دہشتگردی کے خلاف نئے اقدمات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر بش نے ایسے نئے اقدامات کی منظوری دیدی ہے جن کا مقصد بین الاقوامی دہشتگردی کی روک تھام اور وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ یہ ستّر اقدامات ہیں جن کی سفارش اسی سال کے شروع میں ایک خودمختار کمیشن نے کی تھی۔ ان اقدامات کے تحت حکومت جوہری، کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں مدد دینے والوں کی جائداد ضبط کر سکے گی۔ بش انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ خاص طور سے آٹھ کمپنیوں کو نشانہ بنانا چاہتی ہے جن میں سے چار کا تعلق ایران، تین کا شمالی کوریا جبکہ ایک کا شام سے ہے۔ ان میں سے ایک اقدام خفیہ ادارے ایف بی آئی میں ایک داخلہ خفیہ ایجنسی کا قیام بھی ہے۔ یہ اقدام صدر بش کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت وہ خفیہ اداروں کے نظام کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تاکہ ستمبر گیارہ کے حملوں کا پیشگی پتہ لگانے میں ناکامی کے بعد انٹیلیجنس ایجنسیوں پر ہونے والی تنقید کا سدِباب کیا جا سکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||