بش کاطویل المعیاد مدد کا وعدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر بش نے ، جن پر ریاست لوئزیانا میں آنے والے سمندری طوفان کے بعد کی جانے والی امدادی کارروائیوں میں تاخیر پر کڑی تنقید کی جارہی ہے، ایک بار پھر علاقے کا دورہ کیا ہے اور طویل المعیاد مدد کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے لوئزیانا اور میسیسپی کی ریاستوں کا دورہ کیا اور ان دس دیگر ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا جن میں طوفان سے بچائے جانے والے افراد کو پناہ دی گئی ہے۔ اس سمندری طوفان سے متاثرہ افراد کے لئے فنڈز اکھٹے کرنے کے لئے سابق صدور جارج بش سینیئر اور بل کلنٹن نے مہم چلانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اسی اثناء میں ایسے ہزاروں افراد نے سمندری طوفان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر میں اپنے تباہ شدہ گھروں کا جائزہ لینے کے لئے وہاں کا دورہ کیا ہے۔ مسٹر بش کا یہ متاثرہ علاقوں کا پچھلے چار روز میں دوسرا دورہ ہے۔ میسیسپی میں امدادی ایجینسیوں کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مجھے علم ہے کتنی تباہی ہوئی ہے۔ مجھے علم کے نقصان کتنا ہوا ہے۔ مجھے علم ہے کہ اس کی بحالی میں کتنا عرصہ لگے گا۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ یہ جان لیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘ ادھر نیو آرلینز کے مئیر رے نیگن نے امریکی ٹی وے کو بتایا ہے کہ سمندری طوفان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دس ہزار تک پہنچنا حیرانی کی بات نہیں ہوگی۔ امدادی کارکن اب تک شہر میں پچنے والوں کو تلاش کررہے ہیں جبکہ وہاں سے لاشوں کو بھی اکھٹا کیا جارہا ہے۔ سابق صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ ہیلری کلنٹن ، جو نیویارک سے سینیٹر ہیں، نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ستمبر گیارہ کے حملوں کے بعد کی جانے کانگریس کی سطح کی انکوائری کے انداز میں اس سمندری طوفان کے بعد حکومتی رد عمل پر بھی تحقیق کی جانی چاہئیے۔ صدر بش پر الزام لگایا جارہا ہے کہ اس سلسلے میں امدادی کارروائیوں میں سست برتی گئی۔ مسٹر بش نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کسی حد تک کئی جگہوں پر سستی سے کام لیا گیا لیکن ان کا اصرار ہے کہ حکومت ہر سطح ہر ممکن کام کررہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||