نیوآرلینز: پولیس فائرنگ، 5 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں سمندری تباہی کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والے ساحلی شہر نیو آرلینز میں ایک پُل پر پولیس نے اسلحہ لے جانے والے آٹھ افراد پر گولی چلا دی جس سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ دریں اثنا لوگوں کو نکالنے کی کارروائی میں حصہ لینے والے ایک ہیلی کاپٹر کو ایک ٹیلی ویژن نے نیو آرلینز میں تباہ ہوتے ہوئے دکھایا ہے۔ تاحال اس ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ عملے کا کیا بنا۔ ادھر بے پناہ تباہی کے تقریباً ہفتے بھر بعد امدادی کاموں کا جائزہ لینے کے لیے وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے ساحلی شہر نیو آرلینز کا اور وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے اپنی آبائی ریاست الاباما کا دورہ کرتے ہوئے حالات کو نہایت سنجیدہ قرار دیا ہے۔ وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے اموات و تباہی کو تاریخی نوعیت کا قومی سانحہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سانحہ اس پیمانے کا تھا کہ اس مقابلے میں حکومتی کارروائیاں انتہائی سست دکھائی دیتی ہیں۔ جب کہ کونڈو لیزا رائس نے تسلیم کیا ہے کہ امداد کے سلسلے میں حکومت کا ردِ عمل سست تھا تاہم انہوں نے ان دعووں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ امدادی کارروائیاں کرنے والے حکام سیاہ فام اور غریب متاثرین سے تغافل برت رہے تھے۔ نیو آرلینز میں سنیچر کو سمندری طوفان کے پانچ روز بعد جو امدادی کارروائیاں شروع کی گئی ہیں ان کے نتیجے میں کہا جا رہا ہے کہ اب ہزاروں افراد کو نکال لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اندرونِ ملک سلامتی کے وزیر نے کہا تھا کہ حکومت کا شہر پر مکمل کنٹرول ہے۔
قبل ازیں امریکی حکومت نے یورپی یونین اور نیٹو سے ہنگامی امداد فراہم کرنے کو کہا ہے تھا اور امدادی سامان کی فہرست میں کمبل، کھانے پینے کی اشیاء اور پینے کاپانی شامل ہے۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ بش انتظامیہ نے سمندری طوفان قطرینہ سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کی پیشکش قبول کر لی ہے اور اس کے اہلکاروں کی ایک جماعت واشنگٹن میں حکام سے صلاح مشورے میں مصروف ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||