امریکہ میں دو پاکستانی گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی نے ایک پاکستانی اور اس کے بیٹے کو القاعدہ تنظیم سے تعلق کے شبہہ میں گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار ہونے والے بیٹے نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے القاعدہ کے تربیتی مرکز میں دہشت گردی کی تریبت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر حیات اور ان کے بیٹے حامد سے ایف بی آئی کیلی فورنیہ میں تفتیش کر رہی ہے۔ حامد حیات نے مبینہ طور پر یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ امریکی اداروں پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھے۔ ان دونوں باپ بیٹوں کو فی الحال ویزا کی خلاف ورزی اور حکام سے جھوٹ بولنے پر گرفتار کر رکھا ہے۔ ان دونوں باپ بیٹوں کو سیکریمنٹو سے ساٹھ کلو میٹر دور واقع لوڈی کے قصبے سے گرفتار کیا گیا۔ تاہم ان دونوں کے خاندان والوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ ان کا تعلق القاعدہ تنظیم سے تھا۔ ان کے مطابق حامد حیات کو سیاست سے زیادہ کرکٹ میں دلچسپی تھی۔ ایف بی آئی کے دعوے کے مطابق حامد سن دو ہزار تین اور دو ہزار چار میں پاکستان میں قائم القاعدہ کے تربیتی مرکز میں تربیت حاصل کر چکا تھا۔ حامد نے کہا کہ ان تربیتی مرکز میں انہیں امریکیوں کو ہلاک کرنے کی تربیت دی گئی۔ حامد نے کہا کہ انہیں خاص طور پر امریکہ آنے کے لیے کہا گیا تاکہ وہ جہاد کو آگے بڑھا سکیں۔ اس بیان حلفی میں بائیس سالہ حامد نے اعتراف کیا کہ القاعدہ کے تربیتی مرکز میں صدر بش اور دوسرے امریکی رہنماؤں کی تصاویر نشانہ بازی کے ہدف کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ لوڈی کے علاقے سے دو اور پاکستانی نژاد امریکی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||