’امریکہ سے تعلقات ختم کرو‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رابطہ علماء کمیٹی کے زیراہتمام ہونے والے حرمت قرآن پاک کنونشن میں حکومت سے امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ امریکی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر ملک بدر کیا جائے اور امریکہ سے سفارتی عملہ واپس بلوایاجائے۔ یہ کنونشن لاہور کے ریگل چوک میں واقع مسجد شہداء میں منعقد ہواجس سے مختلف مذہبی جماعتوں کے قائدین نے خطاب کیا۔ جماعتہ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سیعد نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان گوانتاناموبے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کے طور پر امریکہ سے اپنا سفیر واپس بلائے اور پاکستان سے امریکی سفیر کو ملک بدر کر دیا جائے۔‘ امریکی اسٹنٹ سیکرٹری خارجہ کرسٹینا روکا ان دونوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔ حافظ سعید نے کہا کہ’ کرسٹینا روکا اور امریکی سیکرٹری خارجہ کنڈولیزارائس پاکستان آ کر ڈکٹیشن دیتی ہیں اور امریکی سفیر پاکستان میں ایک وائسرائے کی طرح حکم چلاتے ہیں ان کے بقول’حکومت پر حکومت کی جارہی ہے۔‘ انہوں نے قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا اور کہا کہ ’جن افراد نے قرآن پاک کی توھین کی ہے ان کے ملک کے کسی وزیر کو پاکستان آنے کی اجازت نہ دی جائے۔‘ پاکستان میں چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل نے ستائیس مئی جمعہ کے روز ایک ملک گیر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں مرکزی احتجاجی جلسہ اسلام آباد میں ہوگا۔ حافظ سعید نے کہا کہ ’اس جمعہ کے علاوہ ہر جمعہ کو اس پر احتجاج کیا جائے اور مسلمان علماء ہر جمعہ خطبہ میں عوام کی رہنمائی کریں۔‘ مجلس عمل کے امیر قاضی حسین احمد نے کہاکہ’ حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے اس جلسے میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن اگر وہ قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف ہونے والے اس جلسے میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو پہلے وہ اعلان کریں کے وہ امریکی صدر بش کے ساتھ نہیں ہیں اور انہوں نے بش اور امریکہ کے ساتھ اتحاد کا رشتہ توڑ دیا ہے۔‘ قاضی حسین احمد نے کہا کہ ’چودھری شجاعت یہ کہیں کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ دیکر غلطی کی تھی اور وہ امریکہ کا اتحادی ہونے سے انکار کردیں اور اعلان کریں کہ انہوں نے امریکہ سے ہر طرح کا تعلق توڑ لیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’پاکستانی حکمران بالواسطہ طور پر گوانتاناموبے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے ذمہ دار ہیں کیونکہ جن قیدیوں کے سامنے قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی وہ ان کے بقول صدر مشرف نے امریکہ کے حوالے کیے تھے۔‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ’ صدر مشرف اسلام کی بجائے امریکہ کے پرچارک ہیں۔‘ تنظیم اسلامی کے بانی معرف سکالر ڈاکٹر اسرار احمد نے کہا کہ ’کفار مسلمانوں کو آزما رہے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ ان میں کتنا دم خم ہے۔‘ جمعیت اہلحدیث پاکستان کے ناظم اعلی ابتسام الہی ظہیر نے کہا ہے کہ ’اگر امریکہ نے معافی نہ مانگی تو پر امن رہنے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی‘ ان کا کہنا تھا کہ’ صدر پرویز مشرف بھی اس بے حرمتی اور توھین کے ذمہ دار ہیں اور انہیں اقتدار چھڑنا ہوگا۔‘ جماعتہ الدعوۃ کے عبدالرحمان مکی نے کہا کہ ’جو بھی پاکستانی سیاست دان یا لیڈر کرسٹینا روکا کو ملے گا وہ ان کے بقول غدار ہوگا۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ جنہوں نے کرسٹینا روکا کی میزبانی کی ہے وہ بھی ان کے مطابق غدار ہیں۔‘ اس کنونشن کے اعلامیہ کہا گیا کہ ’قرآن پاک کی بے حرمتی کے معاملے پر ملک بھر میں تحریک منظم کی جائے اور ہر چھوٹے بڑے شہر میں اجتجاجی جلسے جلوس منعقد کیے جائیں۔‘ گوانتاناموبے میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کے لیے گذشتہ ہفتے لاہور میں جماعتہ الدعوۃ کے زیراہتمام ہونے والی علما کانفرنس میں یہ رابطہ علما کمیٹی قائم کی گئی تھی اور حالیہ کنونشن اب اسی رابطہ علما کمیٹی کے زیر اہتمام کیا گیا تھا۔ مسجد شہداء کے صحن میں سٹیج لگایا گیا تھا لیکن شرکاء کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث ریگل چوک کے ایک جانب بھی لوگوں کو دریاں بچھا کر بٹھایا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||