بالآخر امداد پہنچنا شروع ہوئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی طوفان سے متاثرہ مشرقی ریاستوں میں فوجی ٹرکوں کے ذریعے امداد پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔ طوفان کے پانچ روز بعد بھی ایک ساحلی شہر نیو آرلینز کے غریب علاقوں میں ہزاروں افراد بدحالی میں رہ رہے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لوئزیانا کے ایک سنیٹر کے مطابق یہ تعداد دس ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ امریکہ کے صدر جارج بُش بھی طوفان سے ہونے والی تباہی اور اس کے بعد کی صورتحال کے بارے میں قوم سے خطاب کرنے والے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ خطاب صدر بُش پر امدادی کاموں کی سست روی کے بارے میں ہونے والی تنقید کے دباؤ میں دیا جا رہا ہے۔ امریکی اثناء سینیٹ سمندری طوفان کی تباہ کاری کے خلاف غیر تسلی بخش حکومتی ردِ عمل کی شکایات کی تحقیقات شروع کر رہا ہے۔ ان تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائےگا کہ تباہی سے نمٹنے میں حکومت نے اس قدر سست روی کیوں دکھائی۔ صدر بُش نے تسلیم کیا کہ ابتدائی طور رد عمل سست تھا لیکن اب امدادی کارروائیاں تیز ہو رہی ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امدادی سامان سے لدے ٹرکوں کی آمد کے بعد بھی لوگوں کا غصہ کم نہیں ہوا۔ کانگریس میں سیاہ فام رہنماؤں نے واشنگٹن کے ردِ عمل پر شدید نکتہ چینی کی ہے اور اس کا باعث اس بات کو قرار دیا جا رہا ہے کہ جنوبی ساحل کے اس علاقے کے لوگوں کی اکثریت سیاہ فام اور غریب ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم بروک کا کہنا ہے کہ اگر ہلاک ہونے والی تعداد میں اضافہ ہوا تو صدر بُش پر ملک کے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والے اداروں کی کارکردگی کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کے لیے دباؤ بڑھےگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||