نیوآرلینز: ہزاروں افراد کا انخلاء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے ساحلی شہر نیو آرلینز میں امدادی ہیلی کاپٹر پانی میں گھرے لوگو ں کو بچانے کےلیے شہر کے اوپر مسلسل چکر لگا رہے ہیں تاکہ بچ جانے والے متاثرین کو شہر سے باہر نکالا جاسکے۔ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ہزاروں لوگوں کو متاثرہ علاقے سے نکالا گیا ہے۔ اس ہنگامی آپریشن کو امریکی تاریخ کے سب سے بڑی فضائی امداد کا نام دیا گیا ہے۔ چالیس ہیلی کاپٹروں نے چوبیس گھنٹے کے کوششوں سے ہزاروں لوگوں کو طوفان سے متاثرہ علاقے سے باہر نکالا۔
طوفان کے متاثرین کی درست تعداد کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا مگر اندازہ ہے کہ ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مرنے والوں کی لاشیں کنوکشن سینٹر کے باہر دیکھی جاسکتی ہیں۔ جن کو ٹھکانے لگانے کا کام امدادی کارکنوں کا منتظر ہے۔ طوفان سے بچنے والے اپنے ساتھ پیش آئی کہانیاں سنا رہے ہیں۔ امدادی کاموں کے سب سے زیادہ مستحق مقامی سیاہ فام ہیں جو اس طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائیس اور وزیر دفاع ڈونلڈز رمزفیلڈ تینوں متاثرہ ریاستوں کا دورہ کریں گے جن میں مسیسپی، الاباما اور لوئزیانا شامل ہیں۔ رائس انتہائی سینئر سیاہ فام امریکی سیاست دان ہیں۔ وہ اپنی آبائی ریاست الاباما کا دورہ کریں گی۔ اتوار کو متاثرین کے انخلاء کے بعد تو جیسے آرلینز کی گلیوں میں خاموشی سی ہوگئی ہے کیونکہ علاقے سے تقریبًا دس ہزار لوگوں کو باہر نکالا جا چکا ہے۔ بچ جانے والے ہزاروں لوگوں نے شکایت کی ہے کہ انہوں نے آبروریزی اور قتل کے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔
اتنے دنوں تک مصیبت میں رہنے والوں کو جب بسوں اور ہیلی کاپٹروں میں علاقے سے لے جایا جارہا تھا تو ان کے چہروں پر گزرے دنوں کی پوری کہانی رقم تھی۔ امریکہ نے یورپی یونین اور نیٹو سے ہنگامی امداد فراہم کرنے کو کہا ہے۔ امداد میں کمبل، کھانے پینے کی اشیاء اور پینے کاپانی شامل ہے۔ امریکی صدر نے دس اعشاریہ پانچ بلین ڈالر کی امداد پر دستخط کیے ہیں۔ جس کی کانگریس نے منظوری بھی دے دی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک ملین لوگوں کوٹیکساس، ٹینیسی، انڈیانا اور ارکناس کی ریاستوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||