امریکہ : انسانی حقوق کی پامالی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کےکمیشن برائے انسانی حقوق نےکہا ہے کہ امریکہ دہشت گرد گرپوں کے خلاف جاری مہم کے تحت بنائے جانے والے تمام خفیہ قید خانے بند کر دے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں امریکہ کے اندرونی اِنسانی حقوق کی صورتحال کی عکاسی بھی کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ حکومت ریلیف کے کاموں میں ’کالوں‘ اور ’غریبوں‘ کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمینٹ کے وکلاء نے کہا کہ انہیں اس رپورٹ سے مایوسی ہوئی ہے اور اس میں حالات کا مکمل طور پر جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے پینل کا کہنا ہے کہ کہ سمندری کترینہ طوفان کے دوران ’غریب‘ اور’ کالے‘ لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’امریکہ غریب لوگوں کو ان کے حقوق کی فراہمی کے سلسلے میں اپنی کوششوں میں اضافہ کرے اور خاص طور پر تعمیِر نو کے منصوبوں میں افریقی نژاد امریکی شہریوں کی ہاؤسنگ ، تعلیم اور صحت کی سہولتوں تک رسائی پر توجہ دے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقلیتی گرپوں اور غریب لوگوں کو دی جانے والی ناموزوں موت کی سزاؤں کو بھی معطّل کیا جائے۔ رپورٹ کی تحقیقات جنیوا میں 1966 کے بین الاقوامی سول اور سیاسی حقوق کے قانون کے تحت ہونے والی دو روزہ سماعت کے بعد سامنے آئی ہیں۔ پینل کے سامنے کاروائی کے دوران امریکی وفد کے کہا کہ دہشت گردی سے تعلق رکھنے والے معاملات سمجھوتہ کے دائرہ سے باہر ہیں۔ لیکن کمیٹی نے جمعہ کو کہا ہے کہ امریکہ کو اپنے نظریے پر نظرثانی کرنے کے ساتھ سمجھوتہ کو بھی اچھی طرح سے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس رپورٹ کے آنے سے واشنگٹن پر دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں تبدیلیاں کرنے کے لیے دباؤ میں مزید اضافہ ہو گا۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ وہ ان ’باوثوق‘ اور ’غیر متنازع‘ اطلاعات کے بارے میں پریشان ہیں جن کے مطابق ’امریکہ نے متعدد لوگوں کو کئی سالوں اور مہینوں سے خفیہ قید خانوں میں نظربند کر رکھا ہے‘۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ کو لوگوں کو وہیں نظربند کرنا چاہیے جہاں ان کو قانون کی طرف سے مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔‘ امریکی حکام کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ بین الاقوامی ریلڈ کراس کمیٹی کی رسائی خفیہ قید خانوں میں نظر بند قیدیوں تک ہو ۔ کمیٹی نے امریکہ کو یہ تنبہ دو ماہ قبل اقوام متحدہ کی تشدد کے خلاف کمیٹی کے زور دینے کے بعد کی ہے ، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کیوبا میں گوتاناموبے کا قید حانہ بند کرے۔ اس مہنے کے شروع میں بش انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج نے جن لوگوں کو نظر بند کیا ہے ان سب کے ساتھ جنیوا کنونش کے بنیادی معیار کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے اور ان لوگوں میں گوتاناموبے کے قیدی بھی شامل ہیں ۔ پالیسی میں یہ تبدیلی امریکی سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کی گئی ہے جس کہ مطابق جینیوا کنوینشن نظربندوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں امریکی فوجی: سزا میں نرمی15 January, 2005 | صفحۂ اول ’امریکہ سے تعلقات ختم کرو‘ 25 May, 2005 | صفحۂ اول دہشتگردی کے خلاف نئے اقدمات30 June, 2005 | صفحۂ اول افلاس، مایوسی اور لاقانونیت02 September, 2005 | صفحۂ اول بش کاطویل المعیاد مدد کا وعدہ06 September, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||