BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 June, 2005, 06:16 GMT 11:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشتگردی کے خلاف نئے اقدمات
صدر بش اور سابق سنیٹر چارلس روب۔
عراق کے ڈبلیو ایم ڈی کے بارے میں کیمشن کی رپورٹ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس نے پچھلے ’حقائق‘ کو غلط قرار دیا۔
امریکی صدر بش نے ایسے نئے اقدامات کی منظوری دیدی ہے جن کا مقصد بین الاقوامی دہشتگردی کی روک تھام اور وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

یہ ستّر اقدامات ہیں جن کی سفارش اسی سال کے شروع میں ایک خودمختار کمیشن نے کی تھی۔

ان اقدامات کے تحت حکومت جوہری، کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں مدد دینے والوں کی جائداد ضبط کر سکے گی۔

بش انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ خاص طور سے آٹھ کمپنیوں کو نشانہ بنانا چاہتی ہے جن میں سے چار کا تعلق ایران، تین کا شمالی کوریا جبکہ ایک کا شام سے ہے۔

ان میں سے ایک اقدام خفیہ ادارے ایف بی آئی میں ایک داخلہ خفیہ ایجنسی کا قیام بھی ہے۔

یہ اقدام صدر بش کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت وہ خفیہ اداروں کے نظام کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تاکہ ستمبر گیارہ کے حملوں کا پیشگی پتہ لگانے میں ناکامی کے بعد انٹیلیجنس ایجنسیوں پر ہونے والی تنقید کا سدِباب کیا جا سکے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد