتایا کہ یہ طوطے کی طرح بولتا تھا لیکن کئی دنوں سے بہت کم بات کررہا ہے۔ میں نے جمال سے پوچھا تمہاری ماں کیا کہہ رہی ہے۔اس نے بڑی مشکل سے رک رک کر بتایا کہ اسے ہر وقت یوں لگتا ہے جیسے ’اسرائیلی جیٹ یہاں بھی آجائے گا اور بم گرادے گا جیسے میرے گھر کے پاس گرایا تھا۔‘ اس موقع پر ایک ادھیڑ عمر شخص حسن طاہر نے لقمہ دیا ’نہیں اس جگہ اسرائیلی بم نہیں گرے گا کیونکہ الحمرا میں سعودی سفارتخانہ بھی ہے۔‘ حسن طاہر جنوبی بیروت میں موٹر مکینک تھا۔اب اپنے چھ بچوں اور بیوی کے ساتھ اس سکول میں رہ رھا ہے۔ جب میں باہر نکلنے لگا تو مجھے گیٹ پر ایک پیاری سی بچی نظر آئی جو آئس کریم کے ٹھیلے سے خریداری کرنے والے ایک ایک بچے کو بغور دیکھ رہی تھی۔میں نے پوچھا تم آئس کریم کیوں نہیں کھا رہی ہو۔ کہنے لگی بس ایسے ہی۔ چلو میں آئس کریم دلاتا ہوں۔نہیں اگر آپ اپنے لئے لیں گے تو پھر کھاؤں گی ۔اور یوں میں اور سات آٹھ سال کی فرح وہیں آلتی پالتی مار کر آئس کریم کھانے لگے۔فرح نے بتایا کہ جب سے گھر چھوڑا ہے اسے دو چیزیں سب سے زیادہ یاد آتی ہیں۔ایک کمرہ اور دوسرا پانڈا۔ ماں نے کوئی کھلونا نہیں اٹھانے دیا۔پانڈا بھی نہیں۔ میں نے فرح کو پانڈے کی پریشانی سے نکالنے کے لیئے پوچھا۔کوئی نظم سناؤ، بہت اچھی سی۔ فرح نے آئس کریم سے لتھڑے منہ سے یہ نظم سنائی۔ ’اے اڑنے والے پرندے تمہارا گھر کہاں ہے۔ہم بھی تمہاری طرح ہی خوبصورت ہیں۔مگر تم آزادی کے ساتھ اڑ سکتے ہو۔اے پرندے تم کہاں رہتے ہو۔‘ |
اسی بارے میں لبنان: نشانے پر حزب اللہ یا عام شہری؟28 July, 2006 | آس پاس امریکہ : انسانی حقوق کی پامالی29 July, 2006 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||